سفارشات کے خلاف عذرات پیش کرنے کے لئے ہمیں دس دنوں کا وقت دیا گیا: جسٹس(ر) حسنین مسعودی

جموں//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان جسٹس(ر) حسنین مسعودی کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر حد بندی کمیشن نے ہمیں سفارشات کے خلاف اپنےعذرات پیش کرنے کے لئے دس دنوں کا وقت دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کرکے تمام اعتراضات، اپنے موقف اور دستاویزات کو جمع کرکے کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔
موصوف رکن پارلیمان نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں پی اے جی ڈی کی میٹنگ کے بعد منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا: ’ہم نے ان سفارشات کے خلاف اعتراض کیا اور کہا کہ یہ آئین کے مطابق نہیں ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں میٹنگ میں بتایا گیا کہ سفارشات کو سال2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے لیکن ہم نے کہا وہ مردم شماری کسی اور چیز کا تقاضا کر رہی ہے‘۔
موصوف نے کہا کہ جب ہم نے سختی سے اعتراض کیا تو کمیشن نے ہمیں اپنا موقف اور عذرات پیش کرنے کے لئے دس دنوں کا وقت دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کریں گے اور اعتراضات، اعداد و شمار اور دستاویزات جمع کرکے کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔
بتادیں کہ حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کے مطابق جموں و کشمیر کی نئی اسمبلی نشستوں میں چھ سیٹیں جموں کو جبکہ کشمیر کو ایک سیٹ دی گئی ہے اور جموں وکشمیر کی 90 اسمبلی نشستوں میں سے اب 9 نشستیں شیڈول ٹرائب اور7 نشستوں کو شیڈول کاسٹ کے لئے مختص رکھی گئی ہیں۔
کمیشن کی پیر کو دلی میں منعقدہ میٹنگ میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور رکن پارلیمان حسنین مسعودی نے بھی شرکت کی تھی۔