سوڈان میں1ہفتے کی جنگ بندی پر عمل درآمد شروع اب تک جھڑپوں میں863ہلاک ،3,531زخمی:سوڈان ڈاکٹرس یونین

 

یو این آئی

خرطوم//سعودی عرب اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (ایچ ڈی کے ) کے درمیان جدہ، سعودی عرب میں جنگ بندی کا معاہدے پر مقامی وقت کے مطابق پونے دس بجے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے ۔سوڈان میں ایک ہفتے کی جنگ بندی عمل میں آئی ہے ۔فریقین کے درمیان جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل دارالحکومت خرطوم کے مختلف اضلاع میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں ۔

 

جنگ بندی کے باوجود بعض علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔سوڈان ڈاکٹرز یونین نے اعلان کیا کہ 15 اپریل سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں 863 شہری ہلاک اور 3,531 زخمی ہوئے ہیں۔ فوج اور رپیڈ فروسز کے درمیان جنگ وقت شروع ہوئی جب فوج نے 2 سال کے اندر ایچ ڈی کے کو فوج میں مکمل انضمام کا مطالبہ کیا لیکن رپیڈ فورسز نے اسے اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا اور ایک آزاد اور متوازی فوج کی طرح برتاؤ کیا، جبکہ ایچ ڈی کے نے ایک سویلین حکومت کے بعد تقریباً 10 سال پر محیط اس عرصے میں اسے قبول کرنے کی حامی بھری تھی جس پر 15 اپریل کی صبح دارالحکومت خرطوم اور مختلف شہروں میں یہ کشیدگی فریقین کے درمیان مسلح تصادم میں بدل گئی۔

 

ایچ ڈی کے کو باغیوں کے خلاف لڑنے ، سرحدوں کی حفاظت اور دارفور میں نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے ایک ملیشیا کے ڈھانچے کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا، صدر عمر البشیر جسے 2019 میں ایک بغاوت میں معزول کر دیا گیا تھا کے بعدایچ دی کے مزید خود مختار ہوگئی اور اس کے اراکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔