سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر چھاپڑی فروش پھر قابض

سرینگر//شہر سرینگر کے مصروف ترین تجارتی مراکز لالچوک اور بٹہ مالو میں بے ہنگم ٹریفک میں تشویشناک اضافہ ہورہا ہے جسکے نتیجے میں پیدل چلنے والوں کیساتھ ساتھ ٹرانسپورٹروں کو تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑرہا ہے۔ شہر کے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، امیرا کدل، مہاراج بازار کے علاوہ ایل ڈی روڑ ،بٹہ مالو اوردیگر علاقوں میںپر ناجائز طریقے سے چھاپڑی فروشوںنے اپنا قبضہ جمایا ہے اور انہوں نے اپنے موبائل شاپوں کو سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا کیا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں کیساتھ ساتھ راہ گیروں کو ہر وقت انتہائی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر سرینگر کی سڑکوں کے دونوں اطراف پر چھاپڑی فروشوں کی جانب سے ناجائز قبضے کی وجہ سے سرینگر کے مختلف بازاروں میں دن بھر زبردست ٹریفک جام دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصروف ترین بازاروںکے علاوہ بٹہ مالو سے سے لیکر قمر واری مارکیٹ تک سرینگر ایچ ایم ٹی روڑ پر ناجائز چھاپڑی فروشوں نے سڑک کے بیچوں بیچ اپنی چھوٹی چھوٹی دکانیں قائم کی ہیں جبکہ بٹہ مالو بس اسٹینڈ کے بالکل متصل مین سڑک پر چھاپڑی فروشوں نے اسقدر جال بچھادیا ہے کہ سرینگر بارہمولہ شاہراہ نے بٹہ مالو کے مقام پر بالکل ایک کوچے کی شکل اختیار کی ہے جس کی وجہ سے دن بھر وہاں پر زبردست ٹریفک جام دیکھنے کو ملتا ہے اور بٹہ مالو سے جہانگیر چوک تک کا سفر مسافروں کیلئے سوہان روح بن چکا ہے۔ مذکورہ بازاروں سے گزرنے والے کئی افراد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جس طرح چھاپڑی فروشوں نے شہر سرینگر کے اہم اور مصروف ترین بازاروں پر ناجائز قبضہ جمالیا ہے اب انہیں وہاںسے نکالنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا حالانکہ کئی ماہ قبل پولیس اور مونسپل اہلکاروں نے شہر سرینگر کے لالچوک کیساتھ ساتھ دیگر اہم اور مصروف ترین بازاروں سے چھاپڑی فروشوں کو سڑکوں کے کناروں پر سٹال لگانے پر پابندی عائد کی تھی اور 2 ماہ تک امیرا کدل ، لالچوک اور دیگر اہم مقامات پر انہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن بعد میں حیرت انگیز طور پر انہیں دوبارہ بیٹھنے کی اجازت دی گئی اور لوگوں کی مجبوریوں اور پریشانیوں کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا ۔کئی شہریوں نے میونسپل کارپوریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا چھاپڑی فروشوں نے شہر سرینگر کے اہم بازاروں کی سڑکوں پر ناجائز قبضہ لیا ہے جسکی وجہ سے دن بھر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔لوگوں نے مزید بتایا کہ اگر یقینی طور پر حکومت شہر سرینگر کے مختلف بازاروں میں ٹریفک جام کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے تو اس کیلئے یہ لازمی ہے کہ رابطہ سڑکوں اور پٹریوں سے چھاپڑی فروشوں کو ہر حالت میں اٹھانا ہوگا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانی ہوگی تب ہی شہر سرینگر میں لوگوں کو ٹریفک جام سے نجات مل سکتی ہے۔ ادھرنیو بس اسٹینڈپارم پورہ سے لاچوک تک بے ہنگم ٹریفک جام عام مسافروں،راہگیروں،ملازمین ومزدوروںاورطلبہ و بیماروں کیلئے سُوہان روح بنا ہواہے جبکہ ٹریفک جام کے نتیجے میں معمول کی عوامی اورکاروباری سرگرمیاں بھی بُری طرح سے اثراندازہورہی ہیں جبکہ اس معاملہ کاتشو یشناک پہلو یہ ہے کہ پارم پورہ سے لاچوک تک ایک مسافروں کو کم سے کم ایک گھنٹے کا وقت لگتا ہے ۔