سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

پرلمز اور مینز کے بعد سب سے آخری مرحلہ انٹرویو کا ہوتا ہے۔اسے Personality Testبھی کہا جاتا ہے۔ مینز میں میرٹ کے لیے گنے جانے والے پرچوں میں فی پرچے کے 250 نمبرات ہوتے ہیں لیکن اس کے برعکس انٹرویو کے 275 نمبرات ہوتے ہیں۔ اس سے قبل کہ اس حوالے سے مزید خامہ فرسائی کی جائے، ہم پہلے یہ جانتے ہیں کہ یوپی ایس سی کا اس حوالے سے کیا کہنا ہے:
  The candidate will be interviewed by a board who will have before them a record of his career.He will be asked questions on matters of general interest.The object of the interview is to assess the personal suitability of the candiadate for a career in public service by a board of competent and unbiased observers.The test is intended to judge the mental caliber of a candidate.In broad terms, this is really an assessment of not only his/her intellectual qualities but also social traits and his/her interest in current affairs. Some of the qualities to be judged are mental alertness, critical powers of assimilation, clear and logical Exposition, balance of judgment, variety and depth of interest, ability for social cohesion and leadership, intellectual and moral integrity. 
2.The technique of the interview is not that of a strict cross-examination but of a natural, though directed and purposive conversation which is intended to reveal the mental qualities of the candidate.
3.The interview test is not intended to be a test either of the specialised or general knowledge of the candidates which has been already tested through their written papers. Candidates are expected to have taken an intelligent interest not only in their special subjects of academic study but also in the events which are happening around them both within and outside their own state or country as well as in modern currents of thought and in new discoveries which should arouse the curiosity of well-educated youth.
اس تفصیل سے طلباء کے اذہان میں تذبذب کے بادل چھٹنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ ایک مرتبہ پھر اگر توجہ دی جائے تو بہت ساری چیزیں واضح ہوجاتی ہیں مثلاً سب سے پہلے ہی یہ بات کہی گئی ہے کہ 'انٹرویو بورڈ کے سامنے طالب علم کا تعلیمی ریکارڈ ہوگا'۔ تفصیل میں جانے پر آپ کو پتہ چلے گا کہ جب ایک طالب علم پرلمز میں کامیاب قرار پاتا ہے تو اُس کے بعد اسے ایک فارم بھرنا پڑتا ہے جسےDAF یعنی Detailed Application Form  کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں طالب علم کو ذاتی معلومات کے علاوہ اپنی تعلیم کے حوالے سے بھی لکھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ طلاب کو اپنے شوق (Hobbies) بھی اس میں درج کرنے پڑتے ہیں۔ آپ کا  یہ DAF انٹرویو کے دوران بورڈ ممبران کے پاس بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ نے اس فارم میں جو بھی معلومات درج کی ہے، اُن سے متعلق تیاری کریں۔ جیسے آپ نے ’’فٹ بال‘‘ کو اپنا شوق قرار دیا ہے تو اُس حوالے سے باخبر رہیں مثلاً اس کھیل کے اصول و ضوابط کیا ہیں،یا اس کی تاریخ کیا ہے،یا پھر اس میدان میں کن کن کھلاڑیوں کا نام سب سے نمایاں ہے۔اسی طرح اگر آپ نے کتب بینی کو اپنا شوق گردانا ہے تو اُس حوالے سے تیاری کریں ،ممکن ہے کہ وہ آپ کے پسندیدہ مصنفین کے بارے میں سوالات پوچھیں اور پسندیدگی کی وجہ یا وہ یوں بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آپ نے فلاں کتاب پڑھی ہے یا نہیں یا فلاں مصنف کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ اسی طرح اس فارم میں آپ اپنے ضلع یا ریاست کے بارے میں لکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ اُس بارے میں بھی پوچھیں۔ کوئی طالب علم اگر پنجاب سے ہے تو چونکہ آجکل پنجاب کے کسان سرکار کی تین زرعی بلوں کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں، ممکن ہے کہ اس حوالے سے آپ سے سوال کیا جائے کہ کسانوں کے احتجاج پر آپ کا کیا موقف ہے یا کسان بلوں پر آپ کی کیا رائے ہے؟ یہاں بھی آپ کو توازن (Balance) کا خیال رکھنا ہے یعنی نا تو سرکار یا کسانوں کی بے جا تنقید کرنی ہے اور نا ہی ان کے بے جا قصیدے پڑھنے ہیں۔ انٹرویو بورڈ کو جھوٹ بول کر بے وقوف بنانا الٹا آپ پر ہی بھاری پڑ سکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ DAFاس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں آپ کو اپنی ترجیحات بھی درج کرنی پڑتی ہیں کہ کامیاب ہونے کی صور ت میں آپ ملک کے کس حصے میں اپنی خدمات انجام دینا چاہیں گے یا آپ کی ترجیح کو ن سی سروس ہوگی جیسے آئی اے ایس،آئی پی ایس وغیرہ۔
یوپی ایس سی انٹرویو بورڈ آپ کو کھنگال کر دراصل آپ کی شخصیت کو دیکھنا چاہتا ہے۔ انٹرویو کے خدوخال چونکہ پہلے ہی واضح کیے گئے ہیں، اُن میں یہ بات بھی واضح طور پر لکھی گئی ہے کہ انٹرویو بورڈ یہ دیکھے گا کہ ایک طالب علم سول سروسز کیرئیر کے لیے اہل ہے یا نہیں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی ذہنی بیداری کو بھی جانچا جائے گا۔ اس بات کو آسان بنانے کے لیے یہاں میں ایک حقیقی مثال کا استعمال کرتا ہوں۔ یوپی ایس سی میں کامیاب ہونے والے انصار شیخ نامی ایک طالب علم سے انٹرویو میں یہ سوال پوچھا گیا کہ تم سنی مسلمان یو یا شیعہ مسلمان؟ تو بجائے اس کے کہ وہ خود کو سنی یا شیعہ قرار دیتے، اُنہوں نے بیدار ذہنی کا ثبوت دے کر کہا کہ میں ہندوستانی مسلمان ہوں۔ ذہنی بیداری کے ساتھ ساتھ ممکن ہے کہ بورڈ پر اچھا تاثر پڑا ہو کہ یہ طالب علم متعصب Baisedنہیں ہے اور سول سروسز کے کیرئیر میں اس سے ہر طبقے کے ساتھ برابر انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے۔ 
حالات حاضرہ کی اہمیت پرلمز اور مینز کے علاوہ یہاں بھی مسلم ہے۔ لہٰذا مینز میں کامیاب ہونے کے بعد اخبار کو خیر باد نہ کہیں بلکہ خود کو اہم مسائل سے با خبر رکھیں۔ اس حوالے سے آپ سے انٹرویو میں پوچھے جانے کا غالب امکان ہے اور بورڈ نے بھی اس حوالے سے واضح کردیا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں آپ نے پڑھا ہوگا ۔ اسی طرح پُر اعتماد (confident)ہونا بھی ضروری ہے۔اگر آپ کسی سوال کا جواب نہیں بھی جانتے تو مہذبانہ طریقے سے بورڈ سے معذرت کریں اور اُن سے کہیں کہ مجھے اس سوال کا جواب پتہ نہیں۔بورڈ سے کسی قسم کی چالاکی نا کریں کیونکہ اُس کے پکڑے جانے کا غالب امکان ہے۔گریجویشن یا ماسٹرس کے مضامین پر بھی دھیان دیں۔بالفرض آپ نے تاریخ میں آنرس کیا ہے تو اُس کے نصاب کی بھی تیاری کریں۔ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ زبان سے ’’پر اعتماد رہو‘‘ کہنا تو آسان ہے لیکن اسے عملی جامہ کیسے پہنایا جائے؟۔اس کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ اصل انٹرویو سے قبل مختلف اداروں میں لیے جانے والے (Mock Interviews) جوائن کریں۔وہاں آپ کو اصل انٹرویو سا ماحول ملے گا اور آپ پُر اعتماد بنیں گے۔ساتھ ہی ساتھ آپ کی غلطیوں کی بھی نشاندہی کی جائے گی ۔غلطیوں کی نشاندہی کے بعد آپ اصل انٹرویو میں اُنہیں نہیں دہرائیںگے اور اس طرح کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔تعمیر ِ شخصیت(Personality development)پر بھی اگر کسی کتاب کا انٹرویو سے قبل مطالعہ کیا جائے تو سونے پہ سہاگا۔اسی طرح مواصلاتی مہارت(Communication skills) پر بھی دھیان دے کیونکہ پرلمز اور مینز میں آپ کا قلم کام نپٹا لیتا تھا لیکن یہاں آپ کو قلم سے نہیں بلکہ اپنی زبان سے گفتگو کرنی ہے۔اس کے لیے آپ مختلف مثبت ٹی وی مباحثے دیکھ سکتے ہیں،میں نے مثبت اس لیے کہا کہ آجکل ٹی وی پر ایسے مباحثے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو مباحثے کم اور گالی گلوچ کے اڈے زیادہ لگتے ہیں۔کوئی طالب علم اگر قدرتی طور پر ہی ہکلاتا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ حواس باختہ (Nervous) نا ہو بلکہ پہلے ہی انٹرویو بورڈ کو آگاہ کرے کہ اُسے قدرتی طور پر ہی ہکلانے کا مسئلہ درپیش ہے ۔اُس سے بورڈ ممبران آپ کی’ مجبوری‘ کو آپ کی ’کمزوری ‘ نہیں سمجھیں گے۔اپنی طرف سے کوئی کسر نا چھوڑیں اور مالک ِ حقیقی پر توکل کریں۔ان شاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی )
رابطہ ۔برپورہ ،پلوامہ کشمیر
ای میل۔[email protected]
���������