سنڈے مارکیٹ پر کورونا کی مار | 5ماہ سے بازار بند،ہزاروں افراد پریشان

سرینگر//کووڈ19 لاک ڈاون کے بعد اگرچہ وادی میں مشروط کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں تاہم سنڈ ے مارکیٹ گذشتہ پانچ ماہ سے زائد عرصہ سے مسلسل بند ہے اور گزشتہ بیس برسوں میں سنڈے مارکیٹ بند رہنے کا یہ سب سے طویل وقفہ ہے۔ سنڈے مارکیٹ مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں مارکیٹ سے جڑے ہزاروں افراد سخت پریشان ہیں اور حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ مارکیٹ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے ۔اتوار کو سجنے والا بازار وادی کا سب سے بڑا مارکیٹ ہے جس میں ہزاروں چھاپڑی فروش اورخوانچہ فروش اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔سنڈے مارکیٹ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آکر مختلف اشیاء کی خریدار کرتے تھے تاہم کووڈ 19کی وجہ سے وادی میں لاک ڈاون کے بعد اگرچہ تمام کاروباری سرگرمیاں شرائط کی بنیاد پر بحال ہوئی ہے تاہم سنڈے مارکیٹ بند پڑ ا ہے جس کے نتیجے میں ڈلگیٹ سے ٹی آر سی زیروبرج سے لیکر لالچوک ، مہاراجہ بازار تک علاقہ اتوار کو سنسان ہوتا ہے ۔سی این آئی کے مطابق جہاں سرینگر میں دکانیں طاق اور جفت کے تحت کھولی جاتی ہیں وہیں پر چھاپڑی اور ریڈوں پر بھی مال فروخت کیا جاتا ہے لیکن اتوار کو ہی سنڈے مارکیٹ کی جگہ پر کسی چھاپڑی فروش یا ریڈے والے کو ریڈہ لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ سنڈے مارکیٹ سے جڑے ہزاروں افراد اس صورتحال سے سخت پریشان ہیں اور اس بات پر حیران بھی ہے کہ اگر دیگر کاروباری سرگرمیاں دوبارہ چالو ہونے کی اجازت دی گئی ہے تاہم سنڈے مارکیٹ کو کیوں بند کردیا گیا ہے ۔ انہوںنے اس ضمن میں ڈویژنل کمشنر کشمیر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کرکے سنڈے مارکیٹ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے۔