سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سلسلے میں ہندوستان اپنے موقف پر قائم

نئی دہلی / واشنگٹن// ہندوستانی حکومت نے آج واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کی توسیع اور مستقل رکنیت کی دعویداری کے تناظر میں اس کا رخ پہلے کی طرح ہی ہے ۔سرکاری ذرائع کی یہ وضاحت امریکہ کے اس مشورے کے سلسلے میں آئی ہے کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ویٹو پاور پر زور نہیں دینا چاہئے ۔ذرائع نے یواین آئی کو بتایا کہ ہندوستان نے بہت پہلے یہ واضح کر دیا تھا کہ اسے سلامتی کونسل میں موجودہ مستقل ارکان کی طرح ہی یکساں ذمہ داری،اختیارات اور استحقاق دیئے جانے چاہئے ۔اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ھیلے نے کل کہا تھا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیادہ سے زیادہ رکن شامل کئے جانے کے لئے اصلاحات کے حق میں ہے لیکن ہندوستان کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ویٹو پاور کے معاملے پر دباؤ نہ ڈالے ۔محترمہ ہیلی نے واشنگٹن میں ہند امریکی دوستی کونسل نامی تنظیم کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ یواین ایس سی کے پانچ رکن ممالک – امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین ویٹوپاور کا حق چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ بغیر ویٹو حق کے کونسل کی توسیع کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اس کے لئے تیار ہے ، لیکن اس کے بارے میں غور کرنے کی باری روس اور چین کی ہے جو سلامتی کونسل میں کسی طرح کی تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ امریکی سفیر نے کہا کہ سیکورٹی کونسل میں تبدیلی ہونی ہے اور ہندوستان کو اپنے حق میں زیادہ سے زیادہ حامی تیار کرنا چاہئے ۔سرکاری ذرائع نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ میں اصلاحات پر اصرار کرتارہے گا۔ ہندوستان نئے مستقل اراکین کو موجودہ مستقل اراکین کی طرح اختیار دئے جانے کے حق میں ہے ۔ہندوستان ہی نہیں، بلکہ بہت سے دیگر ممالک کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد سے دنیا میں بہت سے ملک ابھر کر سامنے آئے ہیں اور اس عالمی تنظیم کی موجودہ ساخت زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہے ۔یو این آئی۔