سنٹرل یونیورسٹی جموں تعلیمی فضیلت ، کاروباری اور اختراعی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے | بنیادی ڈھانچے کے کاموں کو جلد مکمل کرنے کی صوبائی کمشنر کی ہدایت

سانبہ// ڈویژنل کمشنر جموں ڈاکٹر راگھو لنگر نے ڈپٹی کمشنر سانبہ انورادھا گپتا کے ہمراہ رایا وجے پور میں سنٹرل یونیورسٹی جموں کیمپس کا دورہ کیا اور جاری سول ورکس کی صورتحال کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے دوران وائس چانسلر سنٹرل یونیورسٹی پروفیسر اشوک آئمہ نے سنٹرل یونیورسٹی کے تعلیمی ماہرین ، تحقیق ، زمین ، عمارت ، سڑکوں اور دیگر پہلوؤں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹرل یونیورسٹی جموں میں اس وقت 1872 طلباء (2020-21) اور 186 سٹاف ممبر ہیں۔ یونیورسٹی میں 08 سکول ، 23 ڈیپارٹمنٹس ، 19 پی جی کورسز ، 05 5/4 سال انٹیگریٹیڈ کورسز ، 03 انڈر گریجویٹ ، 05 پی جی ڈپلومہ ، 04 سرٹیفکیٹ/ڈپلومہ اور 23 ریسرچ پروگرام فعال ہیں۔صوبائی کمشنرنے سول ورکس کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ وہ زمین کو فوری طور پر خالی کروائیں اور اسے باقی کاموں بشمول سڑکوں ، نکاسی آب ، کیمپس کی تعمیر ، باڑ لگانے/باؤنڈری وال وغیرہ کی تکمیل کے لیے ایگزیکٹو ایجنسیوں کے حوالے کریں۔ڈویژنل کمشنر نے رایا میں ریلوے کراسنگ کا بھی دورہ کیا اور فلائی اوور کی تعمیر کے لیے کارروائی کی رپورٹ کے ساتھ تفصیلی ڈی پی آر پیش کرنے کی ہدایت کی۔سنٹرل یونیورسٹی کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایگزیکٹو انجینئر جے پی سی ڈی ایل کو بگلہ میں 2×10 ایم وی اے ، 33/11 کے وی ر سیونگ سٹیشن کی جلد تعمیر اور کمیشننگ کی ہدایت دی جبکہ پی ڈبلیو ڈی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپروچ روڈ کے بقیہ حصوں کو بلیک ٹاپ کرنے کا کام تیز کرے۔ ڈویژنل کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سانبہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ وقفوں سے جائزہ اجلاس منعقد کریں تاکہ تمام باقی کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔