سپرانٹنڈنگ انجینئروں کے اختیار صرفہ میں50لاکھ سے 1کروڑ تک اضافہ

سرینگر//اِنتظامیہ میں شفافیت اور صلاحیت میں بہتری لانے کے نظام کوجاری رکھتے ہوئے تعمیرات ِعامہ اور تمدن کے وزیر نعیم اختر نے کہا ’’ بُک آف فائنانشل پاورس ‘‘ کی حالیہ ترامیم کی بدولت ریاست میں ترقیاتی پروجیکٹوں کی عمل آوری میں تیزی لانے کے سلسلے میں افسران کومزید بااختیار بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم انتظامیہ میںنہ صرف جواب دہی اور شفافیت لانے میں کار آمد ثابت ہوں گی بلکہ افسروں کو ترقیاتی پروجیکٹوں کو عملانے کیلئے بااختیار بھی بنایا جائے گا۔ایک سرکاری حکمنامے کے مطابق بُک آف فائنانشل پاورس میں ترامیم کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جن کے تحت سپر انٹنڈنگ انجینئر سطح کے آفیسر کا موجودہ 50لاکھ روپے سے ایککروڑ روپے تک رقومات کوتصرف کرنے کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ اسی طرح ایگزیکٹیو انجینئر جسے اس وقت 10لاکھ روپے کے رقومات خرچ کرنے کا اختیار ہے کو 40لاکھ روپے تک خرچ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر کے رقومات کی حد 50ہزار سے ایک لاکھ روپے تک بڑھا دی گئی ہے ۔’’ ایکارڈ کا ایڈمنسٹریٹیو اپروول ‘‘کے تحت ایک چیف انجینئر سطح کے افسر کی رقومات کی حد 4کروڑ روپے سے 10کروڑ روپے تک بڑھا دی گئی۔اسی طرح ’’ ایوارڈ آف کنٹریکٹس ‘‘ کے تحت ڈیپارٹمنٹل کنٹریکٹ کمیٹی کی حد 20کروڑ روپے سے 40کروڑ روپے تک بڑھا دی گئی ہے ۔