سو بھاگیہ اسکیم کے تحت کھمبوں کی تقسیم کاری میں خرد برد کا الزام

تھنہ منڈی//ضلع راجوری میں مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی جارہی سوبھاگیہ اسکیم کے تحت کھمبوں کی تقسم کاری میں خرد برد کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ مہم کے دوران مستحق افراد کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے ۔ضلع راجوری میں سال 2018 میں مرکزی سرکار کی طرف سے سو بھاگیہ سکیم شروع کی گئی جس کا آغازنوشہرا، سندر بنی سے کیا گیا جبکہ بعد میں مذکورہ اسکیم کو مرحلہ وار طور پر ضلع کی دیگر تحصیلوں میں بھی شروع کیا گیا ۔ اس اسکیم کے تحت ایسے موہڑو ںمیں بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا جن میں اس سے قبل بجلی فراہم نہیں ہوئی۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی پرالزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کے ہیڈ کوارٹر سے کھمبوں کی تقسیم کاری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں ۔ تھنہ منڈی کی پنچائت ہسپلوٹ کے مغل موڑہ کے ایک مقامی شخص طالب حسین نے بتایا کہ محکمہ بجلی راجوری نے سیاسی سفارش کے بعدکھمبے فراہم کئے ہیں جبکہ مذکورہ کھمبوں کو علاقہ میں پہنچانے کیلئے ذاتی طورپر 36سو روپے کرایہ دیا گیا جبکہ ان کھمبوں کو نصب کرنے کیلئے مزدوری بھی نہیں دی گئی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ بجلی نے 14 سپین ترسیلی تار کے بجائے 4 سپین تار فراہم کی جبکہ دیگر سامان بھی ادھوراہے ۔ مقامی شخص نے کہا کہ علاقہ میں بجلی نہ ہوتے ہوئے بجلی کے ڈبل بل تقسیم کئے گئے جو سراسر نا انصافی ہے۔پنچائت کھنیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد اعظم نے کہا کہ بجلی کے کھمبے نہ ملنے کی وجہ سے بیشتر مقامات پر ترسیلی لائنیں سبز درختوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جبکہ محکمہ کے ملازمین ہر ماہ صارفین کو بجلی کے بل تقسیم کرنے کیلئے دیہی علا قوں کا رخ کرتے ہیں ۔ ادھر قصبہ تھنہ منڈی وارڈ نمبر 3 سے تعلق رکھنے والے غلام حسین نامی بزرگ شخص نے کہا کہ گورنر راج میں لا قانونیت ہے کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا ترسیلی تاریں سبز درختوں کے ساتھ لٹک رہی ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے اگر بجلی کی تاروں سے لگ کر کوئی حادثہ ہوتو اس کی پوری ذمہ داری متعلقہ محکمہ پر عائد ہو گی ۔محکمہ بجلی کے اسسٹنٹ ایگزکیٹو انجینئر سنیل شرما نے کہا کہ وہ اس معاملہ کی سنجیدگی کے ساتھ تحقیقات کریں گے۔ آفیسر موصوف نے کہاکہ مارچ مہینے کے بعد کسی کو بجلی کاکھمبے فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔