سول لائنز میں سڑکوں پر غیر قانونی پارکنگ

 سرینگر// محکمہ ٹریفک نے اگرچہ گذشتہ دنوں یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہر سرینگر میں غیر قانونی کار پارکنگ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کچھ دنوں تک محکمہ نے اگرچہ ایسے ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی تاہم اب دوبارہ سے حالت پہلے کی طرح ہی ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ٹریفک قوانین و ضوابط کی یہ خلاف ورزی محکمہ ٹریفک کی ناک کے نیچے ہورہی ہے۔ لیکن اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی محکمہ ٹریفک ایسے افراد کے خلاف کوئی کاروائی کرتا ہے۔ شہر کے ریذیڈنسی روڑ، گھنٹہ گھر ، کرن نگر اور بٹہ مالو کے علاقوں میں چھوٹی گاڑیوں کے مالکان بنا کسی ڈر کے گاڑیوں کو سڑکوں کے کناروں پرغیر قانونی طور پر پارک کرتے ہیں اور ایسا صرف گاڑی پارک کے دس سے بیس روپے بچانے کے چکر میں ہی کیا جاتا ہے۔محکمہ ٹریفک کی جانب سے اگرچہ کئی بار غلط جگہوں پر کاریں پارک کرنے والوں کیخلاف  مہم چلائی ہے لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سنجیدہ فکر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غلط پارکنگ کے خلاف کبھی کبھار مہم چلانے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اسکے لئے محکمے کو ہمہ وقت متحرک رہنا پڑے گا ۔ توصیف احمد نامی شہری نے بتایا کہ محکمہ ٹریفک کے اہلکار اگر چہ غلط جگہوں پر پارک کی گئی گاڑیوں میں سے چند ایک کو اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ ٹریفک غلط پارکنگ کیخلاف ہمہ گیر مہم شروع کرئے اور پھر اسے جاری بھی رکھے۔توصیف نے مزید کہا کہ اگر صرف ریذیڈنسی روڈ پر ہی نظر ڈالی جائے تو سڑک کے اطراف ایک انچ جگہ بھی غیر قانونی طور پارک کی گئی گاڑیوں سے آزاد نہیں۔غلط پارکنگ اور اپنے پیسے بچانے کے چکر میں جو لوگ گاڑیوں کو غیر قانونی طور پارک کرتے ہیں اْس سے نہ صرف ٹریفک جام ہو جاتا ہے بلکہ راہگیروں کو چلنے پھرنے میں بھی سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جاوید احمد نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس یہ دعویٰ تو کر رہی ہے کہ شہر میں گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر پارک کرنے میں پابندی لگائی جا رہی ہے لیکن ایسا کسی ایک جگہ بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر چوک ، بڈشاہ چوک ، کرن نگر ، بٹہ مالو ، سمیت دیگر شہر کی سڑکوں پر بھی تاجروں نے اپنی دکانوں کے سامنے غیر قانونی طور پر گاڑیوں کیلئے پارکنگ بنائی ہے اور اُن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ایک مقامی مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ وہ گاڑیوں کو کہاں لے جائیں جبکہ شہر میں پارکنگ میں جگہ ہی نہیں ہوتی۔