سنگلدؔان کی ٹنل اور چِنابؔ کا پُل

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال کے دوران راقم نے چند مضامین کےذریعے بانہال ریلوے ٹنل ، سنگل دان ریلوے پُل ، چنینی ٹنل اور دھرم کُنڈ ریلوے پُل کے بارے میں کافی کچھ جانکاری دے دی ہے اور آج اس مضمون کی وساطت سےراقم آپ کو بانہال قومی شاہراہ سے تقریباًدس کِلو میٹر دوری پر واقع اُس ریلوے ٹنل کے بارے میں ساری معلومات فراہم کرے گا۔ جو سنگل دؔان ریلوے ٹنل کے نام سے تعمیر کے آخری مراحل میںہے۔قارئین کرام !اودھُم پور سے بارہمولہ ریلوے پروجیکٹ تین حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ جس میں(۱) اودھم پور سے کٹرہ (۲)کٹرہ سے قاضی گُنڈ (۳)قاضی گُنڈ سے بارہ مولا تک کا فاصلہ کُل ۳۵۶کلو میٹر پر محیط ہے۔ اس تمام پروجیکٹ پر ۹۱۱ چھُوٹے بڑے پُل تعمیر ہوگئے ہیں اورچھوٹی بڑی ٹنلوں کی تعداد۹ہے۔اس پروجیکٹ پر سب سے بڑا اور اونچا پُل دریائے چناب پر بنایا گیا ہے ۔۳۵۹ میٹر اونچا یہ پُل دنیا کا دوسرے نمبر پرسب سے اونچاریلوے پُل ہے۔ اس ریلوے پروجیکٹ پر سب سے لمبی ٹنل بانہال ریلوے ٹنل ہے، جوتقریباًساڑھے گیارہ کلو میٹر لمبی ہے ۔ اسکی تفصیل میں نے بانہال ریلوے ٹنل کے طور پر رقم کی ہوئی ہے۔ اودھُم پور سے بارہ مولہ تک اس ریلوے پروجیکٹ پر پندرہ ریلوے سٹیشن قائم کئے گئے ہیں ۔ اس ریلوے پروجیکٹ پر تین بڑی کمپنیاں ناردرن ریلوے ، کوکان ریلوے کارپوریشن لمٹیڈ اور انڈین ریلوے کارپوریشن لیمٹیڈ کام میں لگی ہوئی ہیں۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے سڑکیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں جو اس پروجیکٹ کے ساتھ رابطے کا کام دے رہی ہیں ،جنکی طوالت ۲۶۲ کِلو میٹر ہے ۔
یاد رہے کہ قاضی گُنڈ سے بانہال تک ریلوے پروجیکٹ کا کام ۲۰۰۶  ؁میں شروع ہوا تھا اور اس پروجیکٹ پر ہی بانہال ریلوے ٹنل بھی تعمیر ہوئی ہے، جس کی تعمیر کا کام نہایت دشوارگذار اور کارے دارد والا معاملہ تھا مگر انجینئروں کے عزم و حوصلے اور تدبُر سے یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے ۔ قاضی گُنڈ سے لیکر بارہ مولہ تک کی ریلوے لاین جو ۱۱۹ کلو میٹر پر محیط ہے ،بھی  ۰۰۹ ۲  عیسوی میں قوم کو وقف ہو چکی ہے۔ اسی طرح جموں سے اودھم پور کی ۵۳ کلو میٹرریلوے لاین بھی تیار ہو کر قوم کے نام وقف کردی گئی ہے اور اِس وقت اس ریلوے لائن پر بھی ریل دوڑتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ اودھم پور سے اس پروجیکٹ کا ایک اور حصہ ،جواودھم پور سے کٹرہ تک قریباً ساڑھے پچیس  کلو میٹر پر مشتمل ہے ،کو بھی۲۰۱۴ ؁  میں قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ اسطرح سے اودھم پور سے بارہ مولہ کا ریلوے پروجیکٹ جو ۳۲۶ کلو میٹروں پر مشتمل ہے، کو مکمل کر کے ایک عظیم کام سرِانجام آچکا ہے ۔
 اس پروجیکٹ کےآخری حصے( کٹرہ سے بانہال تک) کا جو۱۱۰ کلو میٹر کا فاصلہ ہے، پر اس وقت بھی کام شد و مد سے جاری ہے۔ اس ایک سو دس کلو میٹر کے ریلوے ٹریک پر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پُل تعمیر کے آخری مراحل سے گذر رہا ہے۔ یہ پُل بھی دنیا کا ایک عجوبہ ہوگا، جو انجینئرنگ کا ایک انمول نمونہ ثابت ہوگا۔ اسکی پوری تفصیل سابق مضمون میں دِی جاچکی ہے۔
 کٹرہ سے بانہال کی ریلوے ٹریک پر سات بڑے پُلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ٹنل بھی تعمیر ہو رہی ہے، جو سنگل دؔان ریلوے ٹنل کے کے نام سے جانی جا تی ہے ۔یہ ٹنل سنگل دؔان سے نکل کر سمبڈؔ کے دیو ہیکل پہاڑوں کو چیرتی ہوئی بانہال کے علاقہ کھڑی میں سیرؔن siranکے مقام پر جا نکلتی ہے، اسکی لمبائی سات کلو میٹر ہو گی ۔حال ہی میں اس ٹنل کا آخری حصہ آر پار ہو چکا ہے اوراسطرح کٹائی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ دو تین سال میں اس کا باقی کا کام بھی مکمل کر دیا جائےگا ۔ اس سے آگے یعنی سِرن کھڑؔی سے آگے بانہال تک شُمال میں چھوٹی چھوٹی چھ ٹنلیں تعمیر کر لی گئی ہیں جو تقریباً مکمل ہو چکی ہیں ۔ ان ٹنلوں میں بنکوٹؔ بانہالT 77 D، ٹٹنی ہالؔ بانہالT 74 R B ، ناچلانہ رؔامسو ٹنل  T 49 B ،کھڑی ؔسرن تا بانہالT74 R(a)، T 74 R (b) ہاروگؔ دھرم کُند   T 48 ٹنلیں شامل ہیں ۔
  ان ٹنلوں کی تعمیر کاکام مختلف کمپنیوں کودیا گیا ہے، جوان پر شد و مد کے ساتھ کام جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں   Gammon..Afcon, Bcc, Infroltd, Patel Engineeirng Ltd, Hcc  وغیرہ قابل ذکرہیں۔کُل ملا کر تقریباًچار ہزار ملازم ان ٹنلوں پر کام کررہے ہیں اور ان کو مراحل کے آخری پڑاو تک لے جانے کے لئے مصروف ِعمل ہیں۔سنگل دؔان اس ریلوے پروجیکٹ کا ایک اہم پڑاو ہے اور یہاں ایک بڑا ریلوے سٹیشن تعمیر ہو رہا ہے جو سطح سمندر سے 10071فٹ کی بلندی پر تعمیر کیاجا رہا ہے۔ اس پر دو پلیٹ فارم ہونگے اور دو ٹریک بھی ہونگے ۔
 سنگلدؔان سے ہی سنگلدان سِرن (کھڑی) ریلوے ٹنل براڈ گیج میں تعمیر کی گئی ہے اور اسکی چوڑائی,1,676 mm رکھی گئ ہے ،جو سٹنڈرڈ ریلوے لاین کی پہچان ہوتی ہے ۔ اس ٹنل کو کو کانؔ ریلوے کے تحت افکان ؔکمپنی کے ذریعہ سے بنایا جارہا ہے۔ یہ ٹنل بڑی دشوار کُن سختیوںکے باوجود انتہائی محنت ِ شاقہ سے پایہ تکمیل تک پہنچائی گئی ہے ۔ ونود کمار تیواری کنسٹرکشن منیجر کا کہنا ہے کہ پہاڑوں کو چیرنا آسان کام نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئےٹنلوں میں کام کر نے کے دوران سخت ترین مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ چٹانوں کو توڑنا، پھر اس کا ملبہ باہر نکالنا سمجھدار اور پُر عزم انجنیئروں کا ہی کام ہوتا ہے۔ شفٹ وائز کام کرنا اوربغیر کسی تھکاوٹ کے بھاری مشینوں سے زور آزمائی کرنا بھی نہایت صبر آزما عمل ہوتا ہے۔بقول ِ اُن کے اس ٹنل کی تعمیر کے دوران کئی ورکرذہنی  پیچیدگیوں میں مبتلا ہوکراپنا کام کاج چھُوڑ کر چلے گئے تھے ۔پھر ہم نے ورکروں کو مشغول رکھنے کا ایک انوکھا عمل اختیار کیا۔ ہم نے کام کرنے مزدوروں اور دیگر ورکروںکی دِل بہلائی کے لئے نت نئے آئے مختلف پروگرامز رکھے،اور ہر مذہب سے منسلک تہواروں کو منانے کا  اہتمام کرتے رہے ،جن میں تفریح کا سامان بھی رکھاگیا۔ان پروگراموںمیں ہم نے عام لوگوںکو بھی شامِل کیا اور اسطرح سے ایک خوشگوار، گھریلو جیساماحول بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں ہمارا کام آسان ہوتا رہا اور باہر سے آئے ہوئے ورکروں کا دل بھی بہل کر کام کی طرف مایل ہوگیا ۔ اسی طرح یہاں ملی ٹینسی کا بھی خوف چھایا ہوا تھا جو ہمارے بہادر فوجی جوانوںکی موجودگی میں زائل ہوا اور ہمیں رات دن اُن کا تحفظ فراہم ہوتارہا ۔ اس ٹنل کو تعمیر کرتے ہوئےہم نے کُچھ ورلڈ کلاس ریکارڈ بھی قائم کئے، جو اپنے آپ میں انتہائی اہم ہیں۔ ہم نے  لگاتا ر۶۸ میٹر ٹنل پرمننٹ سٹیل اِسٹریکچر سے بناڈالی، جسکا ریکارڈ ابھی تک صرف ۵۵ میٹر تھا اور ہم نے ۲۷۰ میٹر آر سی سی لایننگ بھی بچھائی، جسکا ریکارڈ ابھی تک ۲۲۰ میٹر ہی تھا ۔ اسطرح سے ہمارے انجینئروں اور ورکروں نے انتہائی جان فشانی سے کام کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو پایہ تکمیل کی آخری مرحلوں تک لایا ہے۔ اس ٹنل میں آکسیجن کا جدید نظام نصب کیاجائے گا اوردن ورات روشنی کا بھی جدید انتِظام رکھاجائے گا ۔ اس ٹنل کو ڈرل اور بلاسٹ کی مدد سے بنایا گیا ہے۔
 اس ٹنل پر ہزاروں ورکر، انجینئر اور بہت ساری مشینیں کام پر لگی ہوئی ہیں اور اسکے مکمل ہونے پر اودھم پور بارہ مولا ریلوے پروجیکٹ تیار ہو کر ایک نیا باب رقم کرے گا، جو اپنے آپ میں ایک یاد گار ورلڈ ریکارڈ رہے گا ۔ہم اُن تمام ورکروں ،انجینئروں اور اس پروجیکٹ سے وابستہ تمام لوگوں کے رہین ِ منت ہیں، جنہوں نےاپنا گھر بار،عیش آرام چھوڑ کر اس عظیم پروجیکٹ کے کام میں حصہ دار بنے رہے اور ہمیں اس انمول تحفے سے نوازا۔ ایک اوردفعہ ہم اُن سبھی افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیںجو سردیوں ، گرمیوں،مشکلات اور سختیوںمیں اس پروجیکٹ کے کام میں شریک ِ کار رہے۔ہم اُن انسانی جانوں کو سلام اور خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جو اس عظیم پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران اس دُنیا کو چھُوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ہم ا ن کے گھر والوں کے غم میں برابر کے شریک ِ غم ہوکر اُنہیںیاد دلاتے ہیں کہ جب تک دُنیا قائم رہے گی ،اُنکی قربانیاں یاد گار رہیں گی۔
رابطہ۔7889527398
( مضمون نگار، پیر پنچال ادبی فورم بانہال کے صدر ہیں)