سوپور، علاقہ زینہ گیر اور لنگیٹ میں ہڑتال

 
سوپور+کپوارہ//شمالی قصبہ سوپور اور زینہ گیر علاقہ میں حریت کارکن اور دو جنگجوئوں کی ہلاکت کیخلاف ہڑتال سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ کئی ایک مقامات پر پر تشدد احتجاج ہوا، جسکے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی ہوا۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حریت (گ) کارکن حکیم الرحمان کی بومئی میں پر اسرار ہلاکت کیخلاف جمعہ کو ہڑتال کی کال دی تھی۔ہڑتال کال کے پیش نظر سوپور اور علاقہ زینہ گیر میں دکانات ،تجارتی مراکز ،کاروباری ادارے اور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔اس دوران تعلیمی ادارے بھی قصبہ میں بند رہے ۔سوپور میں تعلیمی ادارے انتظامیہ کی ہدایت پر بند رکھے گئے ۔انتظامیہ نے گزشتہ شب ہی ایک حکمنامہ صادر کیا تھا ۔جمعہ بعد دوپہر آرمپورہ سوپور میں نوجوانوں نے حکیم الرحمان اور گزشتہ روزجھڑپ کے دوران دو جنگجو نوجوانوں کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔نوجوانوں نے مشتعل ہو کر قصبے میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے تعینات کئے گئے فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا ۔فورسز نے جوابی کارروائی میں مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ،جسکے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی ہوا ،جسکی شناخت ظہور احمد ولد غلام محمد کے بطور ہوئی ۔ادھرسوپورمیں جاں بحق دو مہلوک جنگجوئوںکو پولیس کی موجودگی میں جمعرات کی شب قریب 11بجے گانٹھ مولہ بارہمولہ میں سپرد لحد کیا گیا ۔یہاں غیر مقامی جنگجو ئوں کیلئے مخصوص قبرستان ہے ۔ادھر گلورہ لنگیٹ ہندوارہ میں جھڑپ کے دوران ایک مقامی جنگجو کے جا ں بحق ہونے کی یاد میں لنگیٹ، کرالہ گنڈ  اور سپر ناگہامہ میں مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے تمام کارو باری سر گرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیںجبکہ تعلیمی ادارو ں میں درس و تدریس کا کام کاج بھی معطل رہا ۔اس دوران مہلوک جنگجو فرقان احمد لون المعروف عادل کے چہارم پر شاٹھ پورہ لنگیٹ میں ان کے گھر میں لوگو ں کا تانتا بندھا رہا۔