سپیکر کی یقین دہانی کے باوجود

جموں//کنٹریکچول لیکچراروں(10+2) کی طرف سے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال جمعہ کو 54 ویں روزبھی جاری رہی ۔کنٹریکچول لیکچرار نمائش گرائونڈ کے باہربھوک ہڑتال پربیٹھ کراحتجاج کررہے تھے ۔اس دوران سراپااحتجاج عارضی لیکچرار خدمات کی مستقلی خصوصی قانون 2010 کے تحت کرنے کامطالبہ کررہے تھے۔اس قانون کے تحت سات سال مکمل کرچکے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے کہاگیاہے۔10+2 کنٹریکچول لیکچرارز فورم کے صدر ارون بخشی نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت کے آرڈر نمبر 1584 edu آف 2003 اور آرڈر نمبر 1328 آف جی ا ے ڈی کے تحت تعینات کئے گئے عارضی لیکچراروں کی خدمات نیاحکمنامہ جاری ہونے تک جاری رکھی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔مظاہرین نے کہاکہ یہ کیسی حکومت ہے جوایک طرف عالمی یوم خواتین منانے کیلئے تقاریب کااہتمام کرتی ہے اورساتھ ہی بیٹی۔بچائو۔بیٹی پڑھائو سکیم کے تحت لڑکیوں کی ترقی کے دعوے کرتی ہیں لیکن دوسری طرف لڑکیوں کواپنے حقوق کیلئے سڑکوں پرآکر احتجاج کرنے پرمجبورکیاجارہاہے۔ارون بخشی اورلیکچرارفورم کے دیگرعہدیداران نے کہاکہ ہمارے کچھ ساتھی گذشتہ 14 فروری سے فاسٹ ان ٹو ڈیتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھاہوا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ کنٹریکچول لیکچراروں کی خبرگیر ی کرنے نہیں آیاہے جوکہ باعث تشویش بات ہے۔ مقررین نے کہاکہ گذشتہ روزریاستی اسمبلی کے سپیکر کویندرگپتانے یہاں آکریقین دہانی کرائی تھی لیکن ہم اس وقت احتجاج نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمیں مستقل نہیں کرلیاجاتا۔