سفری اجازت نامہ ملا، لیکن رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت نہ ملی

 مینڈھر//پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے بذریعہ پرمٹ آئے ہوئے ایک نوجوان کو فوج نے اپنے رشتہ داروں کے گھر جانے سے روک لیا ۔21سالہ کامران آفتاب ولد محمد آفتاب ساکن بانڈی کھوئی رٹہ تحصیل و ضلع کوٹلی پرمٹ زیر نمبر P-75168کے ذریعہ چکاں دا باغ پونچھ سے 28تاریخ کوبالاکوٹ کے علاقہ بھروتی میں اپنے چچا محمد معروف ولد فقیر دین ساکن گلہوتہ بھروتی بالاکوٹ سے ملاقات کو آیاجہاں اس کی دادی بھی رہتی ہے تاہم اس کو فوج نے اپنے رشتہ داروں کے گھر جانے سے روک دیا اور وہ اس وقت در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔یہ نوجوان اس وقت بریانی گلی کے پاس ایک رشتہ دار کے گھر قیام کررہاہے ۔کامران نے بتایا کہ جب وہ پونچھ سے بالاکوٹ بریانی گلی پہنچا تو فوج نے اسے اپنے رشتہ داروں کے گھر جانے سے منع کردیا۔اس دوران اس کے رشتہ دار بھی وہاں پہنچ گئے اور اسے راستے سے ہی واپس لایاگیا۔بعد میں نوجوان کے رشتہ داروں نے پولیس اور ڈپٹی کمشنر پونچھ سے رجوع کیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوج کے ساتھ بات چیت کرکے مکتوب بھی لکھالیکن اس کے باوجودفوج نے نہیں مانا اور نوجوان کو اس کے رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے ان کے گھرجانے کی اجازت دینے سے انکار کردیاگیا ۔کامران کاکہناہے کہ وہ اس وقت اپنے کسی دوسرے رشتہ دار کے گھررہ رہاہے لیکن وہ گلہوتہ بھروتی جاناچاہتاہے جہاں اس کے چچا اور دادی رہتے ہیں ۔اس نے بتایاکہ وہ ہندوستانی حکومت کی اجازت سے یہاں آیاہے اور اس سلسلے میں سارے قانونی لوازمات بھی پورے کئے گئے ہیں لیکن اسے اس بات پر حیرانگی ہے کہ پھر بھی رشتہ داروں سے ملنے نہیں دیاجارہا۔ کامران نے حکام سے اپیل کی کہ اسے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی جائے ۔بالاکوٹ کے مقامی شہریوں ظہیر خان اور سرپنچ عارف خان کااس حوالے سے کہناہے کہ گورنر انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ فوری طورمداخلت کرکے کامران کو اپنے چچا اوردادی سے ملنے کی اجازت دے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ لگاتار تین دن سے ہر ایک افسر کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن فوج اسے ملنے کی اجازت نہیں دے رہی لہٰذا فوری طور پر گورنر انتظامیہ اس معاملے میں مداخلت کرے ۔رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے بتایاکہ یہ معاملہ آرمی حکام کے ساتھ اٹھایاگیاہے ۔ان کاکہناتھا’’میں نے مکتوب بھی لکھاہے اور مسلسل فوج کے ساتھ رابطے میں ہوں، فوج کچھ سیکورٹی خدشات ظاہر کررہی ہے اور ہم اس معاملے کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش میں کررہے ہیں‘‘۔ڈپٹی کمشنر کاکہناتھاکہ وہ اب انتظامیہ کے نمائندگان کو اس لڑکے کے ساتھ اس کے رشتہ داروں کے گائوں بھیجنے کا سوچ رہے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بالاکوٹ کا بھروتی گائوں حد متارکہ پر واقع ہے ۔