سنگرونی پلوامہ میں پی ایچ سی کیلئے جگہ کی کمی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا، تعمیر شروع نہ ہوسکی

 مشتاق الاسلام

 

پلوامہ //پلوامہ ضلع کے پسماندہ علاقے سنگرونی میں طبی سہولیات دو کمروں پر مشتمل آیوش سینٹر میں دستیاب رکھنے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ دو سال قبل نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ سی اس وقت دو کمروں والی آیوش کی عمارت میں چلائی جارہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو طبی جانچ کرانے میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ آیوش میں قائم طبی سینٹر میں ابتدائی طبی امداد کے علاوہ کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے اور مقامی لوگ معمولی بیماریوں کے لیے بھی قصبہ پلوامہ جانے پر مجبور ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی عمارت کیلئے ضلع انتظامیہ نے سال 2021 میں 10 کنال اراضی کی نشاندہی کرائی گئی حالانکہ اس اراضی پر انتظامیہ نے دیوار بندی بھی کرائی، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر گزشتہ دو سالوں سے کوئی کام نہیں ہوسکا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لا چکے ہیں لیکن زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے اس معاملے کو جلد از جلد دیکھنے اور طبی مرکز کے منصوبے پر جلد ازجلد کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سنگرونی کے آیوش مرکزمیں کام کرنے والے نیم طبی عملے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے ہسپتال میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔غلام حسن گورسی نامی مقامی شہری نے بتایا کہ سنگرونی کا علاقہ 4 پنچایت حلقوں پر مشتمل ہیں اور طبی سہولیات کے حوالے سے جو مشکلات اس علاقے کو درپیش ہے اس پر چشم پوشی کا مظاہرہ کرنا باعث تشویش ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سنگرونی میں طبی سہولیات کے حوالے سے دو سال قبل تشکیل دیے گئے منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا جائے۔