سنگلدان گْرل خھڈا تا سْرنڈا ٹھٹھارکہ سڑک کی تعمیر ہنوز ایک خواب | 2013میں سروے ہوا،2017میں ڈیڑھ کلو میٹر کی کٹنگ ہوئی ، انجام مسلسل افسوسناک

گول//سنگلدان گْرل خھڈا تا سْرنڈا ٹھٹھارکہ سڑک کی تعمیر ہنوز ایک خواب بنی ہوئی ہے۔2013میںاس سڑک کا سروے ہواجبکہ2017میں ڈیڑھ کلو میٹر کی کٹنگ ہوئی تاہم سڑک کا انجام مسلسل افسوسناک بنا ہوا ہے۔ معزز شہری بشیر احمد گیری کے مطابق سال2013میں محکمہ تعمیرات عامہ  نے سروے کیا اور پھر2017میں اِس سڑک کو بنانا کا کام شروع کیا جس وجہ سے مقامی آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن لوگوں کی اْمیدوں پر اْس وقت پانی پھر گیا جب محض دوکلو میٹر زمین کی کھدائی کے بعد سڑک کا تعمیر کام نا معلوم وجوہات کی بناء پر بند کر دیا ہے۔ بشیر گیری کے مطابق وہ دن اور آج کا دن سڑک کی تعمیر اک چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔جن دو کلو میٹر کی کٹنگ کی گئی تھی وہاں اب جھاڑیاں اْگ آئی ہیں۔ مقامی شہری بشیر گیری نے مقامی سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارندوں نے ہمیشہ ہی اِس سڑک کی تعمیر کو لیکر یہاں کی سادہ لوح عوام سے ووٹ بٹورتے ہیں اور اپنا سیاسی اْلو سیدھا کر کے تب تک گدھے کے سینگ ہو جاتے ہیں جب تک کسی نئے انتخابی دنگل کو شروع ہونے کا اعلان نہیں ہو جاتا۔ انھوں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا کہ ہمارے کے مقامی نمائندے کابینہ میں اہم وزارتوں پر بھی براجمان رہے لیکن مذکورہ سڑک کی تعمیر کو لیکر کبھی بھی اْن کا دل پسیج نہیں سکا لیکن اب کی بار ہم نے ڈی ڈی سی چیرپرسن کی صورت میں اک متبادل آپشن چن کر یہ اْمید لگائی تھی کہ اب جاکر ہماری اِس سڑک کا تعمیری کام شروع ہوگا۔ قابل ِ ذکر ہے کہ یہ سڑک ڈی ڈی سی موصوفہ کے اپنے ڈی ڈی سی حلقے میں پڑتی ہے لیکن اِس کے باجود بھی سڑک کا تعمیری کا مقامی آبادی کیلئے اک خواب بن کر رہ گیا۔ بشیر احمد گیری نے ڈی ڈی سی چیرپرسن سے مطالبہ کیا ہے کہ برائے مہربانی اِک آدھ میٹر رِبن اِس سڑک کی تعمیر کوشروع کرکے بھی کاٹ لیں تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہم نے اِس بار اک بہترین آپشن چنا ہے وگرنہ ہم یہی سمجھیں گے کہ سیاست کے اِس حمام سے سبھی سیاستدان ننگے ہیں ، عوامی فلاح و بہبود کے نعرے محض انتخابی ہتھکنڈے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔