سوشل میڈیا؍انٹی سوشل میڈیا

پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں20  ؍جولائی کو گائے کے تحفظ کے نام پر ہجومی حملوں اور ہلاکتوں کے موضوع پر، جسے انگریزی میں ماب لنچنگ (Mob Lynching) کہا جا رہا ہے، بحث چل رہی تھی۔ بحث کا آغاز سینئر کانگریس رکن اور قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے کیا۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ گزشتہ تین برسوں میں ہونے والے حملوں پر روشنی ڈالی اور آخر میں پُرزور انداز میں کہا کہ یہ مذہب اور فرقے کی لڑائی نہیں ہے۔ یہ سنگھ پریوار بمقابلہ دیگر کی لڑائی ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان حملوں میں برسراقتدار جماعت کے لوگ شامل ہیں اور اپوزیشن کا خیال ہے کہ نام نہاد گؤ بھکتوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ ہم اپنا کام کرتے ہیں تم اپنا کام کرو۔ چونکہ اس الزام میں بہت حد تک صداقت ہے اس لیے حکمرا ںجماعت کے لوگ خاموش رہے لیکن جب سماجوادی پارٹی کے رکن نریش اگروال نے اپنی تقریر میں ۱۹۹۲ء میں رام مندر تحریک کے دوران ایک جیل کا واقعہ بیان کیا جہاں بقول ان کے خود ساختہ رام بھکت قید تھے اور وہاں دیوار پر لکھی ایک تحریر کو نقل کیا تو بی جے پی لیڈروں کو ہنگامہ کرنے کا ایک موقع مل گیا۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ نریش اگروال نے نہ صرف دیوی دیوتاؤں کا اپمان کیا ہے بلکہ پورے ہندو سماج کا اپمان کیا ہے۔ حزب اقتدار کے قائد ارون جیٹلی نے انتہائی غضب ناک انداز میں کہا کہ اگر نریش اگروال نے یہی بات ایوان کے باہر کہی ہوتی تو ان کے خلاف مقدمہ ہو گیا ہوتا۔ اگروال پر بیان واپس لینے اور معافی مانگنے کا دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ بالآخر پندرہ منٹ تک کارروائی بند رہنے کے بعد جب دوبارہ شروع ہوئی تو اگروال نے معافی مانگ لی۔ ایوان کے ڈپٹی چیئرمین پی جے کورئین نے ہدایت دی کہ اگروال کے متنازعہ بیان کو ایوان کی کارروائی سے نکال دیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس کی رپورٹنگ نہ تو پرنٹ میڈیا کرے اور نہ ہی الیکٹرانک میڈیا۔ ترنمول کانگریس کے رکن ڈیرک او برائن نے سوشل میڈیا کا سوال اٹھایا اور کہا کہ اسے کیسے روکا جائے گا؟ اس پر آئی ٹی وزیر روی شنکر پرساد سے وضاحت طلب کی گئی تو انھوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے کو اس بارے میں ہدایت جاری کی جائے گی۔ اس طرح معاملہ ختم ہو گیالیکن اسی روز کئی نیوز چینلوں نے اس کی رپورٹنگ کی اور نریش اگروال کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں یہ دلیل دی کہ نریش اگروال نے صرف ایک تحریر کو نقل کیا ہے جب کہ اس سے قبل ایک خاتون وزیر کالی ماں کو گالی دے چکی ہیں۔ ان پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس کا جواب حکمراں محاذ نے نہیں دیا۔ بہر حال اگلے روز مختلف اخباروں میں بھی یہ واقعہ شائع ہوا اور اس انداز میں شائع ہوا کہ نریش اگروال کے خلاف ایک ماحول بن جائے۔ ماحول بن بھی گیا اور لکھنؤ اور ہردوئی میں ان کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ ارون جیٹلی کے بیان سے شہ پاکر بی جے پی کے ایک لیڈر نے اگروال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرا دی۔ دوسرے روز راجیہ سبھا میں یہ معاملہ پھر اُٹھا اور کہا گیا کہ ممبران پارلیمنٹ کو جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں ان کے پیش نظر ایوان میں کہی گئی کسی بات پر اس کے باہر کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن ایوان کے باہر ایف آئی آر لکھائی گئی ہے جو کہ پورے ایوان کی توہین اور مراعات شکنی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اس پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جس پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن اسی شام کو ایک نیشنل نیوز چینل نے ممبران پارلیمنٹ کو حاصل خصوصی اختیارات پر ایک خصوصی پروگرام کیا اور ممبران کو حاصل مراعات کے خلاف رپورٹنگ کی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں میڈیا نے مذکورہ معاملے پر جانبدارانہ انداز میں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی لیکن اس بارے میں تادم تحریر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ 
اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آج کل کس طرح میڈیا نے حکمران طبقے کی خوشامد کو اپنا فرض منصبی بنا لیا ہے۔ اگر کوئی جرم حکمراں طبقے سے سرزد ہو تو اس پر خاموشی احتیار کی جاتی ہے اور اگر وہی جرم اپوزیشن سے سرزد ہو تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے کہیں آگے سوشل میڈیا ہے۔ آج کل Fake News یعنی جھوٹی خبروں کا بھی ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس کا بیڑہ ’’بھکتوں‘‘نے اٹھا رکھا ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ اب کچھ ایسی ویب سائٹس بن گئی ہیں جو ان جھوٹی خبروں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہی میں ایک ویب سائٹ آلٹ نیوز ڈاٹ اِن (altnews.in) ہے۔ اس ویب سائٹ پر سنگھی ذہنیت کے لوگوں کی پول کھولی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں مغربی بنگال کے بشیر ہاٹ اور بدوریہ میں فرقہ وارانہ فساد ہو گیا تھا۔ اسی دوران گجرات کے وڈاولی میں بھی فساد ہوا۔ بشیر ہاٹ میں ایک ہندو لڑکے کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ اور خانہ کعبہ کی قابل اعتراض تصویر پوسٹ کرنے پر مسلمانوں کے ایک گروپ نے ہندووں کے گھروں اور دکانوں پر حملہ کیا۔ وڈاولی میں مسلم اور ہندو اسٹوڈینٹس کے درمیان کسی بات پر ہنگامہ ہوا اور پانچ ہزار ہندووں کی مشتعل بھیڑ نے مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نشانہ بنایا۔ مسلمانوں کے ۴۲؍ گھروں کو لوٹا اور نقصان پہنچایا گیا اور ۱۰۰؍ گھر نذر آتش کر دیے گئے۔ دو افراد کی موت ہوئی اور پندرہ بیس افراد زخمی ہوئے، جب کہ بشیر ہاٹ میں’’ ہندوستان ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہندووں کے درجنوں گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا اور جلایا گیا اور ایک درجن پولیس گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دو درجن افراد زخمی ہوئے اور ایک شخص کی موت ہوئی لیکن میڈیا کی نگاہ وڈاولی فساد پر نہیں اٹھی۔ اس نے اس کی کوئی کوریج نہیں کی۔ اسے معمولی فساد کہہ کر نظرانداز کر دیا گیا۔ کسی نے اس کے بارے میں سنا بھی نہیں لیکن بشیر ہاٹ فساد کو بہت بڑے فساد کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اسی کے ساتھ سنگھی ورکروں کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ میڈیا نے بشیر ہاٹ فساد کی رپورٹنگ نہیں کی۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے انچارج امت مالویہ نے سوال اٹھایا کہ میڈیا نے بشیر ہاٹ فساد کی کوریج کیوں نہیں کی۔ آلٹ نیوز کے مطابق ان کا یہ الزام بے بنیاد ہے۔ مضمون نگار سیم جاوید نے ثبوتوں کے ساتھ امت مالویہ کے الزام کی بخیہ ادھیڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ میڈیا نے بشیر ہاٹ فساد کی تو خوب کوریج کی جب کہ وڈاولی کے فساد سے چشم پوشی کی۔ تفصیلات کے مطابق صرف این ڈی ٹی وی نے وڈاولی فساد کی ایک ویڈیو دکھائی۔ باقی کسی بھی چینل نے نہیں دکھائی، جب کہ بشیر ہاٹ کے بارے میں سی این این آئی بی این نے ایک، این ڈی ٹی وی نے8، ٹائمس ناؤ نے11، نیوز ایکس نے 22، انڈیا ٹوڈے نے 19، زی نیوز نے 9، انڈیا ٹی وی نے 10، آج تک نے 4 اور رپبلک نے 13 ویڈیوز دکھائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی بشیر ہاٹ فساد پر زبردست ہنگامہ جاری رہا جبکہ وڈاولی فساد پر خاموشی چھائی رہی۔ ٹویٹر پر بھی بشیر ہاٹ کے سلسلے میں آسمان سر پر اٹھانے اور فرقہ وارانہ خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ٹائمس ناؤ نے وڈاولی پر ایک ٹویٹ کیا اور بشیر ہاٹ پر 40 ٹویٹ کیے۔ بشیر ہاٹ کے معاملے میں کس طرح ایک بنگلہ دیش کی ویڈیو اور ایک بھوجپوری فلم کے سین کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے ہندووں کو مسلمانوں اور ممتا حکومت کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی گئی یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ فلم کے سین کو یہ کہتے ہوئے پوسٹ کرنے پر کہ مغربی بنگال میں ہندو عورتوں کی عزت محفوظ نہیں ہے، بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سکریٹری کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بی جے پی کی ایک خاتون لیڈر نے ہندووں سے یہ کہہ کر ایک ہنگامہ برپا کیا کہ اپنی بہو بیٹیوں کو مغربی بنگال بھیج دو، پندرہ روز کے اندر ان کا ریپ ہو جائے گا۔ اسی طرح سنگھ پریوار سے وابستہ افراد نے بشیر ہاٹ کے فساد کو ہندووں کے خلاف ایک بہت بڑا فساد بنا کر پیش کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود انھی لوگوں نے ہی آگ میں گھی ڈالا تھا۔ در اصل بی جے پی کی نظریں اب مغربی بنگال پر ہیں۔ اسی لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کی عصبیت کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جو آگے پیش کی جائیں گی۔ اس وقت سب سے خطرناک سوشل میڈیا ہو گیا ہے۔ بھکتوں کی پوری بھیڑ اس پر سرگرم ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اسے انٹی سوشل میڈیا بھی کہنے لگے ہیں۔