سمارٹ میٹروں کی تنصیب 15 نومبر سے | سرینگر اور جموں میں 2لاکھ میٹر نصب کرنے کا ٹارگٹ مقرر

سرینگر// حکومت نے کہا ہے کہ سرینگر اور جموں شہروں میں سمارٹ میٹروںکی تنصیب 15 نومبر 2020 سے شروع کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 20,000میٹر لگائے جائیں گے اور یہ عمل پہلے مرحلے میں تب تک  جاری رہے گا جب تک پی ایم ڈی پی کے تحت منظور شدہ 2 لاکھ میٹر انسٹال نہیں کئے جاتے ہیں۔ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکریٹری روہت کنسل نے مرکزی سپانسر شدہ سکیموں اور سمارٹ میٹروں کی تنصیب کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ طلب کی۔ میٹنگ کے دوران پروجیکٹ کو نافذ کرنے والی ایجنسی (پی آئی اے) ، آر ای سی پی ڈی سی ایل سے پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس میں مزید تاخیر نہ ہو اور متعدد مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت دیگر شہری اور دیہی علاقوں میں پیمائش کے عمل کو بھی تیزی سے نافذ کیا جائے۔میٹنگ میں جانکاری دیتے ہوئے پروجیکٹ عمل آوری ایجنسی ( پی آئی اے ) آر ای سی پی ڈی سی ایل کے اَفسران نے بتایا کہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب سے صارفین کو اپنے بجلی کی کھپت کا اندازہ اور اور ٹھیک وقت پر بل کا بھی پتہ چل سکے گاجس کے ذریعہ وہ بوجھ کا انتظام کرکے ماہانہ بل کو کم کریں گے۔ صارفین کو گھر سے دور رہتے ہوئے بجلی کی فراہمی اوراستعمال میں بوجھ کی صورتحال کا بھی پتہ چلے گا۔ پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ سمارٹ میٹر وں سے میٹر نگ ، بِلنگ اور جمع کرنے میں شفافیت آئے گی جس سے بجلی کے نقصانات کو کم کیا جائے گا اور صارفین کو معیاری اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ صارفین سمارٹ میٹروں کو اُسی طرح رِی چارج کرسکتے ہیں جیسے موبائل فون رِی چارج ہوتے ہیں ۔اِس طرح دستی میٹر ریڈنگ اور کاغذی بِلوں کی تقسیم کی ضرورت ختم کی ہوجائیگی۔ میٹر کو مواصلاتی چینلوں کے ذریعہ سرینگر کے ڈیٹا سینٹراور جموں کے ڈیٹا ریکوری سینٹر میں دور سے ریڈ کیا جائے گا جس سے کارپوریشنوں کو صارف کے اختتام پر بجلی کی فراہمی کی حیثیت کا پتہ چلنے میں بھی مدد ملے گی اورسسٹم کی خرابی یا کوئی اور وجہ سے بجلی کی مداخلت کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی۔دیہی اور شہری علاقوں میں مختلف مرکزی معاونت سکیموں تک بجلی نظام کو مستحکم بنانے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے قیام پر جاری کام کا جائزہ لیتے ہوئے عمل آوری ایجنسیوں نے انہیں جانکاری دی کہ آئی پی ڈی ایس اور پی ایم ڈی پی بلدیاتی سکیم جس کے لئے 1590 کروڑ روپے منظور کئے گئے ،کے 11پروجیکٹوںمیں سے 6 پروجیکٹ دسمبر 2020 تک مکمل کئے جائیں گے جبکہ 4پروجیکٹ مارچ 2021 ء اور باقی ماندہ ایک جون 2021تک مکمل کئے جائیں گے۔ اسی طرح ڈی ڈی یوجی جے وائی اور پی ایم ڈی پی دیہی سکیموں، جن کیلئے 1777کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں ،کے 19پروجیکٹوں میں سے 4 پروجیکٹ فروری 2021تک مکمل کئے جائیں گے اور باقی ماندہ پروجیکٹ مارچ 2021تک پایۂ تکمیل تک پہنچیں گے۔28قصبوںکیلئے 1665کروڑ روپے کی مالیت آر اے پی ڈی آر پی ۔ بی پروجیکٹوں میں سے 12 قصبوں کے پروجیکٹوں کے نومبر 2021 مکمل کئے جائیں گے۔ 11پروجیکٹوں کو جون 2021 اور تین پروجیکٹوں کو دسمبر 2021 تک مکمل کئے جائیں گے ۔پرنسپل سیکریٹری نے اس موقعہ پر کہا کہ انتظامی محکمہ سطح پر پروجیکٹ یونٹ نگرانی تشکیل دیا گیا ہے اور ویب پر مبنی ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے جس کے تحت پروجیکٹوں کی پیش رفت بشمول طبعی اور مالی پیش رفت ، حصولیابیاں ، رُکاوٹوں وغیرہ سے متعلق باقاعدہ رِپورٹ درج کئے جائیں گے۔پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ ڈیش بورڈ کے ساتھ ایک فعال منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم منسلک کیا جائے گا۔ پروجیکٹ منیجمنٹ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ڈیش بورڈ اور ایم آئی ایس کیلئے ڈیٹا فراہم کریں تاکہ پروجیکٹوں کی بلا رُکاوٹ عمل آوری کو یقینی بنانے کے اصلاحی اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔