سمارٹ میٹرنگ کا عمل مارچ 2022تک مکمل کیا جائیگا:چیف سیکریٹری

سرینگر//مرکزی سیکریٹری داخلہ اجے کمار بھلہ نے پیر کو مرکزی زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی، تا کہ سمارٹ میٹرنگ اور پاور سیکٹر اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے ۔ چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کے ساتھ پرنسپل سیکریٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے میٹنگ میں حصہ لیا ۔ ابتداً، وزارت بجلی نے یو ٹی میں سمارٹ میٹرنگ پر حاصل ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب بلنگ اور جمع کرنے کی کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے نقصانات میں نمایاں کمی کا باعث بنے گی ۔ مرکزی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ’’ تجدید شدہ تقسیم سیکٹر سکیم ‘‘ کے تحت اصلاحات کے نفاذ میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تا کہ صارفین کو بجلی کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور مالی اور آپریشنل طور پر موثر تقسیم کے شعبے کو قائم کیا جا سکے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں کُل 20 لاکھ سمارٹ میٹر لگائے جائیں گے جبکہ جموں و کشمیر میں پی ایم ڈی پی /ڈی ڈی یو جی جے وائی اور آئی پی ڈی ایس کے تحت 8 لاکھ سمارٹ میٹروں کی تنصیب کی منظوری دی گئی ہے بقیہ 12 لاکھ میٹر تجدید شدہ تقسیم سیکٹر سکیم کے تحت منظور کئے جائیں گے جس کیلئے فی الحال مطلوبہ تیاری کا کام جاری ہے ۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ آئی ٹی ہارڈ وئیر کی فراہمی اور تنصیب سرینگر میں ڈیٹا سینٹر اور جموں میں ڈیٹا ریکوری سنٹر کے علاوہ نظام کو یوٹیلیٹی بلنگ سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ فی الحال صارف کی قبولیت کی جانچ جاری ہے اور 16-10-2021 تک مکمل ہو جائے گی ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ فراہم کردہ 10,600 میٹروں میں سے 5,000 میٹر آج تک لگائے گئے ہیں۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ حکومت مارچ 2022ء تک جموںوکشمیر میں ایک لاکھ میٹر کی تنصیب یقینی بنائے گی۔ڈاکٹر مہتا نے مزید کہا کہ اگر جموں اور سری نگر شہروں میں سمارٹ میٹروں کی تنصیب مکمل ہوگی تو یوٹی سکیموں کے تحت طے شدہ اہداف کو کم و بیش حاصل کر لے گا کیوں کہ زیادہ تر بجلی ان دو دارالخلافائی شہروں میں استعمال ہوتی ہے۔
مرکزی سیکرٹری داخلہ نے مہتا کے مشاہدے سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں کہا کہ وہ سکیموں میں سنگ میل کی بروقت کامیابیوں کے لئے عمل در آمد کرنے والی ایجنسیوں کو مکمل تعاون فراہم کریں۔چیف سیکرٹری نے یقین دِلایا کہ حکومت جموںوکشمیر پروجیکٹ کی ٹائم لائنز کو پورا کرنے کی کوششوں میں عمل آوری ایجنسیوں کو مکمل تعاون دے گی۔اِس سے قبل چیف سیکرٹری نے مرکزی سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت ایک میٹنگ میں بھی شرکت کی تاکہ سیاحتی ویزے پر ہندوستان کا غیر ملکی سفر دوبارہ شروع کرنے پر غور کیا جاسکے۔ڈاکٹر مہتا نے سرمائی موسم سے پہلے غیر ملکی سیاحت کو دوبار شروع کرنے کے خیال کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیرمیں کووِڈ صورتحال بڑی حد تک کنٹرول میں ہے اور غیر ملکی سیاحوں کو جموںوکشمیر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اگر ان کے پاس ڈبل جاب سر ٹیفکیٹ ہے اور انہوں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آر پی سی آر ٹیسٹ کیا ہے۔ڈاکٹر مہتا نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کو جموںوکشمیر میں داخلے کی اِجازت دینا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیوں کہ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں سے وابستہ تقریباً90فیصد لوگوں کو پہلے ہی کووِڈ حفاظتی ویکسین کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔اُنہوں نے کہاکہ غیر ملکی سیاحوں کی طرف سے سفر کی بحالی یوٹی کی سیاحتی صنعت کو بہت زیادہ مدد فراہم کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر بالخصوص سردیوں میں غیر ملکی سیاحوں کا استقبال کرے گا کیونکہ گلمرگ اور یو ٹی میں موسم سرما کے دیگر قدرتی مقامات پر آنے والی سرما میں کئی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔