سوئیہ بگ میں قطرے پلانے سے 2بچوں کی موت

 سرینگر //پرائمری ہیلتھ سینٹر سوئیہ بگ بڈگام میں معمول کے مطابق بچوں کو قطرے پلائے گئے لیکن اسکے فوراً بعد2نو زائیدہ بچوں کی موت واقع ہوئی ۔ مہلوک بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں نوزائیدوں کو پہلی بار قطرے پلائے گئے اور وہ فوت ہوگئے۔مہلوک بچوں میں ڈمی پورہ کا زیان احمد میر اورنوین کمار ساکن سوئیہ بگ شامل ہے۔ نوین کے والد بلال احمد کمار نے بتایا ’’ بدھ کو پہلی مرتبہ ہم بچے کو معمول  کے قطرے پلانے کیلئے پرائمری ہیلتھ سینٹر لے آئے جہاں قطرے پلانے کے فوراً بعد ہی وہ بے ہوش ہوگیا ‘‘۔بلال نے بتایا کہ جب بچہ ہوش میں نہیں آیا تو ڈاکٹروں نے اسے جی بی پنتھ اسپتال منتقل کرنے کوکہالیکن جی بی پنتھ پہنچتے ہی اسکی موت ہوگئی‘‘۔جی بی پنتھ میں شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر مظفر جان نے بتایا ’’ بچے کو بدھ کی رات دیر گئے مردہ حالت میںاسپتال پہنچایا گیا‘‘۔زیان کے والد بلال احمد نے بتایا کہ انہوں نے اپنے 45دن پہلے تولد ہوئے بیٹے کو پی ایچ سی لایا جہاں اسے قطرے پلائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی وہ بیہوش ہوگیا اور اسی حالت میں ہیلتھ سینٹر میں ہی فوت ہوا۔بلاک میڈیکل آفیسر سوئیہ بگ ڈاکٹر محمودہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بدھ کو معمول کے مطابق بچوں کو قطرے پلانے کا دن تھا اور 35بچوں کو  قطرے پلائے گئے لیکن ان میں 2بچوں کی موت ہوگئی ‘‘۔ڈاکٹر محمودہ کا کہنا تھا کہ ہم نے 35بچوں کو  قطرے پلائے گئے اور اگر ان سبھی میں کوئی خرابی ہوتی تو پھر سبھی بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔انہوں نے کہا کہ چند بچوں میں قطرے پلانے سے الرجی ہوجاتی ہے اور یہ معمول کی بات ہے لیکن اس کے بائوجود بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ضلع سطحی اور یوٹی سطح کی ٹیمیں تحقیقات میں لگی ہیں اور آئند3دنوں میں اموات کی اصل وجہ معمول ہوگی۔ بچوں کی ٹیکہ کاری پر مامور سٹیٹ ایمونائزیشن آفیسر ڈاکٹر شاہد نے بتایا ’’پہلے ایک بچے کی موت ہوئی تو ہمیں لگا کہ یہ کپکپی کی وجہ سے ہوئی لیکن جب دوسرے بچے کی موت ہوئی تو ہم نے قوائد و ضوابط کے تحت تحقیقات شروع کردی۔ ڈاکٹر شاہد کا کہنا تھا کہ قطرے والی شیشیوں سے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھیج دیئے گئے ہیں۔ڈاکٹر شاہد نے بتایا ’’ اُمید ہے کہ آئندہ 72گھنٹوں کے دوران نمونوں کی جانچ سامنے آئے گی‘‘۔