سماجی خدمات: دردِ دل مفقود کیوں ؟

تصویر بناتاہوں خونِ جگر سے تصویرنہیں بنتی

اک خواب سا دیکھاتھا تعبیر نہیں بنتی 

یہ بات انتہائی تکلیف دِہ ہے کہ ہماراسماج جس میں ہم اور آپ رہ رہے ہیں ، صرف لینے کی فکر میں لگا ہو اہے۔ ایک مختصرسی زندگی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے ہم اپنے آنے والے کل کے بارے میں بے فکرے ہیں ۔ ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکر مندہے اور اسے اپنے ارد گر د کراہتی زندگیوں ، تڑپتی روحوں ، سسکتی اور بلکتی انسانی جانوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر لمحہ بھر دیکھنے کی مہلت نہیں ۔
آج گویا ہم حیوانی سطح پر جی رہے ہیں کیونکہ حیوان ہی اس طرز ِ عمل کا مظاہرہ کرتاہے مگر انسان کی سطح اس سے بلند ہے انسان تمام مخلوقات میں افضل ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے مطابق جو روّیہ ہو تا ہے ،وہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہوکر نہ جیئے بلکہ ساری انسانیت کو اپنے اندر سمیٹ لے ۔ وہ دنیا میں اس طرح زندگی گذارے کہ وہ دوسروں کا خیر خواہ بناہوا ہو۔
ریاست جموں وکشمیر کے عصر رواں کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ناگفتہ بہ حالات سے سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے ، یہاں سماج سے بچھڑے حاجت مندوں ، یتیموں ، بیواؤں ،موذی بیماریوں میں مبتلا مریض مختلف ہسپتالوں میں کسمپرسی کی حالت میں پڑے رہتے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف نفرتیں اور بغاوتیں ، معاشی بدحالیاں اور معاشرتی ناہمواریاں جیسے قابل ذکر مسائل ہمارے لئے جان لیوا بن چکی ہیںاور دُکھ یہ کہ اس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتاجارہا ہے۔ صورتِ حال ہر اعتبار سے بہت گھمبیر رُخ اختیار کرچکی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ کچھ سرکاری یا غیر سرکاری تنظیموں نے اس سلسلے میں اپنی بساط کے مطابق کوشش کیں مگر وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو حاجت مند اور مفلوک الحال لوگ ان سے مستفید ہورہے ہیں،ان کی تعداد کو انگلیوں پر گنا جاسکتاہے ۔
 حق یہ ہے کہ یہ سارے ادارے اعلانات اور اشتہاربازی تک محدود ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ انسانیت کا کاروبار کرنے والے بہت سے مکار لوگ سرکاری خزانے سے NGOsکے نام پر بھاری رقوم حاصل کرتی ہیں لیکن مستحقین تک اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں پہنچتا ، ستم ظریفی کی بات یہ بھی ہے کہ وادیٔ کشمیر میں جتنے بھی نام نہاد غیر سرکاری فلاحی ادارے ہیں وہ زیادہ تر تعمیراتی کاموں میں مصروف ہیں، وہ یا تو اپنے دفتر کو سجانے سنوارنے کے فکرمند ہیں یاتو ان کے ذمہ دار اور ان کے اہلکار ادارے کی ایمبولینسز میں ادھر اُدھر گھومتے نظر آتے ہیں ۔کچھ ادارے اپنے خیراتی ایجنٹ شہر کے گلی کوچوں میں چندہ جمع کرنے کے لئے جو قدرجوق بھیج دیتے ہیں اور ان کا دوسرا مشغلہ یہ بھی ہے کہ بڑے بڑے سالانہ سمینار ، سالانہ جلسے وغیرہ کرکے اپنی ’’کارکردگی‘‘ کا شو کریں اور لوگوں کو الو بنائیں ۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ کچھ ادارے ایسے بھی ہے جو غیر تسلیم شدہ ہے اور سرکار کے کئی اعلیٰ افسران ان کے سمیناروں میں شرکت کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ان میں کچھ ریٹائرڈآفیسران بھی ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائزرِہ چکے ہیں جو ان کے مفاداتی پرگرواموں بھی ذو وشوق سے شرکت کر کے اپنا فالتو وقت بِتاتے ہیں ۔ان سمیناروں میں کھانے پینے کا عمدہ انتظام ہوتاہے  جو کہ اسی جمع شُدہ زکوٰ ۃ اور خیراتی رقومات سے نچوڑی یا لوٹی جاتی ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ خیراتی رقومات غیر ضروری مصارف میں ہی زیادہ خرچ ہوتی ہیں ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ جب بھی وادی میںنامساعد حالات عروج پر ہوتے ہیں توفلاحی اداروں کی ایمبولنس گاڑیاں کہیں نظر نہیں آتیں۔ اس کے علاوہ کچھ پارلیمنٹ ممبران اور سیاسی ،سماجی ، مذہبی شخصیات اور اداروں نے بھی ایمبولنسیں قوم کے نام وقف کی ہیںجن پر موٹے موٹے لفظوں میں اس شخصیت یا ادارے کا نام تحریر ہوتا ہے ، جب حالات ٹھیک یا نارمل ہوتے ہیںتو اداروں کے لوگ اُن گاڑیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ گویا کام ہے بیمار ہے، کھانا ہے تیار ہے ۔ یہ گاڑیاں وقت ِضرورت روپوش ہوجائیں تو ان کا مقصد کیا ؟ بالفاظ دیگر یہ لوگ تشہیر اور مال بٹورنے کی حد تک محدود ہے ، کام کے لئے ان کے پاس نہ جذبہ ہے نہ اس کا شعور، جب کہ مجبور عوام اپنی بے کسی اور بے بسی میں تڑپتے ہیں۔ اس تناظر میں حال کی ایک مثال دی جاسکتی ہے جو سری نگر سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ میں  9؍ مئی 2018ء بروزِ بدھ ایک تصویر کی صورت میں صفحہ اوّل کی زینت بنی ، آپ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کس طرح ایک غریب مریض کی میت ٹیکسی میں گھر کی طرف لائی جارہی ہے جب کہ کمبل میں لپٹی اس کی ٹانگیں گاڑی سے باہر ہیں ۔ یہ تصویر ہمارے سماج پر ایک تھپڑ ہے اور سوال کھڑا کرتی ہے کہ این جی اوز کی ایمبولیسنز کا  آخر مطلب کیا ہے ؟ 
 نیز راقم کی یہ عرض داشت ہے کہ وادیٔ کشمیرکے سرکاری ملازمین انجمنیں اور جو بھی ہو سڑکو ں پر احتجاجی دھرنے کے بجائے مظلوم قوم کے دُکھ درد کو سمجھ کر اُن کی خدمت کو اپنا فرض ِاول سمجھیں ۔ مزید برآں اس مہمان نواز وادی میں مہمان سیاحوںکی مدد ہی نہٰن احترام بھی کریں ۔ یہ ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے۔ ہم سب کو اپنی اپنی جگہ انسانی سوچ اور غیر ت مندانہ کردار نبھاناہوگاتاکہ وادی کے لوگوں کا دکھ درد کم ہو اور ہم عزت مندانہ اور آزادانہ زندگی بسر کرسکیں ۔اس وقت ہمارے لئے صحیح اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر فرد ، زکوٰۃ ، صدقہ ، خیرات بذاتِ خود اوربراہِ راست مستحقین اور محتاجین کو پوشیدہ طریقے سے پہنچائیں اور ان کی معاونت کرکے اپنے خاد کو خوش کریں ۔اس کے علاوہ ہسپتالوں میں داخل حاجت مندمریضوں کی مالی معاونت ، ادویات کا بندوبست کرکے خیرداریں حاصل کریں ، یہ بندگی کا سب سے بہتر اور افضل نمونہ ہے ۔ ہمیں اپنے دوست احباب ور اہل وعیال کو بھی یہی طریقے سکھانے چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہاتھوں سے خیرات دینے کی توفیق عطاکرے ۔ بیواؤں اور مسکینوں کی فکر اور اس کے لئے تدبیر اور کوشش کرنا ہر گز کوئی معمولی نیکی نہیں۔ ایسی کارآمد کوشش جہادِ فی سبیل اللہ سے مماثلت رکھتی ہے اور یہ نیک عمل ایسا ہے جیسے کوئی شخص راتوں کو عبادت میں مشغول رہتاہو اور دن میں خدا کی خوشنودی کے لئے روزہ رکھتاہو ۔
 
9469679449