سوشل میڈیا کے’ خود ساختہ ‘صحافی (حصہ اول) صحافتی اقدار و معیارات کی تنزلی کا ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر اویس احمد
اردو ادب کے جید ناقد مرحوم شمس الرحمن فاروقی صاحب سے جب اردو صحافت بالخصوص اخبارات کے عصری منظر نامے کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے بڑے ہی مضحکہ انداز میں کہا تھا کہ’ اُنھیں اُردو اخبارات دیکھ کر متلی آتی ہے۔‘ اُن کی اس بات پر صحافت سے وابستہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے کہ فاروقی صاحب کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ پہلی نظر میں واقعی ایسا لگتا ہے کہ فاروقی صاحب نے ایسی رائے قائم کرکے زیادتی سے کام لیا؛ لیکن جب اردو اخبارات کے عصری منظر نامے پر نظر دوڑاتے ہیں تو فاروقی کی بات سو فی صد درست معلوم ہوتی ہے۔ اب جو لوگ فاروقی کی بات پر آگ بگولہ ہوئے، اُن کا ماننا ہے کہ بھئی سبھی اخبارات پر فاروقی کی رائے کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔یقینا! نہیں کیا جاسکتا ہے اور کیا بھی نہیں جانا چاہیے۔ لیکن کیا اس حقیقت سے فرار ممکن ہے کہ صحافتی اصول و ضوابط اورصحافتی زبان کو پس پشت ڈالنے کے نتیجے میں صحافتی اقدار و معیارات کی تنزلی سے قاری انگشت بہ دندان نہیں ہے۔؟یہ محض اردو اخبارات کا حال نہیں ہے بلکہ پوری اردو صحافت اس وقت صحافتی اقدار اور معیارات کی بنیاد پر تنزلی کا شکار ہے۔

فی الوقت ہمارا موضوع اردو اخبارات نہیں ہے۔لیکن فاروقی کی بات کا تذکرہ یہاں اس لیے بے محل نہیں ہے،کیوں کہ فاروقی کی بات محض اردو اخبارات پر صادق نہیں آتی ہے بلکہ پوری اردو صحافت پر درست معلوم ہوتی ہے۔ اب اسے میری انتہا پسندی نہ سمجھا جائے ۔فی الوقت ہم سوشل میڈیاصحافت اور خود ساختہ صحافیوں کے حوالے سے بات کریں گے۔ کیوں کہ جہاں سوشل میڈیا نے اردو صحافت کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے وہیں اس کی بیخ کنی میں بھی اچھا خاصا رول ادا کررہا ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا پر خود ساختہ صحافی صحافت بالخصوص اردو صحافت کی شکل مسخ کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

اصل موضوع پر آنے سے پہلے صحافت سے متعلق چند ایک باتوں کو ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اصل موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ اس مناسبت سے سب سے پہلے صحافت کی فکری بنیاد کو سمجھنا لازم ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد شاہین کی صحافت کی تعریف بر محل ہوگی کہ’’صحافت خبر ہے، اطلاع ہے، جانکاری ہے۔صحافت عوام کے بارے میں تخلیق کیا گیا مواد ہے۔ یہ دن بھر کے واقعات کو تحریر میں نکھار کرآواز میں سجا کر تصویروں میں سمو کر انسان کی اس خواہش کی تکمیل کرتی ہے جس کے تحت وہ ہر نئی بات جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے۔‘‘ یہ تعریف اگرچہ صحافت کی فکری بنیادوں کو جاننے کے لیے کافی ہے ؛لیکن اس میں ’’تحقیق‘‘ کا اضافہ کریں تو بات مزید واضح ہو سکتی ہے۔ یعنی صحافت دن بھر کے حالات وواقعات کا تحقیقی جائزہ لینے کے بعد اُسے سمعی، بصری یا تحریری شکل میں سامعین، ناظرین اور قارئین تک پہنچانے کا نام ہے۔ اسی لیے صحافی میں تحقیقی و تنقیدی شعور کا ہونا بھی لازم ہے، نیز اُسے تحقیقی اصولوں سے بھی واقفیت ہونا لازم ہے۔ کیوں کہ ایسا نہ ہو کہ جس معاملے کی جانکاری وہ عوام کو دینا چاہے ، وہ سچائی یا حقیقت سے کوسوں دور ہو۔ دوسری بات یہ کہ سچائی یا حقیقت کے ساتھ ساتھ دیانت اور بصیرت کے عناصر بھی جزولازم ہیں۔ بہ لفظ دیگر ایسے معاملات ضبط تحریر میں لائے جائیں جن میں سچائی یا حقیقت کی بالا دستی ہو۔ تیسری اہم بات یہ کہ صحافت میں ایسے معاملات عوام تک پہنچائے جائیں جن کو اُسے جاننا چاہیے، نیز اُن معاملات سے متعلق اُن ہی حقائق سے واقف کرایا جائے جنھیں عوام کو جاننا چاہیے۔چوتھی اہم بات یہ ہے کہ صحافت کے ضمن میں یہ بات ملحوظ رہے کہ جہاں اچھی صحافت سے قوم کا شیرازہ متحد ہو سکتا ہے، وہیں تخریبی صحافت سے قوم کا شیرازہ بکھر بھی سکتا ہے۔

واضح رہے صحافت کی اصطلاح اخباری یا جریدی صورتوں کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے منسلک اظہار و ابلاغ کے تمام ذرائع(ریڈیو ، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ یا ڈیجی ٹل صحافت)صحافت ہی میں شامل ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن صحافت سے قطع نظر ڈیجی ٹل صحافت ؍ آن لائن صحافت زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ اب ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے بجائے لوگ انٹرنیٹ سے چند ہی سکنڈوں میں دنیا بھر کے حالات وواقعات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔لیکن سوشل میڈیا نے صحافت کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر دور حاضر میں سوشل میڈیا صحافت کا ایک مقبول اور مؤثر ذریعہ متصور کیا جاتا ہے۔ اب دنیا بھر کی خبروں کے لیے مختلف ویب گاہوں پر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے چند سکنڈوں میں دنیا بھر کے معاملات سے باخبر ہوا جاسکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ جہاں سوشل میڈیا نے صحافت کی مقبولیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، وہیں اس کے معیار کو گرانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔دیکھا جائے تو صحافت کے گرتے معیار کا باعث خود ساختہ صحافی اور اُن کی صحافتی اصولوں سے ناواقفیت ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ خبر کی ’’خبری حیثیت‘‘ سے نامانوسیت بھی ایک سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔

نتیجے کے طورخود ساختہ صحافیوں کا ایک سیلاب اُمڈ آیا ہے جو مبادیاتِ صحافت سے قطعی نابلد نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی اُنھیں اپنے آپ کو صحافی لکھنے اور کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے ۔بعض کے یہاں تو صحافتی صلاحیت ہی مفقود ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اِن خود ساختہ صحافیوں کے نزدیک ہر ایک تازہ واقعات کی رپورٹ ’’خبر‘‘ کہلاتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی ’خبر‘ کی ایک تعریف ہے؛ لیکن صرف ’’تازہ رپورٹ‘‘ ہی خبر نہیں ہے۔ یعنی محض واقعہ کا تازہ پن خبر کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ تازگی کے ساتھ ساتھ واقعے کا غیر معمولی پن بھی لازم ہے۔کچھ ماہرین کے نزدیک واقعہ کا دلچسپ اور غیر متوقع ہونا خبر کے لیے لازم ہے۔اسی طرح بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ واقعہ کی مانوسیت اور معمولیت قاری کے تصور سے بالکل مختلف ہونی چاہیے۔ بعض کے یہاں خبر مصدقہ واقعات کے بیان کا نام ہے جس میں غیر معمولی پن کے ساتھ ساتھ انوکھا پن بھی شامل ہو۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی واقعہ خبر نہیں ہے بلکہ اُس کا ’’بیان‘‘ خبر ہے۔ اس تناظر سے خبر کے تئیں چار باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اول: خبر اہم ہو، دوئم: خبرلوگوں کو متاثر کرے، سوئم: خبر لوگوں میں تجسس پیدا کرے اور چہارم: خبر لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنے۔

یہی وجہ ہے کہ استعاراتی طور صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ صحافت کے بغیر جمہوریت کے دیگر تین ستون یعنی پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کا تصور ناگزیر ہے۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ تین میں سے دو یعنی انتظامیہ اور عدلیہ صحافت کو ایک اساس فراہم کرتی ہیں تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ اب ذرا خود اندازہ لگا لیجیے کہ ریاست کے تناظر سے صحافت کس قدر اہم اور سنجیدہ شعبہ ہے۔ اب اگر اسی شعبے کے ساتھ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے یا کسی طرح اس کے معیار کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے تو کیا ریاست کی فکری جڑوں کو زک نہیں پہنچ سکتا ہے۔؟ اس مناسبت سے کتاب ’’ابلاغ نامہ‘‘ کے مصنف محمد دلشاد کا خیال ہے کہ ’’صحافت ایک جادو ہے جس کے بول میں خیر و شر کی بجلیاں روپوش ہیں۔ ایک معمولی سی خبر، ایک افواہ یا ایک غلط بیانی کے وہ دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ کسی شخص کو بام شہرت پر پہنچانا ہو یا قعر مزلت میں دھکیلنا ہو، کسی جماعت یا تحریک کو قبولیت کی سند عطا کرنا ہو لوگوں کو اس سے متنفر کرنا ہو حکومت کی کسی پالیسی کو کامیاب بنانا یا ناکام کرنا ہو یا مختلف اقوام میں جذبات نفرت یا دوستی پیدا کرنا ہو تو یہ صحافت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔‘‘اس سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ صحافت کا کام بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔

میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ صحافت دو دھاری تلوار ہے؛ جس کے ایک طرف ریاست ہے ،جسے صحافت ایک بنیاد فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف عوام ہے، جسے صحافت سے اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیںکیوں کہ صحافت ہی حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ صحافت ہی عوام کی بہتر ترجمان اور نمائندہ ہے۔ صحافت نہ صرف عوام کی توقعات اور خواہشات کو حکومت وقت کے سامنے رکھ دیتی ہے بلکہ کئی سطحوں پر عوام کی تربیت اور رہنمائی بھی کرتی ہے۔ صحافت ہی وہ پیشہ ہے جس میں حق ، عدل، خیر اور فلاح کے پہلو مضمر ہیں۔ صالح صحافت قوم کی ترقی و ترویج میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

اس بات کا تذکرہ گزشتہ سطور میں بھی ہوا ہے کہ جہاں سوشل میڈیا نے صحافت کی مقبولیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، وہیں صحافت کے معیار کو کافی حد تک گرانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر خود ساختہ صحافیوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ آئے دن نئے نئے صحافی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گویا اب صحافی بننا نہایت ہی آسان معلوم ہوتا ہے۔ ایک فیس بک پیج بنا لیجیے، ایک عدد کیمرہ لے کر مائک تھام لیجیے تو بن گئے صحافی۔کیا اس طرح صحافت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔؟ یقینا نہیں! جملہ معترضہ کے طور یہاں عرض کرنا چاہوں گا؛ میں نے چند سال قبل ایک اخبار کی سرخیوں میں چند تسامحات کی طرف توجہ دلائی تھی تو بے زاری کے سوا کچھ نہ ہاتھ آیا ۔ آئے دن خود ساختہ صحافیوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ حالانکہ مجھے ان سے ذاتی طور کوئی رنجش نہیں ہے، مگر جو صحافی صحافت کے بلند معیار کو برقرار رکھنے کے بجائے پست کرے ، اُسے کیسے اور کیوں کر قبولا جائے۔؟خود ساختہ صحافیوں کی بڑھتی تعداد اگرچہ اس بات کی ضمانت ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان صحافت کی طرف راغب ہورہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں؛لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ صحافتی اصول و ضوابط سے ناواقفیت کی وجہ سے صحافتی اقدار و معیارات کی تنزلی بھی بڑھتی جارہی ہے۔(مضمون جاری ہے،دوسری قسط انشاء اللہ کل شائع کی جائے گی)
رابطہ۔شعبہ اُردو جامعہ کشمیر ،سرینگر
فو ن نمبر۔9149958892
ای میل۔[email protected]
(نوٹ۔مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اورانہیںکسی بھی طو ر کشمیر عظمیٰ سے منسوب کیاجاناچاہئے۔)