سڑک تعمیر ہوئی نہ بجلی نہ پانی …چکھڑی بن کی عوام سراپا احتجاج

منڈی//منڈی کے علاقہ چکھڑی بن کی عوام نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر منگل کو پلیرہ کے مقام پر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا ۔مظاہرین کے مطابق تحصیل صدر مقام سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع گائوں چکھڑی بن کوتحصیل کے ساتھ ملانے والی سڑک کا تعمیری کام 2007 میں شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ان کاکہناتھاکہ سڑک کے زد میں مقامی شخص کا رہائشی مکان آرہاہے جو اس کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لیکن انتظامیہ اس غریب شخص کو معاوضہ ادا نہیں کررہی جس وجہ سے کام رکاپڑاہے۔ان کاکہناتھاکہ اس حوالے سے ان کے وفد نے کئی دفعہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بھی ملاقات کرکے ان سے سڑک تعمیر کرانے کی اپیل کی لیکن صرف یقین دہانیاں دی گئیں اور عملی سطح پر کوئی کام نہیںہوا۔احتجاج کی وجہ سے لورن سڑک کئی گھنٹوں تک کیلئے آمدورفت کیلئے بند رہی۔
اس موقعہ پر محمد یاسین شاہ نے بتایاکہ محکمہ تعمیرات عامہ نے سڑک کی کھدائی پر کروڑوں روپے خرچ کر کے اسے پھر ادھورا چھوڑ دیاہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کو چاہئے کہ سڑک کی زد میں آنے مکان کے مالک کو معاوضہ ادا کرے لیکن ایسا نہیں کیاجارہا جس وجہ سے کام ہی ٹھپ پڑاہے ۔انہوں نے کہاکہ پنچایت چھکڑی بن میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بڑھ گیاہے اور محکمہ کوٹس سے مس نہیں۔ان کے مطابق محکمہ بجلی نے پنچایت میں 25 کے وی ٹرانسفارمر نصب کیا ہے جس پر 150 کنکشن چل رہے ہیں اور لوڈ ہوجانے سے ٹرانسفارمر ایک ماہ سے خراب ہے جسے باربار اپیل کئے جانے کے باوجود نہ ہی ٹھیک کیاگیا اور نہ ہی اس کی جگہ کوئی دوسرا ٹرانسفارمر نصب کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔مظاہرین کاکہناتھاکہ علاقے میں پانی کی سپلائی کا بھی کوئی بندوبست نہیں اور عورتوں کو کئی کلو میٹر دور سے پانی لاناپڑتاہے ۔بعد ازآں نائب تحصیلدار لورن اور محکمہ بجلی کے جے ای کی یقین دہانی پر یہ احتجاج ختم کیاگیا۔
ڈپٹی کمشنر راجوری نے