سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوگا:بھاجپا

سرینگر //بی جے پی نے آرٹیکل 35 اےپرکہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جو بھی فیصلہ آئے گا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو قابل قبول ہوگا اور دیگر جماعتوں کو بھی اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی معاملے کو مؤخر کرنے کے حق میں نہیں ہے لہٰذا سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ صادر کرتی ہے وہ پارٹی کو قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے کیوں انتظار کیا، دو سال تک کیوں اقتدار کے مزے لوٹتی رہیں۔کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے آرٹیکل 35Aپر کہا کہ معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا وہاں سے جو بھی فیصلہ آتا ہے بی جے پی اسے قبول کرے گی۔ اشوک کول نے بتایا کہ اگر کانگریس اس معاملے کو لے کر سڑکوں پر احتجاج کرے گی، جیل بھرو تحریک شروع کرے گی، بھوک ہڑتال شروع کرے گی تو اس سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کانگریس کو ملک کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ کا احترام نہیں ہے۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ سے جو بھی فیصلہ سامنے آئے گا وہ ہمیں قبول ہوگا ۔ پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حالیہ تقریر پر اشوک کول نے بتایا کہ اگر انہیں( محبوبہ مفتی) کو پہلے ہی محسوس ہوا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد زہر پینے کے برابر ہے تو انہوں نے 2سال تک اقتدار کے مزے کیوں لوٹے؟ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی صدر اقتدار میں رہتے ہوئے نریندر مودی، نتن گڑکری، راجناتھ سنگھ جیسے لیڈران کو محبت برے الفاظ سے یاد کیا کرتی رہی لیکن اقتدار سے بے دخلی کے بعد انہوں نے نئی لکیر کھینچنی شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ محبوبہ مفتی کذب بیانی سے کام لے رہی ہے۔