! سوشل میڈیا سماجی تعلقات کا متبادل نہیں ٹیکنا لوجی کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات

رابعہ فاطمہ

دورِ حاضر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ویب سائٹ کی افادیت سے انکار ممکن نہیں، اس کی وجہ سے آج فاصلے سمٹ کرکم ہوگئے ہیں، اس کے ذریعے انسان اپنے سارے مسائل گھر بیٹھ کر حل کر سکتا ہے۔ آج دنیا گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے۔ فیس بک، ٹوئیٹر، موبائل ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور وائبر وغیرہ فوری طور پر ملنے والی عوامی رابطہ ویب سائٹس ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا کے صارفین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھ رہا ہے، مگر جس طرح ہر چیز کے مثبت پہلو ہوتے ہیں اور منفی بھی، یہی کچھ حال سوشل میڈیا کا بھی ہے، جہاں سوشل ویب سائٹس انفرادی اور گروہی سطح پر باہمی رابطوں کا ذریعہ اور اطلاعات اور خبروں کی ترسیل کا مؤثر ترین و سیلہ بن کر سامنے آئی ہے، وہیں ان کی وجہ سے معاشروں میں بہت سی اخلاقی اور سماجی خرابیوں نے بھی فروغ پایا ہے۔

ایسے ہی معاشروں میں ہمارا معاشرہ بھی شامل ہے، جہاں ہر ٹیکنا لوجی کے منفی اثرات، مثبت اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ خصوصاُ ہماری نئی نسل پر اس کے مضر اثرات زیادہ مرتب ہورہے ہیں۔ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کر رہے ۔ امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر، فیس بک اور پنٹریسٹ جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی وجہ سے زیادہ تعداد میں لوگ تنہائی محسوس کررہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایک دن میں دو گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال سے ایک فرد میں سماج سے الگ تھلگ ہونے کے امکانات دگنے ہوسکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ نوجوان جو ابتدائی طور پر معاشرے میں تنہائی محسوس کرتے ہیں، انھوں نے سوشل میڈیا کا رخ اختیار کیا ہو ۔ یا یہ ان کا سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقی دنیا میں تنہائی محسوس کرنے لگ گئے ہوں۔
سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کی اصطلاح ایسے افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دوستوں، گھروالوں یا اپنی برادری کے افراد سے بہت کم رابطے میں رہتے ہوں۔ ہنسی مذاق ، گپ شپ، یا سنجیدہ بحث کرتے جیسے مناظر اب تقریباً دور ماضی کی باتیں ہو چکی ہیں، اب عموماًیہ نوجوان اپنی جیب سے موبائل نکال کر گردن جھکائے مگن ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ کےا سکول آف میڈیسن کے پروفیسر برائن پریمیک کا کہنا ہے کہ،’ ’یہ ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ دماغی صحت کے مسائل اور سماجی تنہائی نوجوانوں میں وبائی امراض کی سطح پر ہیں۔
سوشل میڈیا کا تواتر سے استعمال خاص طور پر فیس بک کا استعمال سے صارف کی زندگی کے حوالے سے خیالات اور جذبات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں کو معاشرے سے دور کررہا ہے۔سعودی ماہر نفسیات ڈاکٹر ولید الزہرانی نے کہا،’’ کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نئی نسل سماجی تعلقات بنانے سے قاصر ہو رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ لوگوں سے میل جول اور تعلقات بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آن لائن ہزاروں دوست بنا لیتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں وہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ خاندان کے افراد کےدرمیان تک میل ملاپ نہیں ہے۔‘‘
سوشل میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک گیمز کی وجہ سے 12 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں میں مختلف نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ ہم اس خام خیالی میں ہیں کہ سوشل سائنس نے ہمیں ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ درحقیقت یہ ہمیں تنہا کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جتنا زیادہ طبقات، رہن سہن، طرزِ زندگی کا فرق نظر آتا ہے اتنا ہی نوجوان احساسِ کمتری کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹس پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر نوجوانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے۔ اکثرنوجوان ایسی تصاویر یا پوسٹ شئیر کرتے ہیں ،جن سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک انتہائی حیرت انگیز اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ جسے دیکھ کر اکثر نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جیسے ان کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے اور وہ ایک عام سی زندگی جی رہے ہیں، یوں وہ خود کو دوسروں سے بہت پیچھے تصور کرتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تنہائی جب بیماری کی حد تک بڑھ جاتی ہے تو ذہن و جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔نوجوانوں میں سماجی میل جول نہ رکھنا موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ گلوکوز میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سماجی میل جول نہ رکھنا اور تنہائی دونوں سے عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کو منفی اثرات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہا جائے، اپنی تنہائی کو سوشل میڈیا پر بانٹنے کی بجائے اصل زندگی میں کسی کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ سوشل میڈیا کو اضافی چیز سمجھا جائے نہ کہ سماجی تعلقات کا متبادل۔

آنے والا وقت ٹیکنالوجی کی کیا نئی نئی اور حیرت انگیز ایجادات پیش کرے گا ہم شاید اس کا تصور بھی نہ کرسکیں لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اگر بر وقت اقدامات نہیں کیے گئے تو ٹیکنالوجی سے ہونے والے نقصانات دن بہ دن بڑھتے ہی جائیں گے۔

ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کے نقصانات کو بھی نئی نسل کے سامنے پیش کریں اور انھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔