سڑکیں بند ہونے کاشاخسانہ،وادی کے سرحدی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال

سرینگر //حالیہ برف باری کے بعد وادی کے سرحدی علاقوں میں  بیکن حکام سڑک رابطوں کو بحال کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور مسلسل ایک ماہ سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے متعدد علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور مرغ،دالیں ،سبزیاں تودور کی بات ،ان علاقوں میں لوگوں کو نمک اور ماچس کی ڈبیا تک دستیاب نہیں ہے ۔وادی کے سرحدی علاقوں گریز،کرناہ،کیرن،مژھل،بڈنمبل اور جمہ گنڈ کی سڑکیں مسلسل ایک ماہ سے بند پڑی ہیں اور ان علاقوں کے لوگوں نے اگرچہ بیکن حکام سے کئی بار اپیل کی کہ  ان سڑکوں پر سے برف ہٹانے کا کام ہاتھ میں لیاجائے لیکن بیکن کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ سڑکیں ابھی بھی برف سے ڈھکی ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سڑکیں مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں ان علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی زبردست قلت پیدا ہوگئی ہے ،جبکہ متعدد علاقوں میں رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کی قلت کی وجہ سے کئی گھرانوں میں چولہے بھی نہیں جل رہے ہیں ۔کرناہ کپوارہ سڑک کو پچھلے ایک ماہ کے دوران صرف دو بار گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بحال کیاگیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگرچہ کرناہ کے کئی مریضوں اوردرماندہ مسافروں کو ہوائی جہاز کے ذریعے سرینگر لایا گیا اور سرینگر سے بھی کئی لوگوں کو کرناہ پہنچایا گیالیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی وادی میں دردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ۔ادھر گریز سے آٗے ہوئے لوگوں نے بتایا کہ علاقے کا رابطہ ضلع صدر مقام بانڈی پورہ سے کٹا ہوا ہے اور سڑک بند ہونے کے نتیجے میں وہاں قحط جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ کے کئی بیماروں کو سرینگر نہیں پہنچایا جاسکا۔اُدھر شمالی کشمیر کے کیرن ، مژھل ، بڈنمل اور جمگنڈ علاقے مسلسل ایک ماہ سے برف سے ڈھکے ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کی دکانوں پر مرغ ،انڈے ، دالیں ، سبزیاں اور پھیل تو دور کی بات نمک اور ماچس کی ڈبی تک لوگوں کو دستیاب نہیں ہوتی اور علاقے کے لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو گئے ہیں ۔کیرن کے عبدالقوم نامی ایک شہری نے بتایا کہ ہیلتھ سنٹروں پر بھی ادویات نایاب ہیں جبکہ عملہ تو سرے سے ہی کیرن میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار بیکن حکام سے استداعا کی کہ سڑک کو بحال کر کے لوگوں کی مشکلات کا ازلہ کیا جائے لیکن بیکن سڑک کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتی اور لوگوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے ۔ان سرحدی علاقوں کے لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ اُن کے سڑک رابطوں کو کھول کر اُن کی مشکلات کا زالہ کیا جائے ۔