سماجی خدمات ۔انسانیت کا بہترین عمل

مہاراشٹر میں تھانے ضلع کے کلیان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن ششی شیٹی کا کہنا ہے کہ ’’ملک کے دیہی علاقوں میں کووڈ19 کے خلاف جنگ میں آشا کارکنان دفاع کی پہلی لائن رہی ہیں‘‘۔ششی نے بر سو ں تک مہاراشٹر میں پسماندہ طبقات کے افراد اور بچوں کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔ حالیہ دنوں کووڈ۔19 کو ختم کرنے کے لئے مہم چلانے میں ششی اور ان کی ٹیم نے آشا (ایکریڈ یٹڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ)کارکنوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔ششی شیٹی اپنے دن کی شروعات کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے اور فون کال پر رابطوں سے کرتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اور ان کی ٹیم نے مہاراشٹر میں مرباد،ملشیج گھاٹ کے سرل گاؤں میں آشا کارکنوں کے لیے ایک مہم کا اہتمام کیا۔ ششی کہتی ہیں کہ ’’اپنی حمایت کی علامت کے طور پرہم نے ان مشکل اوقات میں آشا کارکنوں کی خدمات کو اعزاز بخشنے کے لیے ان میں ساڑھی اور گروسری کٹ تقسیم کرنے کی مہم کا اہتمام کیا‘‘۔پرجوش مُسکراہٹ کے ساتھ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’ایسا اسلئے کیونکہ وہ ہر دن اپنی جان کو خطرے میں ڈالتی ہیں‘‘۔
بھورے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس، ہاتھوں میں نوٹ بک لئے تقریباً 195 آشا کارکن اس تقسیم کاری مہم کا حصہ بنیں ہیں۔ یہ خواتین باقاعدگی سے اپنے طے شدہ گاؤوں میں عوام کے درمیان کورونا سے بچاؤ کے لئے بیداری پھیلانے، علامات، آکسیجن کی سطح اور درجہ حرارت کی جانچ کرنے کے لئے ہر دن میدان میں سرگرم رہی ہیں اوروہ باقاعدگی سے اپنے معمول کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں، جن میں حاملہ خواتین کے لیے قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش کی دیکھ بھال اور بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی مہم شامل ہے۔ تپ دق، ایچ آئی وی ایڈز اور اب کووڈ۔19 سمیت متعدد بیماریوں کی نگرانی کے مختلف پروگراموں میں صف اول میں رہنے کے باوجود، وہ اب بھی کل وقتی ملازمین کے طور پر پہچانے جانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ جبکہ ان اوقات میں وہ کووڈ۔19 کے تئیں عوام کے خوف کا پہلا شکار ہوئی ہیں۔
تقسیم کاری مہم کے دوران ششی نے ان خواتین کو ان کی خدمات کے لیے سراہا۔جس سے ان کے چہروں پر فوری مسکراہٹ آگئی۔وہ ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے مقامی مڑاٹھی زبان میں کہتی ہیں’’تملہا یو نیفا ر مس دے لے آہیت،تمہی سرواسینیا آہت‘‘۔(آپ کو یونیفارم دیا گیا ہے، آپ ایک فوجی ہیں)ششی نے بتایاکہ ’’ہم لوگ مقامی سرپنچ سیما اور انیل گھرت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، وہ انتہائی کمزور لو گو ں اور خاندانوں تک پہنچنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، ہم نے ان آزمائشی اوقات میں تقریباً 195 آشا کارکنوں کی مدد کی ہے‘‘۔ایک ماہر تعلیم اور ایک ہوٹل چلانے والی ششی شیٹی کو گذشتہ سال مہاراشٹر کے گورنر نے’سماج سیوا رتن گورو پراسکار‘سے نوازا تھا، جو خوراک کی امداد کے لیے دوسری لہر کے دوران کئے گئے ،ان کے کام کے اعزاز میں دیا گیا تھا۔ فی الحال، وہ ہیلتھ ایجوکیشن اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے وقف ممبئی کی ایک غیر سرکاری تنظیم انڈین ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن (آ ئی ڈی ایف) کا حصہ ہیں۔
ایک سماجی کارکن کے طور پر اپنے سفر کے آغاز پر بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔’’اس کا آغاز آئی ڈی ایف اور ہمارے پروجیکٹس آشائیں اور انّ دانم سے ہوا۔اپنے سوشل والنٹیئرس (سماجی رضاکاروں) کے اقدام کے ایک حصے کے طور پر ہم چھوٹے بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہم بنیادی طور پر غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرتے ہیں اور اس کے علاوہ تفریحی اور تعلیمی پروگرام دونوں کا اہتمام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے قبائلی مہاراشٹر کے دور افتادہ علاقوں تک پہنچنے میں مدد ملی‘‘۔وہ مزید بتاتی ہیں کہ کس طرح وہ ان قبائلی علاقوں میں اکثر آتی رہی ہیں اور بچوں اور کمزور کمیونٹیز کے افراد تک پہنچتی رہی ہیں۔ ششی کے لیے وبائی بیماری ایک بگل تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ’’میں ہمیشہ سے ایک فوجی بننا چاہتی تھی۔ لوگوں کی خدمت کے لیے جب بھی صدا دی گئی،میں نے دل کی آواز کو سنتے ہوئے لبیک کہا۔میں بھی یہاں بہت سے لوگوں کی طرح کووڈ۔19 کے خلاف جنگ میں ایک پیدل فوجی کی طرح میدان میں تھی۔‘‘
ششی کو پختہ یقین ہے کہ کسی کی آواز ان کے قبیلے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممبئی میں لوگوں کی ایک اجتماعہ پہل ’کھانا چاہئے فاؤنڈیشن‘سے منسلک ہوئیں۔ جس نے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران غیر معمولی کام کیا تھا اور دوسری لہر کے دوران بھی اپنا کام جاری رکھا تھا۔ ششی کہتی ہیں ،’’شروعاتی دور میں ان کی سرگرمیوں میں کلیان شامل نہیں تھا، لیکن بھوک سے لڑنے میں مدد کرنے کے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ، میری ٹیم، تورن ناگدا اور دنیش ٹھاکر اور کچ یووا سنگھ، نے شہر میں ایک کمیونٹی کچن شروع کیا اور دور دراز کے ان اندرونی حصوں کا بھی ہم نے احاطہ کیا جہاں تک کھانا پہنچانے کا ہم نے ہدف تیار کیا تھا۔‘‘
حال ہی میں ششی اور ان کی ٹیم نے ٹھانے ضلع کے مرباد میں اسپیشل بچوں کے رہائشی اسکول ’’اونی ماتیمند ملنچے نواسی ودیالیہ‘‘نام کے ایک خصوصی اسکول میں کھانے کا انتظام بھی کیا ہے۔ ان کے کاموں کی یہ فہرست دن بہ دن طویل ہوتی جا رہی ہے۔انسانی خدمت کی بہترین مثال بننے والی ششی آج سماجی خدمت کرنے والوں کی رول ماڈل بن چکی ہیں،وہ نوجوانوں کے لئے تحریک کا ذریعہ ہیں۔
(ممبئی، مہاراشٹر)