سوشل میڈیا پر شئیرنگ۔ذرا سوچئے!

ایک مسلمان جب کوئی نیک کام کر تا ہے تو ان کے اعمال نا مے میں نیکی لکھی جا تی ہے اور اگر گناہ کر تا ہے تو اعمال نا مے میں بدی لکھی جا تی ہے ۔ اس کے بر عکس کچھ ایسی نیکیاں اور گناہ ہیں،جن کی نیکی یا بدی ایک مرتبہ نہیں لکھی جا تی بلکہ بار بار اور مسلسل لکھی جا تی ہے ۔ اس کی مثال وہ نیکی یا بدی ہے جو آپ خود بھی کر تے ہیں اور ساتھ ساتھ دوسروںکو بھی کر نے کی ترغیب دیتے ہیں، تو ایسے میں اگر وہ نیکی کر تا ہے اور دوسروں کو بھی نیکی کر نے کی ترغیب دیتا ہے تو اس سلسلے میں ایک تو اس کی خود کی نیکی لکھی جا تی ہے اور دوسرے وہ لوگ جو اس کی ترغیب پر راہ راست پر آجا تے ہیں ،اُن کی نیکی میں بھی یہ برابر کا شریک ہو تا ہے۔ یہی مثال برائی کی بھی ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو تا ہے کہ ایک گنہگار جب تو بہ کر تا ہے تو ان کے گناہ تو معاف ہو جا تے ہیں لیکن جن لوگوں کو اس نے جس گناہ پر اُکسایا تھا اور وہ گناہ کر رہے ہو تے ہیں تو اُن کی گناہ میں یہ برابر کا شریک ہے اور قیامت کے دن اپنے بوجھ کے ساتھ ساتھ اُن کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا ئے گا ۔ آج کل تو سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے ، ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہو تا ہے اور موبائل میں سب سے عام جو ہے ،وہ فیس بک ہے ، جس میںہر قسم کے ویڈیوز آتے ہیں ، جن میں زیادہ تر فحا شی اور گندے قسم کے ہو تے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ وغیرہ بھی ہو تی ہے، اُس سے میں منکر نہیں ، اس کی طرف بعد میں آتا ہو ں۔پہلے گناہ کی ویڈیوز کی مثال دیتا ہو ں ۔ مثال کے طور پر آپ کے نیوز پر ایک گانا آیا، جن کے ساتھ ڈانس وغیرہ بھی تھا اور آپ نے اسے دیکھ لیا تو آپ کو اپنے حصے کی گناہ مل گئی اور جس نے یہ گانا شئیر کیا تھا، اُس کی دو گناہ ملیں گے ۔ اگر آپ نے اسے شئیر کیا تو کم از کم سو ، دوسو تو دیکھیں گے تو ان سب کے گناہ میں بھی آپ برابر کے شریک ہو نگے ۔ پھر فرض کریں کہ آپ نے تو تو بہ کیا تو آپ کی گناہ معاف ہو جائیں گے، مگر جو گناہ آپ نے پھیلا ئی ہے، اس کا کیا کرو گے ، اُس کو کیسے روکوگے ۔ تجر بے کے مطابق اس ویڈیوز کو روکنا نا ممکنات میں ہے کیونکہ اگر آپ کی وہ ویڈیو سو بندے دیکھتے ہیں اور اُن میں سے صرف دس بندے آگے شئیر کر یں گے اور ان کے بھی کم از کم سو ، دو سو دوست دیکھیں گے، تو ہزار بن جا تے ہیں ، اِسی طرح یہ آگے جا تی رہتی ہے ۔ تو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور غلط کام یا غلط بات کو آگے پھیلا نے کے بجائے نیکی کو آگے پھیلانا چاہئے ، جن کا ثواب آپ کو ملتا رہے گا اور کسی کو غلط کام کی طرف اُکسانا نہیں چاہئے۔یادرہے کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ساتھ اُن کے گناہوں کا بوجھ بھی آپ کے سر ہو گا اور ان کی گناہوں میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اُتنا ہی بوجھ اُن کے سر پر بھی ہو گا ۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ دوسروں کو نیک کاموں کی ترغیب دیں گے، نیکی کو پھیلا ئیں گے،تو انشا ء اللہ یہ ہمارے لئے صدقہ جا ریہ ہو گا ۔ جب تک وہ بندہ نیک عمل کر تا رہے گا، اُس کے برابر ثواب ہمیں ملتا رہے گا اور اُس کے ثواب میں ذرہ برابر کمی واقع نہ ہو گی ۔