سنگلدان بازار کی کشادگی کاآغاز

  
گول//گول رام بن شاہراہ جو کہ گریف حکام کے حوالے ہے کو کشادگی کے لئے کئی مرتبہ عدالت عظمیٰ سے بھی احکامات جاری ہوئے تھے لیکن ہر بار عمل درآمد نہ ہو سکا اور بالاآخر پیر کے روز یعنی کہ 2018 یکم جنوری کو اسکی جانب عمل در آمد کا کام شروع کر دیا ہے۔ جہاں پوری دنیا میںنئے سال کے پہلے دن کو بڑے ہی دوم دھام سے منایا جاتا ہے وہیں سنگلدان میں جہاں انتظامیہ نے اپنے فرائض بخوبی انجام دے کر عام لوگوں اور علاقہ کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک بہتر قدم اٹھایا ہے حالانکہ دکانداروں میں کافی بے چینی دیکھنے کو ملی ۔ انتظامیہ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ گریف کے حکام نے کئی مرتبہ نوٹس بھی جاری کیا اور انتظامیہ نے بھی دکانداروں کو کئی مرتبہ اس سلسلے میں آگاہ کیا تھا لیکن آج بالاآخر انتظامیہ نے سڑک کو کشادہ کرنے کے لئے اپنی کارروائی شروع کر دی ۔ نائب تحصیلدار سنگلدان اور بی آر او ٹیم نے کہا کہ کئی مرتبہ یہاں پراڑچنیں پیدا ہوئیں اور معاوضہ کے بارے میں بھی کچھ خدشات پیدا ہو رہے تھے اور اس سلسلے میں ایس ڈی ایم گول نے 29دسمبر 2017کو بی آر او ، انتظامیہ اور دکانداروں کی میٹنگ لی تھی کہ یکم جنوری 2018ء کو سڑک کی کشادگی کے بارے میں اپنا کام شروع کرے گی اور اس سلسلے میں انتظامیہ نے گریف کے زیر اشتراک سڑک کی کشادگی کے لئے قدم اٹھایا ۔ وہیں معزز شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور گریف حکام کو پہلے ہی دیکھنا چاہئے تھا کہ غیر قانونی تعمیر کیوں ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر لاکھوں روپے معاوضہ لے کر دکانداروں نے اپنا کام شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور گریف حکام کو چاہئے تھا کہ پہلے ہی کارروائی کرنی چاہئے تھی آج اتنا نقصان نہیں ہوتا ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر عمارتوں کی تعمیرات کو سول انتظامیہ اور گریف بھی دیکھتی تھی لیکن انہوں نے ہٹانے سے گریز کیوں کیا ؟ معلوم ہوا ہے کہ دکانوں کا دو تین کا معاوضہ بقایا ہے جبکہ اراضی کا معاوضہ ابھی تک گریف نے کسی کو نہیں دیا ہے ۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے وقت مانگا ہے کہ وہ دکانوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے انتظام کریں گے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام اور متاثرین کے ساتھ رعایت برتیں۔