سوشل میڈیا

 مارک   زوگر برگ نے دنیا ئے انسانیت کے مغرب ومشرق اور شمال وجنوب کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے ، انہیں ایک دوسرے سے ہر آن منسلک ومربوط ر ہنے کے لئے فیس بُک نامی سوشل ویب سائٹ کو معرض ِ وجود میں لایا کہ آج کی تاریخ میں دنیا کے ایک کونے میں رہنے والا کوئی بھی شخص دوسرے سرے پہ رہنے والے شخص یا گروہ سے ہر لمحہ رابطہ میں رہنے کی سہولت رکھتا ہے ۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ فیس بک یا سماجی رابطے نے عملی طور دنیا کو ایک کنبے کی شکل میں متشکل کیا ہے۔ مزید برآں فی زمانناہم اس آفاقی حقیقت کے بھی شاہد عادل ہیں کہ انسانوں کے درمیان مواصلاتی رابطہ کاری ممکن بنانے، چشم زدن میں مسافتیں اور دوریاں پاٹنے اور یگانوں اور بے گانوں سے ربط وتعلق کی راحتیں پیدا کرنے کے حوالے سے روز سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اورموجدین نت نئی ایجادات سے محیرالعقول کارنامے انجام دے رہے ہیں ۔ جدید دور کا ہر کوئی انسان ان ایجادات کا گرویدہ ہی نہیں بلکہ ان سے کم وبیش استفادہ کرنے سے مستثنیٰ نہیں ٹھہر سکتا ۔ یہ ساری مفید چیزیں اپنے اندر بے شمارمضرات بھی رکھتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ اب یہ ہماری انفردای واجتماعی زندگی کے گوشے گوشے میں اس قدر گھس آئی ہیں گویا یہ ہر کس وناکس کے لئے شہ رگ کا حکم رکھتی ہیں ۔
ا س وقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے دوش بدوش سوشل میڈیا نے انسانی دنیا میں تہلکہ مچاکے رکھا ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ سماجی ویب سائٹس اپنے جلّو میں بہتیرے فوائد لئے ہوئی ہیںلیکن یہ حقیقت محتاج بیان نہیں کہ ان کے نقصانات اور ان کی ضرررسانیاں انسانی زندگی کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں سے اس درجہ بری طرح مرتب ہورہی ہیں کہ ان اک شمار نہیں ۔ خالی الذہن ہو کر غور کیجئے تومبرہن ہوگا کہ انٹر نیٹ ،کیبل ، موبائیل فونز اور فیس بُک جیسی مواصلاتی سہولیات نے ہماری نوجوان نسل کی اخلاقیات کو گند اور غلاظت کے سمندر میں ڈبو کے رکھ دیا ہے ۔ان کے غلط استعمالات نے 21؍ویں صدی کی ان غیر معمولی ایجادات کی اصل اہمیت اور افادیت کو ہی ختم کرکے رکھ دیا ہے ۔ سماج میںجدھر بھی نگاہ دوڑائیے بڑے بوڑھے، بے بچیاں ، نوجوان،معذور،صحت مند ،مرد، خواتین غرض پورے انسانی معاشرے پر سوشل میڈیا کا بے حد وحساب خمار چڑھا ہوا ہے ۔ ان کے فوائد کو جیساکہ عرض کرچکا کونکارا نہیں جاسکتا لیکن جب اعتدال و توازن کا راستہ کسی بھی معاملے میں ترک کیا جائے تو لازماً نقصانات درآئیں گے ۔سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق نوجوان نسل انٹر نیٹ ، کیبل اور سوشل میڈیا پر دن کے 9گھنٹے صرف کرتی ہے اور رپورٹ واضح کرتی ہے کہ زیادہ تر وقت کا زیاں غیر ضروری امور پر ہوتا ہے ۔ایک اور رپورٹ سے ظاہر وباہر ہواہے کہ دنیا میں بچوں کی کارآمد یعنی وہ سرگرمیاں جن کا تعلق اُن کی پڑھائی ،ورزش ،دینی اور دنیوی امور سے ہوتا ہے، اُس میں 3سے 4گھنٹے کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ 67؍فیصد نوجوانوں کے پاس موبائیل فونز ہیں اور اسی میں مست ومحو ہوکر وہ شب و روز وقت ضائع کرتے رہتے ہیں ۔ عصر حاضر میںاطلاعات کے بین الاقوامی ماہر میکو چین کا کہنا ہے الیکٹرانکس آلات اور انٹر نیٹ کی وجہ سے دنیا ایک گائوں میں تو تبدیل ہوگئی ہے ،سوشل انٹر یکشن میں اضافہ تو ہوا ہے مگر اس کے نتیجے میں ہمارے مقامی کلچر کے ادارے جن میں خاندان،حجرہ اور دوسرے ثقافتی ادارے شامل ہیں ،وہ تباہ وبربادہوکر رہ گئے ہیں۔اسی طرح ایک اور انٹرنیشنل ادارے پیو نے واشگاف کردیا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہر عمر کے لوگ کرتے ہیں، لہٰذا بچے اور جوان ذہنی بلوغت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات دھوکے میںآتے ہیں ،اپنی عمر سے زیادہ لوگوں سے رابطہ میں رہتے ہیں اور کسی بھی وقت یہ بے جوڑ رابطے اُن کے لئے خطرہ اور وبال بھی بن سکتے ہیں۔یہ بات بھی عیاں وبیاں ہے کہ مغرب نے تو مادر پد آزاد ی تہذیب کی آڑ میں بے راہ روی اور بداخلاقی کے لئے بے قید آزادی حاصل کی ہوئی ہے، نتیجہ یہ کہ اُس کے یہاں اخلاقیات ،شرم و حیا ،سنجیدگی اور شرافت کا کوئی مول ہے نہ انسانی اقدارکا اتنا بھی پاس و لحاظ  نہیں کہ اسے دیکھ کر حیوانیت بھی شرمسار نظر آتی ہے، ان کی کالی کرتوت کا مشاہدہ کریئے تو گھن آتی ہے،لیکن مشرق میں ماضی قریب تک انسانی و اخلاقی اقدار کا لحاظ وملاحظہ تھا ، لوگ زیادہ تر دین و مذہب کے حوالے سے بھی سنجیدہ تھے ،شرم و حیا کو بھی سماج میں قدر مشترک کی حیثیت حاصل تھی ،چھوٹوں پر شفقت اور بڑھوں کی عزت کا چلن بھی کچھ کچھ تھا مگر مغرب جہاں مادیت کا دوردورہ ہے ، جو آنٓکھیں چکا چوند کر نے والی شیشہ گری کے نیچے غلاظتوں میں ڈوبا ہو اہے ، جوہر سطح پر بقیہ دنیا کو اپنی دادا گیری سے ڈرا رہا ہے، جو کمزوروں کوتہ وبالا کرتا جا رہاہے ، جو اپنا سکہ جمانے کے لئے جنگ وجدل اور فتنہ وفساد کی تخم ریزیاں کر تاہے، اُس کی عریاں اور بے ہودہ تہذیب نے ہماری اخلاقی اور روحانی عمارت کو دھڑام سے گرانے کی منصوبہ بندی یہی مواصلات کا یہی ابلیسانہ آلہ ہمارے ہاتھ میں تھمایا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل بدی اور برائی کے ہر عفریت کے لئے نوالۂ تر ثابت ہورہی ہے۔
 سوشل میڈیانوجوان تو نوجوان شیر خوار بچوں کے لئے اتنا جز ولاینفک بنا ہوا ہے کہ یہ رونے دھونے سے تبھی دستبردار ہوتے ہیں جب اُن کے ہاتھ میں موبائیل فون دیا جائے اور وہ خود کلک کرکے مطلوبہ کا رٹون سائٹ کھول کر من ہی من میںخوش نہ ہوجائیں۔ حالانکہ ا س سے ان کی بصارت اور شخصیت کی تعمیر پر اتنے مضرا ثرات مر تب ہوتے ہیں کہ موبائیل ان نونہالوں کے ہاتھ تھما نے والا خود ایک ناقابلِ معافی جرم کا مر تکب ٹھہرتا ہے ۔اس طوفان بد تمیزی کو کیسے روکا جائے ؟ اس کے لئے والدین اور بڑوں کی کافی زیادہ ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ وہ بچوں کو بڑے سلیقے سے خیر وشر کی تمیز سکھائیں ،اچھائی اور بُرائی کے فرق سے آگاہ کریں ۔ بچے جن کمروں میں فروکش ہوں ،جہاں وہ جاگیں سوئیں ، کسی صورت اس دوران اُن کے ہاتھ میں موبائیل فون نہ ہواور نہ وہاں ٹی وی نصب ہو۔ہم ان چیزوں کو بند تو نہیں کرسکتے لیکن ان کے بہتر استعمال کو کم ازکم Manage تو کرسکتے ہیں۔کسی نے درست کہا ہے کہ برائی کی مثال خود رو پودے کی طرح ہے اسے کھاد اور آبیاری کی ضرورت نہیں ہوتی ،خود رو پودے کی طرح اُگتی ہے جب کہ نیک کام کی مثال آم یا کینو کے باغ کی ہے جو خود نہیں اُگتے بلکہ انہیں اگانے کے لئے محنت شافہ اٹھانا پڑتی ہے۔یا د رہے بچوں سے بڑوں کو فطری طور لاڈ پیار ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے ان ننھے فرشتوں کی فطرت میں ضد اور ہٹ ہوتی ہے ۔ اگر بچہ سوشل میڈیا کے بے جا اور بار باراستعمال کے حوالے سے ضدی بن گیا تو پوری دنیا اُسے زیر نہیں کرسکتی ہے اور یوں اُس کی پوری زندگی پھر غلط خطوط پر استوار ہو ناشروع ہوسکتی ہے ۔ہم نے لاڈ پیار کی وجہ سے اس کے ہاتھ میںموبائیل تھمادیا تو پھر اپنی اس ایک لاڈلی حرکت کے ناموافق ردوعمل کے لئے بھی ہمیں پہلے سے ہی چوکنا ہوگا ۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ وقت آئے تو ہم بہ نگاہِ حسرت دیکھیں کہ اس لاڈلے بچے کا پڑھا ئی لکھائی میں دل نہیں لگتا ، وہ تنہائی پسند بن جاتا ہے اور تنہائیوں میں کیا کیاگل کھلاتا ہے، آگے جاکر جب والدین کو وہ پتہ چلتا ہے تو اس وقت یہ روگ لا علاج نظر آتا ہے ۔جس قدر موبائیل فون کے ساتھ بچے کا رشتہ مضبوط تر ہوتا جائے گا ، ا سے اپنی عمر کی حد سے آگے کی چیزیں معلوم پڑتی ہیں ،اس میں اخلاقی پستی ،چڑچڑا پن،ناچ گانا ،تشدد،فحش کام ،بے ہودہ گوئی زندگی کا گویا منطقہ لزوم نظر آنا شروع ہوتا ہے ۔لہٰذا ضروری ہے کہ والدین آگے اس نا قابل بر داشت صورت حال کاپیشگی ادراک کریں۔ہر آن بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں ،صاف ستھری اور پاکیزہ باتیں ، نصیحتیں اور عمدہ فکر وخیال انہیں ورثے میںدیں۔ عقیدہ ٔ توحید کی بنیادوں سے انہیں سے آگاہ کریں ،شرکیہ اعمال سے انہیں بچائیں ، تو ہمات کے گورکھ دھندوں میں پڑنے سے اس کا دفاع کریں ، آخرت کی باز پرس کے تصور سے اُسے آگاہ کریں،عصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم ،قرآن ناظرہ اور حفظ کرنے کی عادت ان میں ڈالیں،احادیث نبویؐ یاد کرائیں ،اُن کے لئے اس حوالے سے تحفوں اور انعامات کا سلسلہ شروع کریں۔روزہ رکھنے کی عادت ڈالیں ، ہر لمحہ اُن پر نظر رکھیں ، خود کو اچھے اخلاق وکردار کے سانچے میں ڈھالیںاور یہ جو قرآن کا حکم ہے ۔
’’بچائو اپنے آپ کو اور اپنے عیال کو جہنم کی آگ سے ۔‘‘اُس کا نکتہ آغاز ہی اپنے کو بچانے سے ہے یعنی ترک ِمعاصی خود کرو ،اخلاق ،اخلاص اور عمل صالح کے پیکر خود بنو تب جاکر اپنے اہل خانہ کی دُرست تربیت کرپائو گے ۔ کھانڈ کی ضرررسانیوں کا سبق جب ہی پڑھاپائو گے جب شکر خوری خود چھوڑ دی ہوگی ۔حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی جانب دیکھ لیجئے ،اُن کے مخاطب تو سب سے پہلے اپنے اہل ِخانہ ہی تو تھے۔اس لئے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ7 سال کا ہوجائے تو اُسے نماز کی تلقین کرو ، دس سال کی عمر میں اس کی نماز میں کوتاہی دِکھے تو اس کی سرزنش کرو ۔اسلام دین ِفطرت ہے جب کسی بُرائی کو دیکھتا ہے تو اس طرف جانے والے راستہ ہی پر فطری انداز میں قدغن لگاتا ہے، پہرے بٹھاتا ہے :مثلاًبدکاری سے بچنے کے لئے پردہ کا حکم مرحمت فرمایا ہے ،مخلوط محفلوں پر پابندی لگادی ہے ، فحاشی و عریانیت کی مذمت کی ہے، لہوالحدیث( موجودہ زمانے کی اصطلاح میں ٹی وی، سوشل میڈیا اور موبائیل کا غیر مہذبانہ ا ستعمال) سے روکا ہے۔کسی عبقری شخصیت نے تربیت ِاولاد کے موضوع پر پتے کی لکھی ہے : ’’تربیت کا مفہوم اُس کاشت کار کے کام سے مشابہت رکھتا ہے جو زمین سے کانٹے نکالتا اور کھیت سے ناموزون گھاس اُکھاڑ ڈالتا تاکہ اس کی پیداوار اچھی ہو اور بہت ہو‘‘ ۔یاد رکھئے !قیامت کے روز تربیت ِاولاد کے تعلق سے پوچھا جائے گا ۔حافظ ابن القیمؒ نے کتنے پتے کی بات لکھی ہے : ’’اہل علم کہتے ہیں کہ قیامت کے روز والد سے اس کی اولاد کے بارے میں باز پرس ہوگی کیونکہ جس طرح باپ کا اپنے بیٹے پر حق ہے اسی طرح بیٹے کا بھی اپنے باپ پر حق ہے۔‘‘ہاں یہ دُرست حق تربیت ہے ،اسے ادا کیجئے تو گھر انے نمونہ ٔجنت بن جائیں گے ۔
رابطہ 94190803076
