سفر آدم کا پابندی سے سرکشی تک

یہ جو جینے پر پابندی ہے جینے نہیں دیتی 
یہ جو مرنے پر پابندی ہے مرنے نہیں دیتی
پابندی ہر صورت میں پابند رہنے کا تقاضا کرتی ہے یعنی جس کسی بھی چیز میں پابندی کو لازمی قرار دیا جاتا ہے وہاں سے عبور و مرور کا سفر ختم ہو جاتا ہے جو بندہ خدا کے لیے ایک اصول مقرر کرتا ہے جس اصول میں یا تو حیات مقید رہتی ہے یا پھر موت ۔پابندی کا عمل خود میں ایک سلسلہ ہزار ہا کی داستان رکھتا ہے جس کا ابتدائی سفر آدم کی پیدائش سے جڑا ہوا ہے جہاں پابندی کے حدود کو سرکشی سے توڑا گیا اور بغاوت کا فن معرض وجود آیا جس نے سرداروں کے تاج چھین لیے اور جنت میں رہنے والے پابندوں کی پابندی کو با معنی بنا ڈالا اور اس بغاوت نے نئے اصول قائم کئے، جن اصولوں پر چل کر دنیا کے ا نسانوں نے نئے اسباق سیکھ لئے لیکن یہ سیکھنے کا عمل لاکھ پردوں سے نکل کر میدان کارزار میں جنگ و جدل ،گناہ و ثواب نیکی اور بدی کے پیمانوں میں زندگی کا فن سیکھ رہا ہے جس میں اس سے پابندی اور سرکشی سے واسطہ پڑتا ہے ۔ 
پابندی اگر چہ ظاہری سطح پر مختلف ہتھیاروں سے کام لیتی ہے لیکن اس کا عمل یقینی حدودکا تعین رکھتا ہے جہاں پابندی کو ہی مقید کر لیا جاتا ہے جو ایک ا یسا سفر ہے جس میں سے ہر کسی کا گزر ممکن نہیں بلکہ صرف گزر ان ہی کا ہو سکتا ہے جوتخلیقی وسعتوں کو خود میں سما سکتے ہیں۔ یہ سمانے کامعاملہ بھی عجیب عالم رکھتا ہے جس میں نہ ہی اطراف کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی زمین و آسمان کی زندانی ،جو خود میں خود کی پابند ہوتی ہے جس پر کسی کی پابندی لازمی نہیں ہے۔ مگر یہاں فن سرکشی کو دوام حاصل ہے جہاں سے بھی ہو تعریفوں کی قابل گردانی جاتی ہے جس سے نہ مرنے کا غم اور نہ ہی جینے کی فکر البتہ ہر اس راستے کا گزر یہی سے ہوتا ہے جو نہ ہونے کا پتہ خود میں رکھتی ہے ۔   ؎
ڈبویا مجھ کو ہونے نے 
نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ؟…غالب ؔ
لب پہ پاندی تو ہے احساس پر پہرا توہے 
پھر بھی اہل دل کو احوال بشر کہنا تو ہے (ساحر لدھیانوی ؔ)
دنیا میں کروڑوں انسان رہتے ہیں جو کھل کر جینا چاہتے ہیں نیز زندگی کی دولت کو قیمت بے بہا سمجھ کر جی لیتے ہیں یا جینے کی خواہش رکھتے ہیں مگر کچھ پابندیاں ایسی آڑے آتی ہیں جینے کی اجازت نہیں دیتیں بلکہ اس پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرتی ہیں اور انسان لاچارگی کا مظاہرہ کر کے واپس لوٹ جانے کی سعی لاحاصل کرنا چاہتا ہے جس میں کامیابی مل جانا عبث ہے اور نتیجے کی بنیاد پر آدمی آرزئوں اور تمنائوں کی حیفی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں سے خود کو پانے کی جستجو کا راستہ نکل آتا ہے ۔
تمہاری آرزو میں میں نے اپنی آرزو کی تھی 
خود اپنی جستجو کا آپ حاصل ہوگیا ہوں میں(شہزاد احمد)
اگر پابندی کا عمل دخل موت پر نہیں ہوتا تو کتنے لوگ دنیا میں روزانہ بنیادوں پر پیار سے مرتے یا موت کو گلے لگاتے اور خوشی خوشی خود کو خوش کرتے لیکن نظامِ قدرت کا انداز ہی نرالا ہے کہ جس میں ابن آدم کی سوچ کو کئی سطحوں پر پابند رہنے کا قابل بنادیا گیا ہے ۔ چاہے یہ نظام سماجی اصولوں کی بندش پر مبنی ہویا آسمانی ہدایات کے مطابق ہو۔
پابندی کا ہونا اور نہ ہونا خود میںایک عمرانیاتی مسئلہ ہے جو متعلقہ معاشرتی تضاضوں سے متعلق ہو جس کا ہونا کبھی مبارک ہے اور نہ ہونا کبھی نا مبارک ثابت ہوتا ہے ،کبھی ایک نوید صبح آدم کو جینے کی پابند بنا لیتی ہے  اور کبھی شام غم اس پابندی کو توڑنے پر اکساتی ہے۔ دونوں کا مخلوط عمل ایک امتزاج رکھتا ہے جس کا دامن یا تو چاک گریباںمعلوم ہوتا ہے یا جس کا حسن عالم بے خوابی میں نکھر جاتا ہے ۔ 
پابندی کے کچھ صنفی تقاضے بھی ہوتے ہیں جن سے گزر کر اس کا گذر ہوتا ہے جن میں کناروں کی پابندی، زلفوں کی پابندی ،خیالات پر پابندی ، قلم پر پابندی، تعمیر کی پابندی ، لباس کی پابندی، ادائے حسن پر پابندی، خیال خیام پر پابندی، نگاہ نور پر پابندی، لبوں کی پابندی ، قانونی پابندی، احساس پر پابندی اور مختلف جذبوں پر پابندی وغیرہ شامل ہیں ۔ 
وقت کی پابندی کا درس ہمیشہ سے دیا گیا ہے کیونکہ وقت کی پابندی ہر زماں و مکان سے آزاد ہے ۔ جس کا راز اسی بیان میں پوشیدہ ہے کہ وقت کی پابندی کامیابی کی ضمانت ہے اور جس نے یہ ضمانت حاصل کی اس کی پابندی اس کے کام آتی ہے مگر جس شخص نے اس پابندی سے بغاوت کی وہ باغی کہلایا اور باغی سے وعدہ ہے کہ جو پابند ہے وہ ہمارا ہے اور جو سرکش ہے وہ یقیناً تمہارا ہے ۔ اس ہمارے اور تمہارے چکر نے بے چارے آدمی کو زمین ،جیداد اور نفس وراثت میں دے کر حساب کے ترازو میں مقید کر کے میزان کی قندیل میں معلق کر کے دنیا کی رعنائیاں پیدا کر کے آدمی کا دل بہلانے کا حسین فن پیدا کیا اور لذیذ نعمتیں عطا کر کے ہوائوں کو معطر کر کے ،سبزہ چمن زاری کا ہنر عطا کر کے ،بہتے آبشار پیدا کر کے ،پہاڑوں کی تعمیر کر کے اور اسی طرح کی مختلف نعمتیں عطا کر کے جہنم اور جنت کے حد فاصل کھینچ کر بشر کو حشر کے لیے رقم کیا ۔بقول شاعر ؎
تیری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے 
کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے(جنید حزیں لاریؔ) 
تماشائے گلشن ،تمنائے چیدن
بہار آفرینا گہنگار ہے ہم…غالب ؔ 
کہا جانا چاہیے جہاں جلوے حسن کے عیاں ہوں اور پابندی ملزوم ہو ،جہاں احساس کی فراوانی ہمیشہ عقل کے حصار میں ہو، ایسے جیسے کہ جذبات کے خود سر عناصر کو دشمنوں نے ایک خطرناک پہرے میں جیل رکھا ہو جہاں سے احساس کی آہیں بھی ہوا کی نالیوں سے نکل جانے کا حوصلہ نہ رکھتی ہوں اور اس طریقے کے پہرے میں بصری ،شامی ،لمسی ،سمعی نیز باقی طرح کے تمام احساس گویا پابندی کے دائرے میں آگئے جس سے انسانی وجود محض ایک ڈھانچہ بن کے رہ گیا جو دیکھتا تو بہت کچھ ہے لیکن کہنے پر پابندی عائد ہے جو محسوس سب کچھ تو کر سکتا ہے لیکن احساسی سطحوں پر پہرے کی وجہ سے محسوسی کیفیات کا اظہار کر نے کی صورت میں نہیں ہے ۔احساسی پہروں کو توڑنے کی کوشش کرنے والے شیر دل انسان یا تو امر ہوجاتے ہیں یا پھر دنیا کی تمام رعنایاں اس پر مفقود ہو کر مقیدی کی حیات میں اس شخص کو درج ہونا پڑتا ہے جہاں احساس پر پہرے تو نہیں لگتے بلکہ پہرے ظاہری وجسمانی اعضا ء پر لگ جاتے ہیں اور مقیدی کی ناکامی یہ کہ احساس اور زیادہ تر و تازہ ہوجاتے ہیں لیکن کیا کیا جائے ایسی پابندی کا جو پھر بھی عائد رہتی ہے اور لوگ بھروسے کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ہم پا ہی لیں گے ۔جس کو شاعر نے یوں کہا ہے ۔
ہم کہ مایوس نہیں ہے انہیں پا ہی لیں گے 
لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے (عرش صدیقی ؔ)
تاریخی اوراق گوا ہ ہیں جنہوں نے وقت کی پابندی کی قسمت نے ان کو پابند بنا ڈالا اور وہ سب کچھ عطا کیا جس کے لیے شاید وہ بنے تھے اور اس طرح سے ان کی حیات جان جاویداں بن کر رہ گئی اور جن کے یہاں اس پابندی کو نکالا گیا ان کو دربدری تقریر میں دی گئی اور اسی بوجھ کو اپنے کا ندھوں پر لادتے لادتے کمریں خمیدہ ،چہروں پر تاسف ،مستقبل مایوس اور حال کو برباد دیکھ کر یہ اشخاص بار بار اپنی نازک نگاہیں خاموشی سے آسمان کی طرف اٹھا کر یوں گویاں ہوتے ہیں : ؎
وقت کس تیزی سے گزرا روز مرہ میں منیر ؔ
آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے (منیر نیازی ؔ)
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبرو ئے شوق 
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر (بسمل عظیم آبادی )
(مضمون نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)