سمن کماری پاکستان کی پہلی ہندو خاتون جج مقرر

سرینگر//پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہندوخاتون سمن کماری کے جوڈیشل افسروں کی تقرری کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے سول جج کا عہدہ سنبھالنے پر ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پاکستان کا ملک کی تعمیر میں اقلیتوں کو رول ادا کرنے کی آزادی دینا قابل سراہنا ہے۔ سمن کماری نے جوڈیشل افسران کی تقرری کیلئے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ملک کی پہلی خاتون ہندو سول جج مقرر ہوگئیں۔قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والی سمن کماری اپنے آبائی ضلع میں اپنی خدمات انجام دیں گی۔سمن کماری نے حیدر آباد پاکستان سے اپنا ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اور کراچی کے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں انہوں نے ایڈوکیٹ رشید اے رضوی کے فرم سے اپنی قانون کی پریکٹس کی۔سمن کماری کا کہنا تھا کہ ’مجھے خوف تھا کہ میری برادری میرے وکیل بننے کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گی تاہم مجھے بھروسہ تھا کہ میرے اہلخانہ میرے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ان کے والد ڈاکٹر پون کمار بودان کے مطابق سمن کماری قمبر شہداد کوٹ کی غریب عوام کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمن کماری نے اس مشکل ترین شعبے کا انتخاب کیا لیکن مجھے بھروسہ تھا کہ وہ محنت اور دیانتداری سے اپنا مقام حاصل کرلیں گی۔ ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سمن کماری کے پاکستان کی پہلی خاتون جج بننے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ملک کی تعمیر میں اقلیتوں کو رول ادا کرنے کی آزادی دینا قابل سراہنا ہے۔محبوبہ مفتی نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پرایک ٹویٹ میںتحریرکیا ’’پاکستان میں اقلیتوں کو قوم کی ترقی میں رول ادا کرنے کی آزادی دینا اچھی بات ہے‘‘۔مسلم اکثریتی پاکستان میں کم و بیش2فیصد ہندو آباد ہیں۔