سوپور اورترال میں ہڑتال

 سوپور+ترال// حد متارکہ پر جھڑپ کے دوران جان بحق عسکری کمانڈر عبدالقیوم نجار کی یاد میں سوپور میں بدھ کے بعد جمعرات کو بھی ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔جنگجوکمانڈر کی یاد میں بغیر کسی کال کے جمعرات کوبدستور دوسرے روز بھی سوپور قصبے کے ساتھ ساتھ گردونواح کے بیشترعلاقہ جات میں دکانیں ، تجارتی مراکز، بنک اور دفاتر وغیرہ مکمل طوربند رہے جبکہ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہنے کی وجہ سے بازار ویران اورسڑکیں سنسان پڑی رہیں ۔حکام نے پہلے ہی قصبہ کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کےلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی خاصی تعداد مین چوک،تحصیل روڑ،شاہ درگاہ چوک،عشپیر کراسنگ اور چھانہ کن علاقوں میں تعینات کی گئی تھی اور فورسز اہلکاروں کو چوکس حالت میں رکھا گیا تھا، تاہم کسی بھی جگہ لوگوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ادھر پولیس تھانہ تارزو اور سوپورکے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی گئی تھی۔حکام کا کہنا تھا کہ سوپور میں دسری روز بھی امن و قانون کو بنائے رکھنے کیلئے احتیاتی طور پر اقدامات اٹھانے پرے۔س دوران جاں بحق ہوئے جنگجوکمانڈر کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کےلئے آنے والے لوگوں کی آمد کا سلسلہ صبح سویرے ہی شروع ہوا جودن بھر جاری رہا ۔دریں اثناترال میں نوجوان کی ہلاکت پر جمعرات کو مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی ۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال میں جمعرات کو ایک مقامی دکاندار مشتاق احمد شیخ ولد غلام محی الدین شیخ ساکنہ ترال بالا جو گزشتہ دنوں ایک دھماکے میں زخمی ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد گزشتہ شام زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوا جہاں ان کے نماز جنازے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ علاقے میں جمعرات کو تمام کارباری ادارے بند رہنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا ۔ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی ہے ۔ واضح رہے ترال میں21ماہ ستمبر کو ترال میںوزیر تعمیرات کے قافلے پر نا معلوم افراد کی جانب سے ایک ہتھ گولہ پھینکاگیا تھا جس میںمشتاق احمد سمیت تین عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ کئی مضروب افراد ابھی بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔
 
 
 

 مزاحمتی جماعتوں کا عبدالقیوم نجارکو خراج عقیدت

سرینگر//حریت (گ)،تحریک حریت،تحریک مزاحمت اورکشمےر تحرےک خواتےن نے جاں بحق ہوئے جنگجو کمانڈر عبدالقیوم نجار کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف نے اپنی پوری زندگی اسلام اور آزادی کیلئے وقف کی تھی۔ حریت(گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے حزب کمانڈر عبدالقیوم نجار کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ خونین جنگ بھارت کی طرف سے مسلط کردہ ہے جس میں ریاست کی سرزمین پر انسانی خون کو پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ بیان میں شہید عبدالقیوم نجار کے والدین اور لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا گیا۔اس دوران حریت چیئرمین کی ہدایت پر حریت وفد محمدیاسین عطائی، سید امتیاز حیدر، عبدالاحد اور عبدالغنی نے وحدت پورہ بڈگام کے ایک نوجوان تاجر منیب احمد کے گھر جاکر لواحقین سے تعزیت کی۔ وفد نے منیب احمد کے لواحقین سے سید علی گیلانی کی طرف سے ہمدردی اور تعزیت پُرسی کا پیغام پہنچایا۔ بزرگ رہنما نے ترال میں حالیہ گرنیڈ حملے میں زخمی ہوئے نوجوان منظور احمد شیخ کے جاں بحق ہونے پر بھی ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔تحریک حریت وفد نے عبدالقیوم نجار کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنی پوری زندگی اسلام اور آزادی کیلئے وقف کی تھی اور جموں کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ تک پیش کیا۔وفد میں بشیر احمد قریشی، شاہ ولی محمد اور ضلع کے دوسرے ذمہ دارشامل تھے۔موصولہ بیان کے مطابق موصوف ایک طویل عرصے سے میدانِ کارزار میں مصائب اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے آزادی کی شمع کو فروزاں رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران اُن کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو بھی بے پناہ مصائب، مشکلات اور مظالم کا سامناکرنا پڑا لیکن تحریکِ آزادی کے اس سپاہی کے پایہ استقامت میں لغزش نہیں آئی ۔بیان کے مطابق بشیر احمد قریشی نے عبدالقیوم نجار کی نماز جنازہ کی پیشوائی کی۔تحریک مزاحمت کے سربراہ بلال صدیقی کی قیادت میں ایک وفدنے عبدالقیوم نجار کے گھرواقع سوپورجاکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقعہ پر بلال صدیقی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک انتہائی بے باک، مخلص،یکسو اور دشمن کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکنے والا بطل جلیل تھا جس نے اپنی پوری زندگی بلا خوف و تردید تحریک آزادی کی خاطر وقف رکھی تھی۔کشمےر تحرےک خواتےن کی سربراہ زمردہ حبےب نے خراج عقےدت پےش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری جوانی تحرےک آزادی کے لئے وقف کی ۔ زمرودہ حبیب نے ترال کے مشتاق احمد کے جاں بحق ہونے پر نہاےت دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ معصوم شہرےوں کی ہلاکتوں کا تسلسل نہاےت تشوےشناک صورت اختےار کر رہا ہے۔انہوں نے عبدالقےوم اورمشتاق احمد کے غمزدہ لواحقےن کے ساتھ ےکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپنا کردار نبھانے اورکشمےر مےں ہورہی انسانی حقوق کی پا مالےوںکانوٹس لےنے کی اپےل کی ۔