سورج اور زمین – کون متحرک کون ساکن ؟

ایک نا ایک دن فناہوجانے والے اس کائنات میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر بے شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی بے شمار موجودگی کائنات کے حسن کو نکھارتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھتی ہے۔توازن ہی کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ  (Matter)  اور ضدِمادّہ  (Antimatter)  پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے  (Clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔کائنات کے ماڈل کے متعلق کے سائنس دانوں کے دو متفرق اور متضاد نظریات رہے ہیں۔ایک نظریہ وہ تھا جس میں زمین کائنات کے مرکز میں ساکن ہے اور سورج اور دیگر سیارے زمین کے چاروں طرف دایر ۂ نمومدار میں گردش کر رہے ہیں۔ اس نظریہ کو Geocentrism کہا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی قدیم نظریہ تھا اور اس نظریہ کے ماننے والوں میں زیادہ تر قدیم یونانی فلاسفر مثلاََارستو (Aristotle) پلیٹو (Plato) اور اسکندریہ کے  Ptolemy تھے۔Geocentrism کا یہ نظریۂ سائنس کی دنیا میں بہت ہی مقبول رہا اور تقریباََدو ہزار سالوں تک پوری دنیا میں اسی نظریہ کی تعلیم دی جا رہی تھی۔لیکن 16ویں صدی کے ابتدا میں فلکیات کی دنیا میں ایک نیا انقلاب پیدا ہوا ،جس نے کائنات کے ماڈل کے تصور کو ہی بدل ڈالا اور Heliocentrism کے نام سے ایک نیا نظریہ سامنے آیا۔ اس نظریہ میں یہ بات کہی گئی کہ کائنات کے مرکز میں سورج واقع ہے اور اس کے چارو طرف زمین اور دوسرے سیارے گردش کر رہے ہیں۔
اس نظریہ کو سب سے پہلے پیش کیا پولینڈ کے ماہر فلکیات نیکولس کوپرنیکس (1473-1543) نے۔ اس نے اپنی کتاب On the Revolutions of the Celestial Spheres میں کہا کہ کائنات کا مرکز سورج کے قریب ہے، آسمان میں جو بھی حرکت نظر آتی ہے وہ آسمان کے حرکت کے سبب نہیں ہے، بلکہ زمین کے گردش کے وجہ سے ہے، سورج کی بھی حرکت جسکا ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ بھی سورج کی اپنی حرکت کے وجہ سے نہیں ہے بلکہ زمین کی حرکت کی وجہ سے ہے۔
اس کے بعد جرمن کے ماہر فلکیات جان کیپلر (1571- 1630) نے سیارے کے گردش کے تین کلیہ دریافت کئیں اور پہلی مرتبہ Circular orbit کے جگہ Elliptical orbit   کا تصور دیا۔ سبھی سیارے سورج کے گرد Elliptical orbits   میں چکر لگاتے ہیں اور جب کوئی بھی سیارہ سورج  کے قریب ہوتا ہے تو تیز رفتار سے سفر کرتا ہے اور سورج سے جتنا زیادہ دور پر سیارہ ہوتا ہے اتنا ہی بڑا اس کا مدار ہوتا ہے۔اس کے بعد اٹلی کے ماہر فلکیات گیلیلیو (1564- 1642) نے Heliocentrism   کے نظریہ کو آگے بڑھایا، جس کی وجہ سے اسکو چرچ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا عقیدہ بائیبل کے عقیدہ سے ٹکڑا رہا تھا۔اس کے اس عقیدہ پر کہ سورج کائنات کے مرکز میں ساکن ہے اور زمین اس کا چکر لگاتا ہے اسے ملحد قرار دیا گیا اور تاحیات اسے گھر میں نظر بند رکھا گیا اور ملحد ہی مرا۔اس کے بعد انگلینڈ کا مشہور ساینسداں نیوٹن (1642_1727) نے Law of gravitational force of attraction   دریافت کیا جس کے مطابق اجرام فلکی کے مابین قوت کشش کام کرتی ہے۔ زمین اپنی مدار پر اس لئے ٹکا ہوا ہے کہ اس پر سورج کی قوت کشش کام کرتی ہے۔
ایک بات قابل غور ہے کہ جس وقت ارسطو اور ٹالیمی کا Geocentrism   کا نظریہ پوری دنیا میں علم فلکیات کا ایک مسلم عقیدہ بن چکا تھا، عین اسی دوران قدیم یونانی ماہر فلکیات Aristarchus of Samos نے سب سے پہلے کائنات کا Heliocentric Model   پیش کیا اور بتایا کہ کائنات کے مرکز میں سورج ہے اور زمین اسکا چکر لگاتے ہیں ،لیکن ان کا یہ نظریہ اس وقت تسلیم نہیں کیا گیا ہے پھر بعد میں کوپرنیکس کیپلر اور گیلیلیو اس نظریہ کے حامی بنے۔
ڈنمارک کا ایک ماہر فلکیات جو  Tycho Brahe  کے نام سے مشہور ہے اس نے Geocentrism   اور Heliocentrism   کے اختلاط سے  Geo -Heliocentric  System   کا  نظریہ پیش کیا اور اس کے مطابق سورج اور چاند زمین کے گردش کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیارے (Mercury, Venus, Mars, Jupiter اور Saturn)  سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔   1616 کے بعد Tycho System   بہت ہی مقبول ہوا اور بہت لوگ اس نظریہ کے قائل ہوئے۔ کیوں کہ دوسری طرف روم نے یہ اعلان کردیا تھاکہ Heliocentrism Model of  niverse   U مقدس کتاب کے عقائد کے خلاف تھا ۔
ہمارے یہاں سائنس کے بارے میں ایک تعصب اور عناد کا رویہ اپنایا جاتا ہے، بارہا یہ سننے کو ملتا ہے کہ سائنس کا علم غیر یقینی ہے،غیر قابل اعتماد ہے، اس کا علم بدلتے رہتا ہے، سائنسداں آج کچھ کہتا ہے کل کچھ کہتا ہے،سائنس کے ساتھ ایسا تب ہوتا تھا ،جب وہ اپنے طفلانہ دور میں تھا، ایک سائنسداں ایک نظریہ پیش کرتا، بعد میں دوسرا سائنسداں آتا اور اس کے نظریہ کی اصلاح کرتا، پھر تیسرا آتا اور ا س میں مزید اصلاح کرتا۔سائنس کا علم اتنے سارے منازل کو طے کرکے آگے بڑھتا ہے اور پھر قیاسی علم سے حقیقی علم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سائنس کے علم کا یہ سفر ایک دن کا نہیں ہوتا اس میں سالوں لگ جاتے ہیں۔
سائنس اپنے علم کو زورو زبردستی منوانا نہیں چاہتا ،وہ اس کے لئے ثبوت اور شواہد فراہم کرتا ہے۔اس کاایک اچھا مثال Heliocentrism   کا Geocentrism   پر فتحیاب ہونا ہے۔ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ Geocentrism   کا عقیدہ علم فلکیات کی دنیا میں دو ہزار سال تک غالب رہا۔ اب جیو سینٹرزم کا نظریہ ساینسی کا یقینی علم بن چکا ہے، جس کے حق میں دن رات کا ہونا، موسم کی تبدیلی، سورج اور چاند گرہن کا ہونا، Coriolis force   جیسے vidences  E  پیش کئے جاتے ہیں۔
سائنس کا علم یقینی اس لئے ہوتا ہے کہ سائنسی دلائل مشاہدہ، تجربات اور استدلال پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا توسائنس کے کمالات اور عجائبات ممکن نہ ہوتے، سائنسی علوم کہ حق ہونے کی یہ دلیل کافی ہے کہ آپ کے گھروں میں Electrical   اور Electronic   کے سامان موجود ہے۔ اگر سائنس کا علم متغیر ہوتے رہتا، تو ہونا یہ چاہئیے تھا کہ آپ پنکھا کا سویچ آن کرتے اور پنکھا نہیں چلتا اور فریج میں رکھا ہوا پانی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔
سائنس کا کام ہے ،اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے کائنات کا مشاہدہ کرنا اور اس میںواقع ہونے والے قدرتی مظاہر کے اسباب کو بیان کرنا ہوتا ہے ،مثلاً جوار بھاٹا کیوں  ھوتا ہے، زلزلے کیوں آتے ہیں، سورج اور چاند گرہن کیوںکر ہوتے ہیں،دن رات کیوں ہوتے ہیں یا موسم کی تبدیلی کیسے ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ، 
سائنس یہ دریافت کرتی ہے کہ اللہ کا کون سا قانون یا کلیہ ہے ،جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ نیوٹن نے اگر یہ بات کہا کہ سیب زمین پر قوت کشش کے سبب درخت سے نیچے گر گیا تو اس نے قوت کشش کو پیدا نہیں کیا بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق ہے، اسی طرح کلیہ اور قانون کا بھی وہی خالق ہے اور اسی مخفی اور پوشیدہ قانون کو دریافت سائنس کرتی ہے۔
زمین ساکن ہے یا سورج یا زمین متحرک ہے یا سورج ہمارے دین میں یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب ہم  Geocentrism  یا Heliocentrism   کے نظریات کو قرآن مجید میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔اگر ہم صرف اس بات پر اکتفا کریں کے قرآن مجید سورج، چاند اور دیگر اجرام فلکی کے بارے میں کیا بات کہتا ہے اور کتنا بات کہتا ہے تو مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کلام پاک ہر دور کے لوگوں کے لئے ہے۔ اس لئے اس میں کوئی بھی بات اس طرح سے بیان نہیں ہوتا کے کسی خاص دور کے لوگوں کے لئے اس کے سمجھنے میں الجھن پیدا ہو، مثلاََ  نزول قرآن کے وقت جب یہ بات قرآن مجید میں کہی گئی کہ سورج اور چاند دونوں اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں (سورہ یس آیت ۔  38.39.40کا مفہوم)تو اس وقت Geocentrism   کا نظریہ دنیا میں رائج تھا اور اس نظریہ میں سورج کے گردش کو تسلیم کیا گیا تھا، اس لئے اس وقت کے لوگوں کے لئے بھی قرآن کے بیان اور سائنس کے بیان میں کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ اسی طرح  اس وقت بھی اور ابھی بھی اگر عوام الناس کے مشاہدہ کے نظریہ سے دیکھا جائے، تو بھی قرآن مجید کا بیان حق ہے کیونکہ ہم اور آپ سبھی سورج کو مشرق میں طلوع اور مغرب میں غروب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور چاند کو بھی مغرب سے مشرق کے طرف گردش کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس ترقی کے دور میں بھی یورپ کے لوگ ہوں یا ایشیا یا افریقہ کے کوئی بھی، کہیں کے لوگ ہو، طلوع آفتاب (Sunrise)  اور غروب آفتاب (Sunset)  کے اصطلاح کا استعمال سب نے کیا۔
16ویں صدی کے آغاز میں ہی جب eliocentrism  H  کا  نظریہ Geocentrism   کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو قائم کیا، تب بھی قرآن مجید کے بیان پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ جدید نظریہ بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ سورج اپنے مدار پر چکر لگاتے رہتا ہے، حالانکہ وہ اس بات کو نہیں مانتا کہ سورج زمین کا گردش کرتا ہے جو قدیم نظریہ میں کہا گیا تھا۔ قرآن اس معاملہ میں سکوت اختیار کیا کہ سورج زمین کا طواف کرتا ہے وہ صرف اتنا بیان کیا کہ سورج اپنی مدار میں گردش کرتا ہے۔ سائنس کے مطابق سورج کو اپنے محور پر ایک چکر لگانے میں 27 دن لگتے ہیں۔ سورج اپنے پورے نظام شمسی کے  ساتھ کہکشاں (Milky way) کے مرکز کے اطراف 828000کیلو میٹر فی گھنٹہ کے رفتار سے گردش کر رہا ہے اور اس رفتار سے چکر لگانے پر بھی اسے ایک چکر پورا کرنے میں 230 سے 250  ملین سال لگیںگے۔
چونکہ سائنس یہ دریافت کر چکی ہے کہ تمام کے تمام اجرام فلکی ،بشمول ستارے، سیارے، کہکشاں، شہاب ثاقب کائنات میں گھوم رہے ہیں اور قرآن مجید نے بھی سورج اور چاند کے گردش کو بیان کیا ہے اور جس طرح سورج اور چاند اجرام فلکی ہیں اور ہماری زمین بھی سورج اور چاند کے مانند  ایک اجرام فلکی ہے تو سورج اور چاند کے گردش کا اطلاق زمین پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک بات اور قابل غور ہے کہ قرآن پاک جتنی بات اجرام فلکی سے متعلق بیان کریں اس پرہی پر صبر کرنا چاہئیے، اس کے مزید تفصیل میں نہیں پڑنا چاہئیے۔مثال کے طور پر عربی لفظ فلک کا ترجمہ مدار کیا گیا ہے۔ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں اب ہمیں مدار کی نوعیت کے بارے میں چھان بین نہیں کرنی چاہئیے، کیونکہ قدیم فلکیات یعنی جیوسینٹرزم میں مدار Circular   تھا لیکن جدید فلکیاتی نظریہ میں مدار Elliptical   ہے  اور سورج دو Focii   میں سے کسی ایک  Focus   پر واقع ہے۔
رابطہ:    9968012976
 
 
 
معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟
طب وصحت
لیاقت علی جتوئی
تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔
تیزابیت کی عام وجوہات :  اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔
تیزابیت میں مفید غذائیں:    صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے سے غذائی نالی کاخارجی راستہ بند ہوجاتاہے۔ اس سے ایسیڈیٹی کی شکایت ہوتی ہے اور گیسٹروکامرض لاحق ہونے کاخطرہ رہتاہے۔
اگرغذاکاصحیح انتخاب کیاجائے تو تیزابیت سے بچاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کوکم کیاجاسکتاہے۔ گیسٹرک ایسڈ سے بچنے کے لئے ان غذاؤں کاروزانہ استعمال مفید رہتاہے۔
دلیہ:   جی ہاں! یہ بچوں والی خوراک ہے لیکن بدہضمی میں انتہائی مفید ہے۔ اس کا شمار نرم اور زود ہضم غذاؤں میں ہوتا ہے، اسی وجہ سے ڈاکٹرز تیزابیت میں دلیہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر اپھارہ اور واٹر ریٹنشن کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے۔ یہ پیٹ میں موجود اضافی ایسڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔ کچھ اور فائبر سے لبریز غذائیں جیسے گندم اورچاول کی مصنوعات بھی فائدہ مند رہتی ہیں۔
ادرک:   تیزابیت میں ادرک کااستعمال بہترین ہے۔ ادرک میں اینٹی آکسیڈنٹ اوراینٹی انفلیمنٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ تیزابیت کے ساتھ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اورپیٹ کے دیگرامراض میں بھی مفید ہے۔اگرآپ کوتیزابیت کے ساتھ ساتھ سینے میں جلن کی شکایت ہوتوادرک کاقہوہ بناکراسے کمرے کے درجہ حرارت پرآنے پر پی لیں۔ تازہ ادرک کا چھوٹا ٹکڑا اسمودھی، سیریل اور دیگر غذاؤں کے ساتھ لیاجاسکتا ہے۔
ہرے پتوں کی سبزیاں:   ہرے پتوں کی سبزیاں جیسے پالک ،پودینا،دھنیا،میتھی،کیلے،بندگوبھی وغیرہ کو اگراپنی روزمرہ غذاکاحصہ بنالیاجائے تو تیزابیت کی شکایت سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے۔ تیزابیت کا مسئلہ ہوتا ہی غذا کے غلط استعمال کے سبب ہے ۔ اگرغذا کا متوازن استعمال کیا جائے تو اس مسئلے سے بچاجاسکتاہے۔
دہی:   جب بھی سینے میں جلن اور ایسیڈیٹی کی شکایت ہو تو ایک پیالہ ٹھنڈا دہی استعمال کریں۔ دہی کھانے کے بعد آپ خود حیران رہ جائیں گے کہ کتنی جلدی آپ کی طبیعت میں بہتری آتی ہے۔ دہی میں کیلا یا خربوزہ شامل کرکے آپ اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ دہی کی غذائیت اس مسئلہ کوختم کرکے آپ کو توانائی بھی فراہم کرتی ہے۔
کیلا:   کیلے میں الکلائن موجود ہوتاہے اسی لئے یہ ایسیڈیٹی میں کارآمد رہتاہے۔کسی بھی ایسے مسئلے کی صورت میں آپ ایک سے دوکیلے کھاسکتے ہیں۔ کیلے ذائقہ میں مزیدارہوتے ہیں اسی لئے انہیں کھانامشکل نہیں ہوتا۔ اس کے استعمال سے آپ کم وقت میں طبیعت میں کافی بہتری محسوس کریں گے۔
خربوزہ :   خربوزہ ایک الکلائن پھل ہے۔ ایسیڈیٹی کی شکایت میں آپ اسے ٹھنڈاکرکے یااسمودھی کے طورپربھی لے سکتے ہیں۔یہ پیٹ کے لئے نہایت مفید پھل ہے۔ اس کے استعمال سے منٹوں میں آرام آتاہے۔ یہ گرمی میں ہونے والی پانی کی کمی کودورکرکے پیٹ کوصحت مند رکھتاہے۔
گُڑ :  گُڑ میں میگنیشیم وافرمقدار میں پایا جاتا ہے، جو نظام ہضم کو قوت بخشتا اور تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کھانے کے بعد گُڑ کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوسیں۔ اس کے استعمال سے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے۔
تلسی کے پتے:   تلسی کے پتوں میں بھی معدے کی گیس ختم کرنے والی خصوصیات موجود ہیں۔ لہٰذا جب بھی پیٹ میں گیس محسوس ہو تلسی کے چند پتے دھوکر چبالیں یا دو سے تین پتوں کو ایک کپ پانی کے ساتھ اُبالیں، چند منٹ پکنے دیں اور پھر چھان کر پی لیں۔
سونف :   کھانے کے بعد سونف کے چند دانے کھا لینا بھی تیزابیت سے بچا جاسکتا ہے۔ اس میں موجود تیل بدہضمی اور پیٹ کو پھولنے سے بچاتا ہے۔ نظام ہضم درست رکھنے کے لیے سونف کی چائے بھی فائدہ مند ہے۔
ان غذاؤں کے علاوہ، کیلے، ٹھنڈا دودھ یا ناریل کا پانی پینا بھی فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔ زیرہ کے چند دانے چبانا یا اس کا پانی پینا، سبز الائچی کے 2 دانوں کو پانی میں اُبال کر اُسے ٹھنڈا کرکے پی لینا، ایک چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملاکر خالی پیٹ استعمال کرنا بھی تیزابیت میں فوری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔
احتیاط:   ایک طرف جہاں مندرجہ بالا غذائیں کھانے سے تیزابیت میں معدے کو فائدہ پہنچتا ہے، وہاں ان غذاؤں کے ساتھ ساتھ اگر چند احتیاطوں پر بھی عمل کرلیا جائے تو فائدہ زیادہ اور تیز تر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آہستگی سے کھائیں اور نوالہ اچھی طرح چبائیں، سونے سے تھوڑی دیر پہلے کھانے سے گریز کریں، بلکہ آخری غذا نیند سے3گھنٹے پہلے کھائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں اور تمباکو نوشی سے گریز کریں، ساتھ ہی ذہنی تناؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔
������
 
 
 
کووِڈ۔19سے متاثرہ صحت یاب لوگ
ایک سال بعد بھی دِل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ
انکشاف و انتباہ
ویب دیسک
کووڈ کے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین کی تحقیقی رپورٹوں کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والا نقصان بیماری کے ابتدائی مراحل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی ہارٹ فیلیئر اور جان لیوا بلڈ کلاٹس (خون جمنے یا لوتھڑے بننے) کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویٹرنز افیئرز سینٹ لوئس ہیلتھ کیئر سسٹم کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد (ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی) میں بھی یہ خطرہ ہوتا ہے۔
امراض قلب اور فالج پہلے ہی دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات بننے والے امراض ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کی جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے مابعد اثرات واضح اور ٹھوس ہیں، حکومتوں اور طبی نظام کو لانگ کووڈ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے جاگنا ہوگا جس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد 12 ماہ کے دوران ہارٹ اٹیک، فالج یا دل کی شریانوں سے جڑے دیگر بڑے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد دریافت کیا گیا کہ اس بیماری سے محفوظ رہنے والوں کے مقابلے میں کووڈ 19 کے ایسے مریض جو ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے تھے ان میں بیماری کو شکست دینے کے ایک سال بعد ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 39 فیصد اور جان لیوا بلڈ کلاٹ کا امکان دگنا بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل رہنے والے مریضوں میں کارڈک اریسٹ (اچانک حرکت قلب تھم جانے) کا خطرہ 5.8 گنا جبکہ دل کی پٹھوں کے ورم کا امکان لگ بھگ 14 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔کووڈ 19 کے ایسے مریض جو آئی سی یو میں زیرعلاج رہے ان میں سے لگ بھگ ہر 7 میں سے ایک کو بیماری کے بعد ایک سال کے اندر دل کی خطرناک پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔محققین ابھی تک کووڈ کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والے نقصان کی وجوہات مکمل طور پر جان نہیں سکے مگر ان کے خیال میں اس کی ممکنہ وجوہات میں وائرس کا براہ راست دل کے پٹھوں کے خلیات، خون کی شریانوں کے خلیات، بلڈ کلاٹس اور مسلسل ورم ہوسکتے ہیں۔کووڈ کے مریضوں میں جلد کا ایک عام مسئلہ ممکنہ طور پر وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کے ردعمل کا ایک اثر ہوتا ہے۔کووڈ ٹو (Covid toe) ہاتھوں اور پیروں پر سرخ اور سوجن کی شکار جلد کے ایسے حصے ہوتے ہیں جن میں خارش محسوس ہوتی ہے اور کئی بار یہ مسئلہ مہینوں تک برقرار رہتا ہے۔عام طور پر یہ نشانی کووڈ سے متاثر ہونے کے بعد ایک سے 4 ہفتوں کے دوران ظاہر ہوتی ہے ہے اس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں سوج جاتی ہیں یا ان کی رنگت بدل جاتی ہے۔
اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ کووڈ کے مریضوں کی اس علامت کی وجہ کیا ہے مگر اب ایک نئی تحقیق پر اس کی وجہ سامنے آئی ہے۔طبی جریدے برٹش جرنل آف ڈرماٹولوجی میں شائع تحقیق میں اس مسئلے کے شکار 50 مریضوں کے ساتھ اس وبا سے قبل اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنے والے 13 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔محققین نے دریافت کیا کہ اس مسئلے کے پیچھے جسم کا مدافعتی ردعمل ہوتا ہے جس کے دوران بہت زیادہ مقدار میں مخصوص اینٹی باڈیز بنتی ہیں، جو وائرس کے ساتھ ساتھ مریض کے خلیات اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ خون کی شریانوں میں موجود مدافعتی خلیات کووڈ ٹو میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ کووڈ کے مریضوں کے اس مسئلے کے بارے میں اب تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا مگر ہماری تحقیق میں نئی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔اس سے پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ یہ کووڈ کی غیر تصدیق شدہ علامات میں سے ایک ہے جس کے شکار افراد کے ہاتھوں یا پیروں میں سرخ یا جامنی رنگ کے نشانات ابھر آتے ہیں۔مگر اب محققین نے بتایا کہ ہاتھوں اور پیروں میں یہ نشانات اکثر بغیر علامات والے مریض بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ماہرین کے مطابق مسئلے کی وجہ معلوم ہونے کے بعد اس کے علاج کے لیے زیادہ مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد مل سکے گی۔
اس سے قبل مئی میں نگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے بتایا تھا کہ ناخنوں میں عجیب نشان بن جانا کچھ عرصے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی ایک نشانی ہوسکتی ہے۔پروفیسر ٹم اسپیکٹر دنیا کی سب سے بڑی کورونا وائرس کی علامات کی تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔انہوں نے نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثر افراد میں صحتیابی کے بعد چند ماہ کے اندر ہاتھوں اور پیروں کے ناخنوں پر افقی لکیریں ابھر سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انہیں متعدد افراد سے کووڈ نیلز کی رپوورٹس زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈی ایپ میں موصول ہوئی ہیں۔پروفیسر ٹم نے بتایا کہ ناخنوں پر اس طرح کے اثرات غیرمعمولی نہیں کیونکہ دیگر بیماریوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔
ماہرین کے خیال میں کسی بیماری کے خلاف نگ کے دوران پیدا ہونے والا تناؤ ناخنوں پر اس طرح کی لکیروں کا باعث بنتا ہے۔اس عرصے میں ناخن بڑھتے نہیں اور پروفیسر ٹم کے مطابق یہ نشان ایک درخت کی طرح کسی ایونٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔برٹش ایسوسی آف ڈرماٹولوجسٹ کی صدر ڈاکٹر تانیہ بیکر نے بتایا کہ جلدی امراض کے ماہرین نے کووڈ 19 کے مریضوں کے ناخنوں میں افقی لکیروں کو دیکھا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کئی بار یہ تمام ناخنوں میں ہوتی ہے اور کئی بار یہ اثر صرف پیروں کے انگوٹھوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی لکیریں بذات خود نقصان دہ نہیں ہوتیں اور عموماً بیماری کے کئی ماہ بعد ابھرتی ہیں۔پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے بتایا کہ یہ تو واضح نہیں کہ ناخنوں میں آنے والی تبدیلیوں کا تعلق بیماری کی شدت سے ہے۔عموماً دیگر امراض میں بیماری کی شدت جتنی زیادہ ہوتی ہے، ناخنوں پر نشان کا امکان اتنا زیادہوتاہے۔
������