سڑکوں پر جمی برف سے حادثات

سرینگر//3جنوری کے بعدپہلی برفباری اور درجہ حرات نقطہ انجماد سے نیچے ریکارڈ ہونے کے بعد سڑکوں پر لگے پالے اور جمی برف سے صبح کے وقت عبور و مرور میں دقتیں پیش آنے اور پھسلن کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں 409افراد زخمی ہوئے ، جنہیں برزلہ میں قائم بون اینڈ جوائنٹ اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ ڈپٹی میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر احمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ جنوری میں 409افراد مختلف حادثات میں ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ان میں پیدل چلنے کے دوران پھسلن سے گرنے ،برف سے دیواریں گرنے اور پھسلن سے گاڑیوں کو پیش آئے حادثات میں زخمی ہونے والے شامل ہیں‘‘۔جی وی سی بمنہ میں ہڈیو ںکے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر نصیر احمد میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ کورونا سے قبل دن میں 500سے 600مریضوں کا علاج ہوتا تھا لیکن 10ماہ اسپتال بند رہنے کے بعد ابھی  اسپتال دوبارہ کھل گیا ہے‘‘۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شفا دیوا نے بتایا ’’ اسپتال نے12جنوری سے معمول کا کام کاج شروع کیا ہے اور ہڈیوں کے شعبہ میں ابھی 50سے 100مریض واپس آرہے ہیں ‘‘۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ8اسپتالوں کو 31دسمبر کو معمول کا کام کاج بحال کرنے کی اجازت دی گئی لیکن اسپتالوں میں مشینری، وارڈوں اور دیگر سامان کی sanitization کے بعد 15جنوری کے بعد ہی معمول کے مطابق کام کاج شروع کیا ہے۔