سوئیہ بگ بڈگام میں شبانہ کریک ڈائون،گرفتاریاں اور تشدد

سرینگر// سوئیہ بگ بڈگام میں شبانہ چھاپوں کے دوران 12نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جس دوران پولیس اور فورسز پر شدید سنگباری کے جواب میں ٹیر گیس اور پاوا شیلنگ کی گئی جبکہ فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکانوںاور دیگر تعمیرات کی زبردست توڑ پھوڑ بھی کی۔فورسز کی اس کارروائی کے خلاف احتجاج کے بطور ہفتے کو علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔بڈگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ پولیس کے چھاپہ مار دستوں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کے دوران ضلع کے سوئیہ بگ علاقے میں کئی محلوں کا محاصرہ کرکے رہائشی مکانوں پر چھاپے مارے۔س دوران علاقے کی سخت ناکہ بندی کرتے ہوئے وہاں کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور سیل کئے گئے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کو گھروں سے باہر نکال کر نہ صرف ان کا شدید زدوکوب کیا بلکہ رہائشی مکانات، دیگر تعمیرات اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ بھی کی اور کھڑکی دروازوں کے شیشے چکنا چور کردئے ۔ لوگوں کے مطابق اہلکاروں نے گھروں کے اندر گھس پر بھی توڑ پھوڑ مچائی اور گھریلو سامان کو تہس نہس کردیا۔جن محلوں میں چھاپے ڈال کر توڑ پھوڑ کی گئی، ان میں گورو، فقیر اور ڈنڈی پورہ بھی شامل ہیں۔اسی اثناء مساجد کے لائوڈ اسپیکروں پر نعرے بازی کے بیچ لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کیلئے کہا گیا جس کے ساتھ ہی علاقے میں تشدد بھڑک اٹھا۔نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گھروں سے باہر آئی اور انہوں نے پولیس اور فورسز پربیک وقت کئی اطراف سے زبردست سنگباری کی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جھڑپوں میں جب شدت پیدا ہوئی تو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے اور پاوا شیل داغے گئے ۔راتوں رات ہی فورسز کی اضافی کمک طلب کی گئی اور طرفین کے مابین پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔پولیس اور فورسز کی اس کارروائی کے دوران مجموعی طورقریب ایک درجن نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سنگبازی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔لوگوں نے اگر چہ گرفتار شدگان کو معصوم قرار دیا تاہم پولیس نے بتایا کہ ان کے خلاف پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ چھاپے جمعہ کو شام دیر گئے علاقے میں جاری رہنے والی پر تشدد جھڑپوں کے تناظر میں ’شر پسندوں‘کو پکڑنے کیلئے ڈالے گئے۔سنیچر کو علاقے میں احتجاج کے بطور دکانیں اور کاروباری ادارے مکمل طور بند اور گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ ہوکررہ گئی ۔