سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا:عمر عبداللہ حکومت نیشنل کانفرنس کو دبانے کیلئے سرگرم،رفیع آباد میں پارٹی کنونشن

فیاض بخاری

بارہمولہ//دفعہ370پر سپریم کورٹ فیصلے سے قبل ہی نیشنل کانفرنس لیڈران اور عہدیداران کی تنگ طلبی اور ہراسانی کیخلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’ہماری تنظیم نے ہر لحاظ سے قربانیاں دیں ہیں، لیکن آج یہاں ایسی حکومت ہے جس کی مکمل طور پر یہی کوشش رہتی ہے کہ نیشنل کانفرنس کی آواز کو کیسے دبایا جائے اور نیشنل کانفرنس کے لیڈران کو کیسے بند کیا جائے‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر علیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 370 پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق کوئی بھی شخص پیشگوئی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ آنے کے بعد آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔موصوف اتوار کو چھجہامہ رفیع آباد میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370 کی تنسیخ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے منفی فیصلے کے باوجود ان کی پارٹی جموں و کشمیر کے امن کو خراب نہیں کرے گی ۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی آئین میں درج پرامن ذرائع سے خطے کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کیلئے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا’’ ہمیں اس دن کا بے صبری سے انتظار تھا سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ دینا ہے۔ اگر ہم نے حالات کو بگاڑنا ہوتا تو 2019 کے بعد کر لیتے تاہم ہم نے اس وقت بھی کہا تھا اور اب اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہماری لڑائی پرامن اور آئین کے مطابق ہو گی، اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون کا سہارا لیں گے۔ ہماری شناخت کو بچانا‘‘۔انہوں نے مزیدکہا کہ مرکز نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا اور سابق ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا ۔کیا جمہوریت میں ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں؟ کیا ہم جمہوریت میں اعتراض نہیں اٹھا سکتے؟ اگر دوسرے بات کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ عمر عبداللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ آپ کو کیسے معلوم کہ فیصلہ کیا ہے؟ ہو سکتا ہے یہ ہمارے حق میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ’ ہماری پارٹی کے ساتھیوں کو تھانوں میں بلانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر یہ یا وہ نہ لکھیں۔ کیا یہ دھمکیاں صرف این سی کیلئے ہیں؟ مجھے بتائیں کہ کیا آپ نے کسی بی جے پی لیڈر کو (پولیس اسٹیشن) بلایا ہے؟ اگر فیصلہ ان (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے خلاف آتا ہے، اگر وہ فیس بک پر اس کے خلاف لکھنا شروع کر دیں تو آپ کیا کریں گے؟ عبداللہ نے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ این سی قائدین پر قدغن لگانے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ امن کے حامی رہے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا’’ہم نے کبھی بھی نوجوانوں سے پتھر پھینکنے کو نہیں کہادرحقیقت (این سی صدر) فاروق عبداللہ نے لوگوں سے کہا کہ اگر وہ انہیں پسند نہیں کرتے تو وہ چیف منسٹر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کو تیار ہیں لیکن یہاں بندوقیں نہیں لانا چاہتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی سب سے بڑی پارٹی ہے کوئی بھی جموں و کشمیر میں امن کو خراب نہیں کرنا چاہتا۔ عبداللہ نے کہا کہ این سی نے انصاف کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہیاور ہمیں انصاف ملنے کی امید ہے ۔