سپریم کورٹ میں سماعت سے10روز قبل،۔35اےکی کشمیر فائل غائب

نئی دہلی // مرکزی وزارت داخلہ کی چار دیواریوں سے کشمیر فائل،جس میں بھارتی آئین میں35Aکو داخل کرنے کا جواز تحریری ثبوت کے طور پر موجود تھا، پر اسرار طور پر غائب ہوگئی ہے۔یہ نئی پیش رفت سپریم کورٹ میں اس معاملے پر اہم ترین سماعت سے ایک ہفتہ قبل پیش آئی ہے۔مرکزی وزارت داخلہ نے اہم ترین فائل گم ہوجانے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ حیران کن وضاحت پیش کی ہے کہ ممکنہ طور2015کی سوچھ بھارت مہم کے دوران غیرضروری کاغذات اورفائلیں ضائع کئے جانے کے دوران آرٹیکل35-Aسے متعلق اسوقت کے اٹارنی جنرل کی متعلقہ صدارتی حکمنامہ سے متعلق قانونی رائے پرمبنی فائل بھی ضائع کردی گئی ہے۔خیال رہے رواں ماہ 29تاریخ کوعدالت عظمیٰ کاایک خصوصی بینچ ایک عرضی کی بنیادپرآرٹیکل35-Aکاحساس معاملہ زیرسماعت لارہاہے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے موجودہ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سپریم کورٹ میں ممکنہ طور بیان حلفی دائرکرنے والے ہیں۔جموں وکشمیرکے پشتینی باشندوں کوحاصل خصوصی پوزیشن وتحفظ سے متعلق63سال پرانے صدارتی حکمنامہ یعنی آرٹیکل35-Aکے تحفظ کے راستے میں اسوقت اَڑچن پیداہوتی نظرآرہی ہے جب اسبات کاانکشاف ہواکہ آرٹیکل35-A کی فائل یعنی تحریری ثبوت اوراسوقت کے مرکزی اٹارنی جنرل کی قانونی رائے پرمبنی دستاویزکہیں گُم یا غائب ہوگئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آرٹیکل 35-A سے متعلق قانونی رائے پر مبنی دستاویز مرکزی حکومت کے سخت سیکورٹی حصار والے نارتھ بلاک سے گم ہوگئی ہے ۔ رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 1954 میں طے پائے گئے آرٹیکل 35-A سے متعلق ریکارڈ کی چھان بین کے دوران پایا گیا کہ اس سے متعلق کوئی بھی فائل یا ریکارڈ مرکزی وزارت داخلہ کے کسی دفتر میں موجود نہیں ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ ملازمین آرٹیکل 35-A کی فائل ڈھونڈنے میں لگے ہیں لیکن ابھی تک انہیں اس حوالے سے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ رپورٹ میں مذکورہ مرکزی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک میں جب 22 سے 26 جون 2015 کے دوران سوچھ بھارت مہم چلائی گئی تو اس دوران مرکزی سرکار کے مختلف محکموں کے دفاتر میں موجود پرانے ریکارڈ کو بھی ضائع کیا گیا اور غالباً اسی دوران آرٹیکل 35-A کی فائل اور اس سے متعلق دیگر دستاویزات کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے ۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ہے کہ متعلقہ افسر کوشش کر رہے ہیں کہ مذکورہ فائل کا سراغ لگ سکے لیکن ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ اس دوران رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 29 اگست 2017 کو چونکہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں آرٹیکل 35-A کے خلاف دائر عرضی کی سماعت ہورہی ہے اور ریاستی سرکار کے ساتھ ساتھ مرکز کو بھی عدالت عظمیٰ میں اپنا جواب دائر کرنا ہے تو ایسے میں آرٹیکل 35-Aسے متعلق فائل اور ریکارڈ کا گم ہوجانا  باعث تشویش ہے  ۔ اُدھر مرکزی وزارت داخلہ کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں جواب دائر کرنے کے سلسلے میں اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے جب مرکزی وزارت داخلہ سے آرٹیکل 35-A سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تو اسی وقت یہ بات سامنے آئی کہ اس کا کوئی ریکارڈ یہاں موجود نہیں ہے ۔