سنتھن میں مارے گئے دونوں نوجوان کی نعشیں | آبائی گاوں پہنچ گئیں،علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی

کشتواڑ//کشتواڑ سنتھن قومی شاہراہ پر پھنسے دو سبزی گاڑیوں میں مارے گے نوجوانوں کی نعشیں آج بعد دوپہر انکے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئیں جسکے بعد انکی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق ایتوار کی صبح پانچ بجے کے قریب پولیس فوج و انتظامیہ نے برف میں پھنسے افراد کو نکال تھا جس میں دو افراد کی موت ہوئی تھی جبکہ دو افراد شدید زخمی حالت میں پائے گئے تھے جنکا علاج سب ضلع ہسپتال کوکرناک میں جاری ہے۔ وہیں کل انکی قانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد انکی نعش کو بانہال کے راستے کشتواڑ بھیجا گیا تھا اور آج دائود مجید و امیتاز احمد کی نعشیں انکی آبائی علاقوں میں پہنچ گئیں۔ نعشیں پہنچتے ہی علاقہ میں صف ماتم چھاگیا اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی جبکہ آخری رسومات میں ہزاروں کی تعدا میں لوگوں نے شمولیت کی۔امتیاز احمد اپنے پیچھے ڈیڑھ سال کی بچی و اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلا گیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ امتیاز نہایت ہی شریف مزاج کا تھا اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنے کیلئے گزشتہ دوسال سے گاڑی چلارہا تھا جبکہ دائود  مجیدمحض17سال کا تھا اور اپنی تعلیم حاصل کررہا جبکہ گزشتہ پندرہ بیس روز سے آہنے پوپھرے بھائی کے ساتھ ٹاٹا موبایل کے ساتھ کشمیر سے کشتواڑ سبزی لانے کا کام کررہا تھا جبکہ والد ٹھیکداری کا کام کرتا ہے۔