سونیا گاندھی رائے بریلی سے پانچویں بار قسمت آزمائیں گی

نئی دہلی// آزادی کے بعد سے مسلسل نہرو-گاندھی خاندان کا ساتھ دیتی رہی اترپردیش کی رائے بریلی سیٹ سے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی پانچویں مرتبہ قسمت آزمائیں گی۔اس سیٹ سے تین لوک سبھا انتخابات اور ایک ضمنی انتخاب جیت چکیں مسز گاندھی کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے یہ مانا جا رہا تھا کہ اس بار وہ انتخابی میدان میں نہیں اتریں گي لیکن کانگریس نے اپنی پہلی ہی فہرست میں ان کا نام شامل کر کے اس طرح کی قیاس آرائیوں پر روک لگا دی۔ وہ 2004 سے مسلسل اس سیٹ پر الیکشن جیت رہی ہیں۔گزشتہ عام انتخابات میں مودی لہر کے باوجود رائے بریلی کے ووٹروں نے ان کا ساتھ دیا تھا اور انہیں بھاری ووٹوں سے کامیاب بنایا تھا۔ رائے بریلی سیٹ 1957 میں وجود میں آئی تھی. وہاں اب تک 16 لوک سبھا انتخابات اور تین ضمنی انتخابات ہوئے ہیں جن میں سے 16 بار کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔کانگریس کو 1977 میں یہاں پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 1996 اور 1998 میں بی جے پی نے جیت درج کی تھی۔ سال 1999 کے بعد سے اس سیٹ پر کانگریس کا مسلسل قبضہ ہے ۔مسز گاندھي نے رائے بریلی سے پہلی بار 2004 میں انتخاب لڑا تھا اور تقریباً ڈھائی لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت انہوں نے متحدہ ترقی پسند اتحاد تیار کرنے میں خاص رول ادا کیا تھا۔ان انتخابات کے بعد مرکز میں کانگریس کی قیادت میں اس اتحاد کی حکومت بنی تھی۔ مخلوط حکومت نے مسز گاندھی کی صدارت میں قومی مشاورتی کونسل تشکیل دی تھی۔ فائدہ کے عہدے کو لے کر تنازعہ کھڑا ہونے پر مسز گاندھی نے 2006 میں لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔ اس سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں رائے بریلی کے لوگوں نے انہیں پھر سے اپنا ایم پی منتخب کیا۔کانگریس صدر رہتے انہوں نے 2009 اور 2014 میں بھی یہیں سے الیکشن لڑا اور جیت کا سلسلہ برقرار رکھا. مودی لہر کے باوجود گزشتہ انتخابات میں وہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیتی تھیں۔ گزشتہ انتخابات میں کانگریس رائے بریلی کے علاوہ امیٹھی میں ہی جیت درج کر پائی تھی۔ بی جے پی نے ریاست کی 80 میں سے 71 سیٹوں پر قبضہ کیا تھا۔اس سیٹ کے انتخابی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1971 تک اس سیٹ پر مسلسل کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔یو این آئی