سپریم کورٹ میں9ججوں کی تقرری کی سفارش منظور

نئی دہلی// سپریم کورٹ میں تین خواتین سمیت نو نئے ججوں کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کالجیم کی سفارش کو مرکزی حکومت نے منظوری دے دی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ کالجیم کی سفارش پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے اپنی مہرثبت کردی ہے ۔ اس حوالے سے باضابطہ ایک نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔سپریم کورٹ کے نئے ججوں میں جسٹس بی وی ناگرتنا ، جسٹس بیلا ایم ترویدی ، جسٹس ہما کوہلی ، جسٹس سی ٹی روی کمار ، جسٹس ایم ایم سندریش اور سینئر ایڈووکیٹ اور سابق ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل پی ایس نرسمہا شامل ہیں۔ جسٹس ناگرتنا کے ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس ( سی جی آئی) بننے کے امکان ہیں۔ ان کے علاوہ جسٹس ابھے شری نواس اوکا ، جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس جتیندر کمار مہیشوری بھی سپریم کورٹ میں مقرر کئے گئے ججوں میں شامل ہیں۔ادھرتلنگانہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیماکوہلی کی سپریم کورٹ کی جج بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے نئے ججس کو مقررکرنے کے سلسلہ میں کالیجیم کی جانب سے جن ناموں کی سفارش کی گئی تھی ان کو مرکز نے منظوری دے دی ہے ۔اس فہرست میں تین خاتون ججس شامل ہیں۔ہیماکوہلی 7 جنوری 2021کو تلنگانہ ہائیکورٹ کی چیف جسٹس بنائی گئی تھیں۔ان کوتلنگانہ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔انہوں نے تقریبا ساڑھے سات ماہ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ کے طورپر خدمات انجام دی تھیں۔جسٹس کوہلی تین سال تک سپریم کورٹ کی جج رہیں گی کیونکہ عدالت عظمی میں سبکدوشی کی حدعمر 62برس ہے جبکہ ہائی کورٹ کے جج کی سبکدوشی کی عمر 62برس ہے ۔