! سمجھوتہ کرنے میں راز ِزندگی پنہاں ہے فہم و تفہیم

سید مصطفیٰ احمد ۔ بڈگام

ہر انسان کسی نہ کسی حدتک انا کا مریض ہے۔ ہر کوئی دوسروں سے بہتر دکھنا چاہتا ہے۔ لفط ’’سمجھوتہ‘‘لگ بھگ ہر کسی کی لغت سے غائب ہے۔ سارے انسان طاقتور دکھنا چاہتے ہیں۔ بیشتر انسان دوسرے انسانوں پر حکمرانی کرنے کی بھرپور کوششیں کرتے ہیں۔ ہر معاملے میں میری ہی بات سنی جائے اور مصنف کی کرسی پر بھی میں ہی براجمان رہو ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ جب زندگی میں لڑائی اور جھگڑوں کی نوبت آتی ہیں تو اس وقت میں ہی سب سے طاقتور اور بہادر شخص کہلاؤں۔ لوگ میری جائز اور ناجائز دونوں قسم کی باتوں کو مان کر میرے احکام کے تحت کام کریں۔ غلط ہونے کے باوجود میں تاویلوں کے اتنے ڈھیر کھڑا کردوں کہ معصوم شخص بھی اپنے کاندھوں پر دوسروں کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے۔ میری جھوٹی بلاغت کے سامنے ہر قوی دلیل پھیکی پڑجائے۔ مقدس قوانین کو بھی میں اپنے پیروں تلے روندتے چلو اور جوابدہی کا سوال بھی پیدا نہ ہوں۔ سارے گواہ میرے خلاف ہونے کے باوجود بھی میں اپنی معصومیت کی ایسی نفیس دلیل پیش کروں کہ سننے اور دیکھنے والوں کے اذہان میں کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ اگر کبھی میرے خلاف کوئی دلیل ثابت ہوجاتی ہے کہ میں ہی قاتل اور باغی ہوں، اس وقت بھی سمجھوتہ کرنے کے بجائے میں اپنی انا کی تسکین کی خاطر دوسروں پر الزام عائد کردوں اور گناہ کو اس انداز میں پیش کروں کہ گناہ اور سزا دونوں کی حدیں معدوم ہوں۔یہ خصائل اس شخص میں پائی جاتی ہیں جو سمجھوتہ کرنے کی خوشبو سے آج تک کوسوں دور رہا ہوں۔

اصل میں زندہ انسان ہی سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ مردہ انسان اکڑا ہوا، لیکن زندہ انسان ملائم ٹہنی کی طرح ہوتا ہے۔ وہ ہوا کی نزاکت کو دیکھ کر اپنے اندر لچک اور سختی دونوں خصائل پیدا کرتاہے۔ کسی کتاب میں، میں نے ایک اچھے مقولے کو پڑھا تھا کہ اگر ایک قدم پیچھے جانے سے دس قدم کا فائدہ ہوتا ہوں تو اس کارخیر میں کیا تکلیف ہے۔ اس کام کے لئے ہم سب کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ زندگی کے پیچ و خم سے بھرے خار دار راستوں پر اپنی گاڑی کو ہر موڑ پر راستے اور لوگوں کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق روکنا اور رفتار کو بہت سست کرنا بھی ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ مجھے بہت پسند آتا ہے۔ اس میں کہنے والا کہتا ہے کہ ایک نافہم انسان سمندر کے اوپر تیر رہے جہاز کو اس لئے ڈبو دے گا کیونکہ اس کے ہاتھوں میں جہاز کی کمان کو نہیں تھمایا گیا تھا۔ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا یا ہوگا کہ کیوں نہیں

اس کے ہاتھوں میں ایک جہاز یعنی قوم کی بھاگ دوڑ نہیں تھامی گئی اور وہ جس طرح چاہے جہاز کو مختلف بھنور کے حوالے کرکے خود بھی موت کے منہ میں چلا جائے اور دوسرے داناؤں کو بھی موت کے حوالے کردیں۔ اگر اس بےوقوف کو یہ بات سمجھ میں آتی اور اس کی تربیت اچھے معنوں میں ہوئی ہوتی تو وہ اس بات سے کبھی بھی غافل نہیں ہوجاتا کہ جس جہاز کی کمان وہ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتا ہے، وہ اس کے لئے بھی سمندر پار کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اپنی لاعلمی کا احساس ہوتے ہوئے بھی وہ ایک دیوانی کی طرح اپنی انا پرستی کے جنون میں ہوش کھوکر پورے جہاز کو ڈبا دیتا ہے۔ اس بات میں لاکھوں اسباق پنہاں ہیں۔ یہاں مجھے انگریزی کے دو مشہور شعراء Walt Whitman اور William Blake کی کچھ باتیں یاد آرہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دانائی کا تعلق مخصوص لوگوں تک محدود ہیں۔ یعنی ہر کوئی چیزوں کو ان کی اصلی حالت میں دیکھنے کی فراست و بینائی نہیں رکھ سکتا ہے۔ لوگ چیزوں کے باہری حسن سے اپنے اندر ایک بڑے جسم والی شکل بنا دیتے ہیں اور اس شکل کی آبیاری کی خاطر باہری دنیا کی مختلف چیزوں سے اس کو سینچتے رہتے ہیں۔ اسلام میں ایسی جابجا مثالیں پڑی ہیں جب حق اور سچ کے باوجود دشمن کی بے غیرتی اور انا پرستی کے سامنے ہمارے بڑوں نے مستقبل کی آبیاری اور دین کی روح کی خاطر بظاہر غلط دکھنے والے فیصلے کو مان کر آگے کی راہ کو پھولوں سے مزین کیا اور عارضی خوشی کو قربان کرکے دائمی تباہیوں سے دستبردار ہوگئیں۔ یہی دور اندیشی میرے مضمون کا مغز ہے۔
سمجھوتہ کرنے کی خصلت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے ہم سب کو پہلے زندگی کو سمجھنا ہوگا۔ زندگی خود غلط نہیں ہے۔ حقیقت میں کوئی چیز خراب ہی نہیں ہے۔ Osho کی ایک بات سے میں اتفاق کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ایسا کیا رکھا ہے کہ انسان سمجھوتہ نے کرے۔ ہاں! کچھ دنوں کی خوشی کی خاطر سمجھوتہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جس انسان میں سمجھوتہ کرنے کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے، وہ زندگی کی باریکیوں سے بھی روشناس ہوتا ہے۔ اپنے حق کو حق کی خاطر چھوڑنے کا کلیجہ ہونا چاہیے۔ ہمارے یہاں ہار اور جیت کے جو پیمانے کھڑے کئے گئے ہیں، اصل میں یہی خرابیوں کی جڑ ہیں۔ یہ کیسے پتا چل سکتا ہے کہ جو چیز جیت میں شامل ہوں وہی حقیقی جیت ہے اور اس کے برعکس جس چیز کو ہم نے ہار کے خاطے میں ڈال دیا ہے وہ کیسے ہار کی انتہا ہے۔ کوئی بھی پیمانہ مکمل نہیں ہے۔ کسی شخص کی جیت کسی دوسرے شخص کے لئے ہار کے مترادف ہے۔ اسی پیمانے میں اگر ہار کو تولا جائے تو کسی کے دل کو توڑ دینی والی ہار کسی دوسرے شخص کے لئے ابدی جیت کا باعث ہوسکتی ہے۔

الغرض ہم سب کو چاہئے کہ ہم سمجھوتے کی روش اختیار کریں۔ جیسے کہ مضمون کے آغاز میں ہی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جھکنے والے پاتے ہیں اور میدان کی رونقیں بھی لوٹ لیتے ہیں۔ جس نے چھوڑا اس نے پایا۔ دنیا سے اندھی محبت کرنے کی وجہ سے سمجھوتہ کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ جو نراشا سے بھر گیا اس کے لئے سمجھوتہ کرنا بہت آسان ہے۔ دوسرے الفاظ میں جس انسان کا دل اپنے دل سے نہ لگے تو پھر اس کا دل کسی اور سے نہیں لگتا ہے اور سمجھوتہ کرنے کے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ہمارے دل اور من کی ایک اچھی عادتوں میں یہ عادت سرفہرست ہونی چاہیے کہ ہم کسی چیز سے ایسے دل نے لگا بیٹھے کہ پھر دل سے وہ چیز نکالنے پر بھی نہ نکالی جاسکے۔ جو انسان اس دنیا اور آخرت کی سرخروئی کے لئے جیتا ہے اس انسان کا سارا دھیان اس بات پر مرکوز رہتا ہے کہ اب اور کتنا وقت بچ گیا ہے کہ میں اس کارخانۂ دنیا سے جھوٹی پرتوں کے ڈھیر اتار پھینک کر چلا جاؤں اور خود میں ڈوب کر ڈوبتا ہی رہوں۔ اس قسم کی سوچ کو پیدا کرنے کے لئے زیادہ جتن کرنے کی ضرورت نہیں ہیں۔ بس جو بھی چیزیں یہاں پائی جاتی ہیں، ان سے لاتعلقی بنائے رکھیں۔ دوسرے الفاظ میں اس زندگی کا خوب لطف اٹھانا ہے۔ لذیذ کھانوں کے علاوہ اونچے اونچے مکانات بھی تعمیر کرنے ہیں لیکن سب سے لاتعلقی کا اظہار کرنا سیکھنا ہے۔ ہر آن اس بات کو مدنظر رکھنا ہے کہ یہ میرا ہونے کے باوجود میرا نہیں ہے۔ مالک کبھی بھی مجھ سے یہ سب چھین سکتا ہے۔ جو بھی ہے بس یہی ایک پل ہے کے مصداق مکان میں سو لو، کھا لو، موج کر لو، جھومو، ناچو، وغیرہ مگر لاتعلقی کا اظہار کرتے رہو اور اسی کو میں سمجھوتہ کہتا ہوں۔ پہلے کی طرح قاریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مضمون کی مختلف تاویلیں ہوسکتی ہیں۔ اپنی گنجائش کے مطابق مضمون سے سبق اخذ کریں۔ میں مضمون سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ اصل میں ہر کوئی لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے اور یہی لاتعلقی کا اظہار کرنا سمجھوتہ کی معراج کی پہلی سیڑھی ہے۔ اللہ ہم سب کو زندگی کے ہر موڈڑپر سمجھوتہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ لکھنے میں کہیں کوتاہی ہوئی ہوں میں اس کے لئے خود ذمہ دار ہوں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کریں۔
(رابطہ۔7006031540)
[email protected]