سماجی دکھوں کو اپنا سمجھنے والافنکار

ندیم مرزا
کہانی اور شاعری یعنی نظم اور نثر انسانی فطرت کا حصہ ہے اور یہ بنی نوع انساں کی تاریخ کے ساتھ ارتقاءپذیر رہی۔ ابتدائی دور میں انسان عدیم الفرصت تھا اس لیئے دونوں کے لئے اس کے پاس کافی وقت تھا، دنوں سے لے کر ہفتوں، مہینوں تک سلسلہ دراز تھا۔ کہانی کے انتہائی عروج و ارتقاء کے بعد افسانے کو عروج حاصل ہوا۔ جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی انسانی مصروفیات بڑھتی گئیں وقت کی کمی نے افسانچے کو جنم دیا۔ کہانی ناول اور ڈراموں کے مرحلوں سے گذرتی ہوئی افسانچہ میں ڈھل گئی۔ افسانچہ میں کہانی نکتئہ عروج سے نکل کر چند سطروں کا سفر کرتی ہوئی اپنے انجام کمال کو پہنچتی ہے۔ افسانچہ کا اختتام انسانی ذہن پر اثر انداز ہوکر اس کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے،بہ الفاظ دیگر افسانچہ کی اجمالی تعریف ’’چھوٹا پیک، بڑا دھماکہ ‘‘ بن جاتی ہے، بقول مراٹھی زبان ’’مورتی لہان، کیرتی مہان ‘‘یعنی’’چھوٹی صورت، بڑی سیرت ‘‘۔ افسانچہ کی اسی تکنیک کو پیش نظر رکھ کر محمد بشیر مالیر کوٹلوی نے کیا خوب کہا ً جیسے صندوق سے صندوقچہ، کتاب سے کتابچہ اور افسانے سے افسانچہ، افسانے کا چھوٹا سائیز۔ چھوٹا سا ئیز مگر تاثر افسانہ جیسا۔‘‘

کسی دور میں کہانی، ناول اورڈراموں کو جو مقبولیت حاصل ہوئی تھی آہستہ آہستہ وہ مقام و مرتبہ افسانچہ کو حاصل ہو رہا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ افسانچہ انگریزی ادب کی دین ہے۔ ہندوستان میں اس کی آبیاری مولوی نذیر احمد 1869ءکی مرآۃالعروس سے نظر آتی ہے، بعد کے دور میں جید افسانہ نگاروں نے اس کی زیب و زینت اور آرائش کو نکھارنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کے سبب افسانچہ اردو صنف سخن کا ایک جزو بن گیا۔ اس وقت میرے سامنے خالد بشیر تلگامی کی  ’’دکھتی رگ ‘‘ہے۔ خالد بشیر نوجوان قلم کار ہیں اور ان کی کتاب ان کی بھر پور صلاحیتوں کی عکاس ہے۔دریا کو کوزہ میں بند کر نے کا ہنر وہ بہت خوب جانتے ہیں۔ عوامی درد اور احساس کو سمیٹ کر مختصر ترین الفاظ کا جامہ پہنانا سب کے بس کی بات نہیں۔ وہ اپنے سینے میں ایک حساس دل رکھتے ہیں۔ اپنے اطراف بکھری کہانیوں کا مشاہدہ ان کے فن کو کمال عروج تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق پر ان کی گرفت مضبوط نظر آتی ہے ان کا قلم ادب برائے زندگی کا ترجمان ہے۔ ان کی تحریر علاقے کی ترجمانی کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے مداحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے. علاقے کے اخبارات و رسائل کی وہ زیب و زینت ضرور ہیں مگر ان کے نوک قلم سے ٹپکا لہو کا قطرہ ملک کی وسعت کی طرح وسیع تر ہے۔ کتاب کا عنوان ’’دُکھتی رگ ‘‘ اپنی معنویت کے ساتھ ساتھ ایک دہکتا انگارہ ہے جہاں ان کا قلم خارجی احساسات کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو داخلی معاملات کا بھی حسیب ہے۔ کتاب کا پہلا افسانچہ اپنے چھوٹے قد کی حدود سے باہر نکل کر حرکت میں آتا ہے تو بٹواڑہ جیسا افسانچہ جنم لیتا ہے. سماج میں بکھری اخلاقی پستی کی منظر کشی اس سے بہتر کیا ہوگی………….. صفائی۔۔

اپنے دروازے کے سامنے کھڑی جوان اور قبول صورت بھکارن کے سوال پر گھر کے مالک نے کہا

ً بھیک مانگتے تمہیں شرم نہیں آتی، تمہارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں، تمہاری صحت اچھی ہے، دوچار گھروں میں برتن اور کپڑے صاف کرنے کا کام کرسکتی ہو ً

بھکارن نے درد بھرے لہجے میں کہا

ً کہتے تو آپ ٹھیک ہیں صاحب… میں کئی گھروں میں برتن مانجھنے اور گھر کی صاف صفائی کا کام مانگنے گئی تھی مگر وہاں مجھے صفائی کا کام کیا دیتے… لوگ مجھ پر ہی ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے!!!

سرکاری دفاتر میں فرائض منصبی کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی طرف افسانچہ ’’آہ‘‘ نمائندگی کرتا ہے۔افسانچہ ً روٹی ً کا اگر عنوان تھپڑ ہوتا تو اس کی گونج بہت دور تک سنائی دیتی۔ بنتے بکھرتے رشتوں کی بات کر تے ہیں تو افسانچہ’’ باپ بیٹا‘‘ جیسا بہترین افسانچہ طمانچہ رسی کرتا ہے۔ دیگر افسانوں میں نجات، امداد، آسیب زدگی، بلیدان، گناہ کا کھیل ایک سے بڑھ کر ایک ہے ایک اور افسانچہ… لا وارث… جو روح کی گہرائیوں تک اثر کر جاتا ہے…. لا وارث…. اسے تنہا زندگی گذارتے ہوئے کئی سال بیت چکے تھے۔ کئی بار بیٹے کو فون کر کے کہا کہ اس بڑھاپے کا سہارا بن جائو، پر ڈاکٹر بیٹے کو کبھی بھی باپ سے ملنے کی فرصت نہیں ملی باپ کے انتقال کے بعد بیٹے کو خبر دی گئی۔بیٹا آیا تو باپ کو لوگ غسل دینے لے جا رہے تھے۔

غسل سے پہلے میت کے کپڑے اتارے گئے تو جیب سےتہہ کیا ہوا ایک کاغذ ملا، جسے پاس کھڑے بیٹے کو دے دیا گیا کاغذ ہاتھ میں لیتے ہی بیٹا یہ سوچ کر غسل کی جگہ سے جلدی سے باہر نکلا کہ کہیں یہ وصیت کا کاغذ نہ ہو، اور چھپ کر اسے پڑھنے لگا لکھا تھا…. 

بیٹے، تم جیتے جی مجھ سے ملنے نہیں آئے، اب مرنے کے بعد آئے ہو تو مہر بانی کرکے میری قبر پر یہ کتبہ لگوادینا… میں ایک لا وارث باپ ہوں!!! 

الغرض خالد صاحب کے کس کس افسانچے کا تذکرہ کروں، ہر افسانچہ اپنے اندر سمندر کی گہرائی رکھتا ہے ہر ایک کا تذکرہ کروں تو ایک کتاب تیار ہو جائےگی، قاری کے لیئے کیا بچے گا۔ خالد بشیر کی تحریر سےپتہ چلتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ انسانیت کا درد جب اپنا بن جاتا ہے تو کشمیر کی وادیوں سےنکل کر پوری دنیا کی دکھتی رگ بن جاتا ہے رب تعالی ان کے قلم کو اور روانی بخشے….

���

 بیڑ مہا راشٹر انڈیا

موبائل نمبر؛7744014147