سوپور میں ذہنی مریض کو زندہ جلانے کی کوشش

 سرینگر+سوپور //   ماز بُگ سوپور میں مشتعل لوگوں نے خواتین کی چوٹی کاٹنے کے شبہ میں دماغی طور معذورایک نوجوان کو شدید زدوکوب کے بعد زندہ جلانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے پتھرائو اور شلنگ کے دوران اُسے بچالیا اور وہ سرینگر کے ایک اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ادھر شہر کے حضرت بل علاقے میں ایک نمازی کی شک کی بناء پر سخت مارپیٹ کرکے اسے جھیل ڈل میں ڈبوکر قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا ’سخت کارروائی کی ہدایت جاری ہوچکی ہے۔ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا‘۔ پولیس نے متاثرہ شخص کی شناخت وسیم احمد تانترے ولد غلام نبی تانترے ساکن شاکوارہ حال نوپورہ سوپور کے بطور کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص ذہنی طور پر معذور ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وسیم تانترے نے شراب پی رکھی تھی۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران لوگوں کی جانب سے محض شک و شبہ کی بناء پر درجنوں افراد بشمول سیکورٹی فورس اہلکاروں کی شدید پٹائی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ سوپور کے ایس پی ہرمیت سنگھ نے واقعہ کے حوالے سے بتایا ’ہمیں اطلاع ملی کہ مازبگ اور فروٹ منڈی کے بیچ میں جو علاقہ ہے، وہاں کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں اور وہ بال کاٹنے والے ایک شخص کی پٹائی کررہے ہیں۔ یہ پانچ سے آٹھ سو لوگوں پر مشتمل مجمع تھا۔ ایس ایچ او فروٹ منڈی ایک پولیس پارٹی کے ہمراہ وہاں پہنچے ۔ اس کے بعد ایس ایچ او سوپور ، ایس ڈی پی او اور پولیس کی نفری وہاں پہنچی۔ پولیس نے وہاں ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور شلنگ کر کے اسے بچا لیا۔لوگ پکڑے گئے نوجوان کو جلانے اور اس کے اوپر ٹریکٹر چلانے کی کوشش کررہے تھے۔  انہوں نے کہا ’اس نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ بنیادی طور پر شاکوارہ بارہمولہ کا رہنے والا ہے اور نوپورہ سوپور میں بھی رہتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ متاثرہ نوجوان ذہنی طور پر معذور ہے اور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا ہے‘۔ ایس پی نے کہا کہ واقعہ کی نسبت ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ ادھر سرینگر کے درگاہ حضرت بل علاقے میں جمعہ کی صبح اسی طرح کا واقعہ پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے نماز فجر کے موقعہ پرایک شخص کو جھیل ڈل کے کنارے پر مشکوک حالت میں دیکھتے ہی اسے دبوچ لیا۔مذکورہ شخص کی مشتعل لوگوں نے بری طرح سے مارپیٹ اور اسے جھیل ڈل میں ڈبونے کی کوشش کی، تاہم بعد میں پولیس نے وہاں پہنچ کر اسے اپنی تحویل میں لیا۔اس موقعے پر پولیس پر پتھرائو بھی کیا گیا لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کے بڑے بزرگوں کی مداخلت کے بعد پکڑے گئے شخص کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ خواتین کے بال کاٹنے کا پہلا واقعہ 4 ستمبر کی شام ضلع اننت ناگ کے ککرناگ میں پیش آیا۔ تب سے لیکر اب تک وادی میں خواتین کی پراسرار طور پر بال کاٹنے کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔  ریاستی پولیس نے چوٹی کاٹنے کے واقعات میں ملوث لوگوں کے بارے میں مصدقہ اطلاع فراہم کرنے والے شخص کو 6 لاکھ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ بال کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وادی کے مختلف اضلاع میں لوگوں کی مدد کے لئے ہیلپ لائنیں بھی شروع کی گئی ہیں۔بیشتر واقعات میں خواتین کے بال بیہوشی کی حالت میں کاٹے گئے۔