سول سوسائٹی فورم کا امتحانی نظام میں تبدیلیوں پرزور

 سرینگر// سول سوسائٹی فورم نے حکومت اور بالخصوص کشمیر یونیورسٹی کے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ تدریسی کورسوں کے تکمیل میں طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانات کے سیمسٹر نظام کو ختم کریں ،جس سے طلاب کا وقت ضائع ہوجاتا ہے اور بعد ازاں امیدواروں کے مستقبل پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایک بیان میں سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ ان کے پاس امیدواروں سے مختلف انڈر گریجویٹ سے لیکرمحققین کی سطح تک کے پی ایچ ڈی امیدواروں کی سروے موجود ہے ،جس کی رو سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ تدریسی کورسز مکمل کرنے میں یونیورسٹی کی ناقص امتحانی پالیسی کی وجہ سے  طلاب کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ وانی نے کہا کہ طلبا کی طرف سے فراہم کردہ سروے کی معلومات کا تجزیہ کرنے کے بعد جے کے سی ایس ایف نے حکام کے ساتھ مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں کیریئر، تحقیق اور کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا کے مسائل  سے آگاہ کیا جائے اور اس کا حل تلاش کیا جائے۔  انڈر گریجویٹ، گریجویٹ اورپوسٹ گریجویٹ طلبا کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے ترمیمی تدابیر ناگزیر ہیں۔ وانی نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ برسوں تک ڈگریوں کا طول اور جمود ذہنی صدمے کا ایک سبب بن سکتا ہے جس سے نوجوان طلاب میں خودکشی کے رحجان کے بڑھنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ وانی نے کہا  اگرچہ یہ فخر کی بات ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں ہر شعبے میں قابل ترین  فیکلٹی اور ہنر مند لوگ ہیں لیکن یہ امتحانات کا نظام ہے جس نے یونیورسٹی کو بدنام کیا۔ جموں کشمیر سول سوسائیٹی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ تدریسی کوششوں کے شاندار اور موثر نتائج کو یقینی بنانے کے لئے یونیورسٹی کے امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر پالیسی ترمیم ناگزیر ہے جس میں اولین سطح پر سمسٹر نظام کو ختم کرکے سالانہ امتحانات کو رائج کیا جائے، جو کہ کشمیر کی جغرافیہ سے مطابقت رکھتا ہے۔