سنٹرل یونیورسٹی میں سمینار

 سرینگر//خواتین کے حقوق کی پامالیوں میں انکے کنبوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے ریاستی احتسابی کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) بشیر احمد کرمانی نے کہا کہ صنف نازک کو گھروں میں سب سے زیادہ حقوق کی پامالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنٹرل یونیورسٹی کشمیر اور انٹرنل کمپلنٹس کمیٹی کی طرف سے نوگام میں یونیورسٹی کے تدریسی بلاک میں مشترکہ طور پر منعقدہ سمینار کے دوران جسٹس بشیر احمد کرمانی نے کہا کہ جائیداد کے حقوق کیلئے خواتین کے بھائیوں کی طرف سے انکے حقوق پر شب خون مارا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہو پر ظلم کرنے مین اس کی ساس بھی پیش پیش ہوتی ہے اور کئی ایک واقعات میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین،آئی سی سی کی چیئر پرسن پروفیسر نگہت باسو،سکول آف بزنس کے سربراہ پروفیسر ایس فیاض،شعبہ قانون کے سربراہ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین ،اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی،منیجمنٹ اسٹیڈیز کے ڈین پروفیسر فاروق احمد شاہ،ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے سربراہ پروفیسر فیاض احمد نکہ اور دیگر مدرسین کے علاوہ طلاب اور دانشوروں کی ایک بڑی تعاداد نے اس سمینار میں شرکت کی۔جسٹس(ر) بشیر احمد کرمانی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کس طرح پامال کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے قوانین اور مذہب کی روشنی میں کہا کہ کئی بار خواتین کے حقوق مد مقابل آجاتے ہیں۔اس موقعہ پر انہوں نے سہ طلاق پر بھی روشنی ڈالی اور اسلام کے تناظر میں خواتین پراس کے اثرات کو بھی اجاگر کیا۔پروفیسر معراج الدین نے خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے سیول سوسائٹی پر زور دیا کہ خواتین کے خلاف جرائم اور انکے حقوق کی پامالی کے خلاف ایک تحریک چلائی جانی چاہئے۔