سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل، جا بجا تباہ| گذشتہ سال بچھایا گیا میکڈم اُکھڑ گیا

سرینگر //شہر ویہات میں کھنڈارت میں تبدیل ہوئی سڑکوں کی مرمت میں اس سال بھی تاخیر ہونے کا امکان ہے کیونکہ سڑکوں کیلئے سرکار کو بھیجا گیا 200کروڑکا پروجیکٹ فی الحال التوا میں پڑا ہے۔ شہر کی سڑکوں کی محکمہ تعمیرات عامہ سے میونسپل کارپوریشن میں منتقلی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان سڑکوں کی مرمت اس سال بھی وقت پر نہیں ہو گی اور ناقص منصوبہ بندی کے سبب سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو نگی ۔معلوم رہے کہ حال ہی میں جموں وکشمیر سرکارنے شہر کی قریب 1417کلو میٹر سڑکیں میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں دی ہیں، جن کی منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے ۔محکمہ تعمیرات عامہ کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ سال 2020کے دوران700 کلو میٹر سڑکوں پر تارکول بچھایا گیا ۔لیکن آجکل وادی کی سڑکوں کی جو ابترصورتحال دکھائی دیتی ہے اس سے ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ پچھلے 10سالوں تک بھی انکی کوئی مرمت کی گئی ہو۔ محکمہ تعمیرات عاملہ کے پاس سڑکوں پر تارکول بچھانے اور انہیں کشادہ کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ سردیوں میں ڈالا جانے والا تارکول دسمبر یا جنوری میں ہی اکھڑ جاتا ہے اور مارچ میں جب بارشوں کا موسم شروع ہوجاتا ہے تو سڑکیں تباہ حالی کی صورت پیش کرتی ہیں۔
پچھلے دو برسوں کے دوران وادی میں سڑکوں کی مرمت یا ان پر میکڈم بچھانے کا بہت کم کام کیا گیا۔محکمہ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ مشکل سے 15فیصد کام ہوا ہے حالانکہ اس سے قبل کے برسوں میں وادی کی سڑکوں کی مرمت اور میکڈم بچھانے کیلئے باضابطہ طور پر سالانہ پلان میں فنڈس مختص رکھے جاتے تھے اور لازمی طور پر ان فنڈس کو خرچ کرنا پڑتا تھا۔ میکڈم بچھانے کے لئے سرکاری طور پر جو قواعد و جوابط رکھے گئے ہیں انکے مطابق جون سے قبل میکڈم بچھانے  کی اجازت نہیں ہے اور 15اکتوبر کو میکڈم بچھانے کا عمل مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔15
اکتوبر کے بعد میکڈم نہیں بچھایا جاسکتا ہے۔لیکن دو برسوں میں گرمیوں کے دنوں میں میکڈم نہیں بچھایا جاسکا جس کی وجہ سے ستمبر اکتوبر میں یہ کام انجام دیا گیا جو جلد ہی اکھڑ گیا۔ محکمہ تعمیرات عامہ نے وادی میں گذشتہ سال سڑکوں اور دیگر تعمیراتی پرجیکٹوں کیلئے2جون 2020تک کورونا ایس او پیز کے مطابق 574کام کرنے تھے جس میں سے 384کاموں کو منظوری ملی۔ ان میں247کام شروع کئے گئے تھے اور اس کیلئے 1404مزدوروں کو کام پر لگایا گیا تھا ،ان کاموں میں بہت سے سڑکیں بھی شامل تھیں لیکن سڑکوں پر کام جوں کا توں ہے اور اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔محکمہ کے چیف انجینئر شوکت جیلانی پنڈت یہ کہہ کر پلو جھاڑ رہے ہیں کہ اب شہر کی سڑکیں ان کی زیر نگرانی نہیں ہیں بلکہ ان کی دیکھ ریکھ کا کام سرینگر میونسپل حکام کے زمہ ہے، تاہم وادی کی سڑکوں کی مرمت کے حوالے سے انہوں نے رواں سال200کروڑ کا منصوبہ سرکار کو بھیجا ہے اور اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اس میں سے کتنا پیسہ انہیں ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال انہوں نے شہر سمیت وادی کی 7سو کلو میٹر سڑکوں پر تارکول بچھایا۔ فی الوقت شہرو مضافات اور دیہات و قصبہ جات میں میکڈم اْکھڑ جانے اور جگہ جگہ کھڈے بننے کی وجہ سے جابجا سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں ،سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ حادثات کے خطرات رہتے ہیں۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے سال بھی محکمہ نے بہت سی سڑکوں پر تارکول بچھانے کا کام اکتوبر کے آخر اور نومبر کے مہینے میں بھی کیا تھا جس میں ناقص میٹریل کا استعمال کیا گیا جس سے یہ سڑکیں دوبارہ کھنڈرات بن گئیں ۔ شہر کی سڑکوں کے حوالے سے میونسپل کمشنر سرینگر عامر اطہر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ آر اینڈ بی سے میونسپل حکام کو سڑکیں منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور جیسے ہی ان سڑکوں کی منتقلی کا کام مکمل ہو جائے گا  سڑکوں کی دیکھ ریکھ کا کام اُن کے ذمہ آجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ 1417کلو میٹر کی364 سڑکیں میونسپل حکام کے ذمہ آرہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ابھی بجٹ اور فنڈس کے حوالے سے منصوبہ بندی ہو رہی ہے کہ کیسے ان سڑکوں پر کام کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یہ کام جلد مکمل ہو ۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ترجیح بنیادوں پر سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا ۔