سڑکوں اورعمارتوں کی تعمیر کیلئے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی ضرورت: شرما

سرینگر//گورنر کے مشیر کے کے شرما نے ریاست میں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ مشیر نے ان محکموں کی طرف سے ہاتھ میں لئے گئے تمام پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے کام میں سرعت لانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ مشیر نے ان باتوں کا اظہار متعلقہ محکموں کے کام کاج کا جائیزہ لینے کی غرض سے منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں محدود ورکنگ سیزن کے تناظر میں تمام پروجیکٹوں کو وقت پر مکمل کیا جانا چاہئیے تا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ کاموں کے معیار کو برقرار رکھا جانا چاہئیے اور موسمِ سرما کے دوران تباہ ہوئی سڑکوں کے بہتر رکھ رکھاؤ کو یقینی بنایا جانا چاہئیے ۔ چیف انجینئر آر اینڈ بی کشمیر سمی عارف یسوی نے اس موقعہ پر پرتوجیکٹوں کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ 2018-19 کے دوران محکمہ نے 14628 کلو میٹر سڑکوں کا رکھ رکھاؤ کیا اس کے علاوہ 1186 کلو میٹر سڑکوں پر تار کول بچھایا اور 85 پُل بھی تعمیر کئے گئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر انتظامیہ نے 221 التوا میں پڑٹے پروجیکٹوں کو منظوری دی ۔ چیف انجینئر نے ہاتھ میں لئے گئے کئی دیگر اہم پروجیکٹوں کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔ مشیر کو بٹہ مالو سرینگر میں تعمیر ہو رہے منی سیکرٹریٹ کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ۔ دریں اثنا مشیر نے کشمیر وادی میں پی ایچ ای اینڈ آئی ایف سی سیکٹر کے تحت ہاتھ میں لئے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا ۔ انہوں نے ان پروجیکٹوں میں سرعت لانے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے ۔ چیف انجینئر پی ایچ ای عبدالواحد نے پروجیکٹوں کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ التوا میں پڑی 314 واٹر سپلائی سکیمیں 580 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تکمیل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 80 سکیمیں مارچ 2019 تک مکمل کی جائیں گی جن پر 125 کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے ۔ ایک اور میٹنگ میں مشیر نے پی ایم جی ایس وائی پروجیکٹوں کی پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا ۔ چیف انجینئر پی ایم جی ایس وائی شوکت جیلانی پنڈت نے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی نے 5750 کلو میٹر سڑکیں تعمیر کرنے کیلئے 1399 سکیمیں شروع کی ہیں جن میں سے 3542 کلو میٹر لمبی سڑکیں 847 سکیموں کے تحت تعمیر کی گئیں ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ کئی ایک پروجیکٹ محکمہ جنگلات کی منظوری تاخیر سے ملنے کی وجہ سے التوا میں رہ جاتے ہیں۔ مشیر نے چیف انجینئر پی ایم جی ایس وائی کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ سڑکوں کی تعمیر میں اعلیٰ معیار کو ہر سطح پر برقرار رکھیں ۔ دریں اثنا جموں کشمیر کنٹریکٹرس کوارڈینیشن کمیٹی کے ایک وفد نے بھی مشیر کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مطالبات اُن کی نوٹس میں لائے ۔ وفد نے مشیر کو بتایا کہ 2014 کے سیلاب کے دوران انہیں کافی نقصانات سے دو چار ہونا پڑا جس کی بھرپائی کی جانی چاہئیے ۔ مشیر نے انہیں یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا ۔