سمندر کے پانی کو میٹھا کر کے گاؤں گاؤں پہنچایا جائے گا:مودی

 چتوڑ گڑھ// وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کی حکومت کے خراب نظام کو سدھارنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر گاؤں، گھر میں بجلی دینے کے منصوبے کی طرح جل شکتی وزارت بناکر سمندر کے پانی کو میٹھا کر کے اور دریاؤں کو جوڑ کر گاؤں گاؤں پانی پہنچایا جائے گا۔ مسٹر نریندر مودی نے آج یہاں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی کے مسئلے کے پیش نظر حکومت علیحدہ وزارت بنائے گي تاکہ بارش کے بیکار بہنے والے پانی کو روکنے اور دریاؤں کو جوڑنے کے ساتھ سمندر کے پانی کو میٹھا کرکے اسے گاؤں گاؤں تک پہنچایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں خراب نظام کے سبب کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہو تا تھا، لیکن ہم نے اس نظام میں تبدیلی کر کے ایسا کام کیا کہ اب تیز رفتاری سے ، بڑے پیمانے اور بڑے مؤثر طریقے سے کام مکمل ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنی حکومت کے ایک دن کے کام کاج کا حساب دیتے ہوئے کہا کہ اجولا اسکیم سے ہر روز 70 ہزار بہن بیٹیوں کو مفت گیس کنکشن، 50 ہزار گھروں کو بجلی، جن دھن یوجنا میں دو لاکھ سے زیادہ بینک اکاؤنٹ، کرنسی منصوبہ میں 10 لاکھ سے زائد صنعتکاروں قرض ، وزیر اعظم کی رہائش اسکیم میں 11 ہزار سے زائد گھر ، سوچھ بھارت ابھیان کے تحت 60 ہزار سے زائد ٹوائلٹ، وزیر اعظم سرکشا بیمہ یوجنا میں ایک ملین سے زیادہ لوگوں کو فائدہ دیا جا رہا ہے ۔ مسٹر مودی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وسائل کا انصاف سے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہی آج ہندوستان ان چھوٹے ممالک سے پچھڑ گیا جو ہمارے ساتھ آزاد ہوئے تھے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس پر عوام نے بہت اعتماد کیا تھا، لیکن پانچ دہائیوں میں یہ پارٹی ایک خاندان کی خدمت میں لگی رہی۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ انہیں مضبوط ہندوستان یا مجبور ہندوستان ، پاکستان کو جواب دینے والا یا پاکستان کے آگے تپنے والا ملک چاہئے ؟انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی تمام سیٹوں پر انتخاب جیتے گی لیکن اس بار پرانا ریکارڈ ٹوٹنا چاہئے ۔ انہوں نے 21 ویں صدی میں جنم لینے والے بچوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے ہندوستان کی تعمیر کے لیے ووٹنگ کریں۔وزیراعظم اپنی آبائی ریاست گجرات کے رائے دہندگان سے بی جے پی کو ایک بار پھر سبھی 26 لوک سبھا سیٹوں پر فتحیاب کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے نتائج کے سلسلے میں کسی کو مجھ پر طعنہ مارنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے ۔مسٹر مودی نے ریاست کی سبھی سیٹوں پر 23 اپریل کو ہونے والے انتخاب سے قبل گجرات کے اپنے آخری انتخابی جلسے میں کہا کہ گجرات ان کا گھر ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو اپنے آشیرواد کے طور پر انہیں سبھی 26 سیٹوں پر جیت دلانا چاہیے ۔ ایسا نہ ہونے پر اور انتخابی نتائج امید کے مطابق نہ ہونے پر لوگ یہاں کے نتائج کے بارے میں ان پر طعنہ مار سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘شمالی گجرات اور گجرات کی اولاد ہونے کے ناطے آپ کا مجھ پر جتنا حق ہے اتنا میرا بھی آپ پر ہے ۔ میں آپ سے آشیرواد لینے آیا ہوں اور آپ ایسا آشیرواد دیں کہ کسی کو مجھ پر طعنہ مارنے کا موقع نہ ملے ۔ 23 مئی کو نتائج آئیں گے تو ایک بار پھر مودی حکومت قائم ہونا یقینی ہے لیکن اگر کہیں ایسا نہ ہوا تو ٹی وی پر کوئی اور نہیں بلکہ یہی بات موضو بحث ہوگی کہ گجرات میں کیا ہوا۔ کیا آپ ایسا ہونے دیں گے ؟ اپنے گھر کے لڑکے کی ذمہ داری کس کی ہے ’؟انہوں نے فوج کے سابق سربراہ جنرل کری یپّا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی سب سے زیادہ سکون تب ملتا ہے جب اپنے گھر میں عزت افزائی کی ہے ۔ اس سے نئی توانائی اور ملک کے لئے مزید کچھ کرنے کی ترغیب بھی ملتی ہے ۔یو این آئی۔