سعودی ۔لبنان تعلقات کشیدگی کا شکار

کس طرح ایک بے ضرر تبصرہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ کرسکتا ہے، اس کی مثال سعودی عرب اور لبنان کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی کا شکار ہونے والے تعلقات سے ظاہر ہوسکتاہے۔ اور نہ صرف سعودی عرب بلکہ اس کا اثر دیگر ملکوں جیسے کہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کے ساتھ لبنان کے باہمی تعلقات پر بھی رونما ہوا ہے۔
دراصل لبنان کے موجودہ انفارمیشن منسٹر جارج کورداہی نے لبنان کی نئی حکومت میں اپنی وزارت کا عہدہ سنبھالنے سے ایک مہینے پہلے ریکارڈ کیے گئے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ یمن میں جاری جنگ بے مقصد ہے اور وہاں کے حوتی باشندوں نے کسی کے کہنے پر کوئی حملہ نہیں کیا ہے اور ان کی حکومت ایک قانونی طور پر قائم حکومت ہے۔ یہ پروگرام پچھلے ہفتے لبنانی ٹی وی پر نشر کیا گیا اور اس کے بعد سعودی عرب کے علاوہ یو اے ای،کویت اور بحرین نے بھی بیروت سے اپنے سفیر واپس بلالیے اور لبنانی سفیر کو اپنے ملک جانے کے لیے ہدایت دی۔
ان ملکوں کی جانب سے لیے گئے اقدامات سعودی عرب کی رہنمائی میں لیے گئے تھے اور گزشتہ کئی برسوں سے لبنان میں جاری سیاسی، معاشی اور سماجی ابتری کی کہانی میں ایک نئے باب کے اضافے کی مانند ہے۔ سعودی عرب نے لبنان میں مقیم اپنے شہریوں کو واپس سعودی عرب لوٹنے کے احکامات جاری کردیے ہیں ساتھ ہی اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب لبنان سے کوئی بھی اشیاء درآمد نہیں کرے گا اور نہ ہی لبنان کی معاشی مدد کرے گا۔
درآمدات کے اوپر سعودیہ کے اس بیان سے لبنان کو لاکھوں ڈالر کا خسارہ ہونے کے امکانات ہیں اور اس کے علاوہ اپنی بدتر ہوتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اسے جس چیز کی سب سے سخت ضرورت ہے یعنی کہ امریکی ڈالر اب ان کا لبنان آنا بھی کم ہوجائے گا، کیونکہ سعودی عرب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ اب لبنان کی کسی طرح بھی کوئی معاشی امداد نہیں کرے گا۔
لبنان- سعودی معاشی تعلقات :  
دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات میں تقویت جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد آئی تھی، جب دونوں ملکوں نے بحیثیت ایک آزاد مملکت اپنے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، اور سن 1958-59میں جب دونوں ملکوں کے سربراہان نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد کے عرصے میں سعودی عرب متواتر لبنان کا حلیف اتحادی ملک بن کر لبنان کے ساتھ شامل رہا، کیونکہ خطے میں اسرائیل کی جارحیت سے بھرپور توسیع پسندانہ منصوبوں کے خلاف لبنان ایک کلیدی مقام رکھتا تھا اور اس اسرائیلی جارحیت کو مؤثر طریقے سے روک سکتا تھا۔سعودی -لبنان تعلقات میں قربت کی ایک وجہ لبنان کی جغرافیائی پوزیشن بھی کیوںکہ وہ اسرائیل کا ہم سایہ ملک ہے اور لبنان کے ذریعے سعودی عرب اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور اس کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو چیلنج کرنے کے لیے کلیدی رول ادا کرسکتا ہے۔ 
سن 1975 سے 1990تک لبنان میں ہونے والی خانہ جنگی سعودی عرب کی سفارتی اور سیاسی مداخلت کے بعد طائف معاہدے کے عمل میںآنے کے بعد ختم ہوئی۔ اس کے بعد سعودی عرب نے لبنان کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کی مدد لبنان کو مہیا کرائی۔
2001 اور 2002 میں سعودی عرب نے لبنان کو سات کروڑ ڈالر ،پیرس کی دوسری کانفرنس کے دوران مہیا کرانے کا اعلان کیا۔ 1990 سے 2004کے دوران غیر ملکوں میں مقیم لبنانی باشندے ہر سال اپنے ملک کی GDPکا تقریباً 10-15% پیسہ لبنان روانہ کرتے ہیں۔ 2006کی لبنان جنگ کے بعد سعودی عرب اور کویت نے 1.5 ارب ڈالر لبنان کے مرکزی بینک میں لبنانی پاؤنڈ کو مستحکم کرنے کے لیے جمع کرائے، اگلے سال یعنی 2007میں سعودی عرب نے مزید ایک ارب ڈالر لبنان کو بطور امداد مہیا کرائے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات نے 2003 سے 2015کے درمیان لبنان میں بنیادی سہولیات مہیا کرانے کے لیے ہر سال اس کےFDIبجٹ کا 76%لبنان کو مہیا کرایا۔
لبنان صرف خلیجی ملکوں کو ہی اپنے یہاں پیدا ہونے والی سبزیوں اور پھلوں کا 55فیصد برآمد کرتا ہے، جس کی تجارتی قیمت 20 سے34کروڑ ڈالر سالانہ کی ہوتی ہے۔ اپریل 2021میں سعودی عرب نے لبنان سے درآمد کی جانے والی سبزیوں اور پھلوں پر روک لگا دی تھی، کیونکہ اس کا الزام تھا کہ لبنان سے آنے والے اناروں میں 53 لاکھ منشیاتی کیپسول سعودی عرب بھیجے جارہے تھے۔ 
لبنان کا سیاسی اور معاشی نظام :  
ایک آزاد ملک کے طور پر لبنان کا قیام 23نومبر 1943کو عمل میں آیا، جب اسے فرانسیسی حکومت کی جانب سے آزاد کیا گیا۔ لبنان کی آبادی مسلمانوں اور عیسائیوں کی تقریباً برابر آبادی پر مشتمل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں لبنان وہ واحد ملک ہے جہاں پر عیسائیوں کی آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے چھوٹے چھوٹے نسلی گروپ بھی لبنان میں آباد ہیں جیسے کہ عرب، آرمینیائی، درض وغیرہ۔ لبنان کے ایک  کثیر ثقافتی ملک ہونے کی بنیاد پر ملک کا سیاسی نظام بھی اس سے اثر انداز ہوا ہے، جس کے مطابق ملک کا صدر مرمونایٹ عیسائی، وزیر اعظم سنی مسلم اور پارلیمان کا اسپیکر شیعہ مسلم ہونا چاہیے تاکہ ملک کے ہر طبقے کی نمائندگی پارلیمان اور انتظامیہ میں برابری سے ہوسکے۔
لبنان کی معیشت میں زراعت، بینکنگ اور سیاحت کا ایک نمایاں رول رہا ہے۔ تاہم 1943کے بعد واقع ہونے والی مختلف جنگوں اور خانہ جنگی نے لبنانی معیشت پر کافی گہرا منفی اثر ڈالا ہے۔ گزشتہ سال بیروت بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے نے بھی اس معاشی بحران میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مجموعی طور پر لبنانی کاروباری اور بینکنگ، معیشت کے ایک بڑی حصے پرحاوی ہیں اور ان کا شمار ملک کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے اور مزید یہ کہ ان میں سے اکثر سیاست داں بھی ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2013کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان کی 15فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے رہتی ہے اور صرف ایک فیصد آبادی ملک کی قومی دولت کے 25فیصد پر قابض ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود عالمی معاشی بازاروں میں لبنانی بینکوں کی ساکھ ابھی بھی بہت اونچی ہے۔
موجودہ حالات  :  
دراصل سعودی عرب اور لبنان کے تعلقات انتہائی قریبی ہونے کے باوجود اس لیے کشیدگی کا شکار ہوئے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت کا ماننا ہے کہ موجودہ لبنانی حکومت میں انفارمیشن منسٹر جارج کورداہی نے یمن میں جاری جنگ کے سلسلے میں جو بیان دیا ہے وہ سعودی مخالف ہے اور موجودہ لبنانی حکومت یمن کے حوتی باغیوں کی حمایت میں ہے۔ اس موجودہ کشیدگی کا پس منظر سعودی عرب کی جانب سے لبنان انتظامیہ میں ایران حامیوں کی حزب اللہ تحریک رہی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ مئی میں بھی اسی طرح کی صورت حال قائم ہوگئی تھی جب اس وقت کی عبوری حکومت میں وزیر شارمل وہبے نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے قیام میں سعودی عرب اور اس کے وفادار خلیجی ملکوں نے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد وزیر اعظم نجیب میکاتی نے سعودی خفگی کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور کہا ہے کورداہی کا بیان حکومت کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتا ہے، لیکن سعودی عرب کسی بھی عذر کو سننے کے لیے تیار نظر نہیں آتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت بھی حزب اللہ اور درحقیقت ایران کے بہت زیادہ زیر اثر آچکی ہے، اس لیے اس سے بات کرنا بے معنی ہے۔
خطے کے زیادہ تر مبصرین کی رائے ہے کہ سعودی عرب کا یہ ردِ عمل لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر اس کی مایوسی اور غصے کا مظہر ہے۔ سعودی حکومت کسی بھی طریقے سے اس اثر کو کم کرنا چاہتی ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ وہ یہ کام کیسے کرے۔ تاریخی طور پر سعودی حکومت ہمیشہ سے لبنان کے سنی مسلم سیاسی رہنماؤں کی حمایت کرتی چلی آئی ہے، کیونکہ وہاں سنی مسلمان ہی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوسکتا ہے، لیکن وہ ان تعلقات کو سیاسی اور زمینی سطح پر کس بھی مؤثر اور طاقتور گروپ کے طور پر آگے لانے میں ناکا م رہی جیسا کہ شیعہ حزب اللہ نے کردکھایا ہے۔اگر ہم حقیقت کا ایک طائرانہ تجزیہ کریں تو اس سے ظاہر ہوگا کہ حزب اللہ نے اپنے حامی مختلف سیاسی و سماجی گروپوں کو لبنان کی گزشتہ دو سال میں بدتر ہوتی ہوئی صورتحال میں زمینی سطح پر کام کرنے کے لیے منظم کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق لبنان کے ایک بڑے حصے میں حزب اللہ حامی گروپوں نے عوام تک کھانے، صاف پانی اور دیگر ضروریات کی چیزیں مہیا کرائی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پیٹرول راشنگ میں بھی اس نے ایک مؤثر کردار ادا کیا جس سے کہ عوام کی دقتوں کو کم کیا جاسکے۔ اب اگر سعودی حکومت لبنانی عوام کے درمیان اپنے اثر ورسوخ کو بڑھانا چاہتی تھی تو وہ بھی اس طرح کی امدادی کارروائیوں میں شامل ہوسکتی تھی۔لیکن اس نے اس کے بجائے صرف سیاسی حمایت پر ہی اپنا پورا زور لگادیاجو کہ زمینی سطح پر اس کے اثرورسوخ کو کسی بھی طرح قائم کرنے یا آگے بڑھانے میںکام نہیں آسکتا تھا۔ اسی بنیاد پر مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید مارچ 2022میں ہونے والے انتخابات میں لبنانی سنی مسلم عوام بھی حزب اللہ کے حق میں ووٹ ڈالیں اور اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ ایک نئی پیش رفت ہوگی، جس میں مذہب کا کوئی بھی عنصر شامل نہیں ہوگا۔
خاص طور سے 2005میں آنجہانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد سعودیہ نے لبنان میں اپنے سب سے اہم اور طاقتور حلیف کو کھودیااور اس کے بعد سے وہ لگاتار اپنے اثر کو کم ہوتے ہوئے محسوس کررہا ہے۔ موجودہ سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سعودی نے چند ایک جارحانہ فیصلے لیے لیکن ان کا بھی باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے  کوئی مثبت اثر نہیں ہوا۔ سعودی کا سب سے جارحانہ قدم 2017میں اس وقت سامنے آیا جب اس نے مبینہ طور پر اس وقت کے وزیر اعظم سعادحریری کو اغوا کرکے ان سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے کہا۔ یہ واقعہ سعودیہ کے خلاف گیا کیونکہ سعاد نے سعودی قید کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ تو دے دیا لیکن بیروت واپس پہنچتے ہی انھوںنے حزب اللہ کی حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا جو کہ سعودی کے لیے ایک بہت بڑی ہار یا سبکی تھی۔ حالیہ عرصے میں بھی سعودی نے موجودہ وزیر اعظم میکاتی کو ان کے حزب اللہ سے قریبی تعلقات اوراس کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس عہدے پر فائز ہونے کے راستے میں اڑچنیں ڈالی تھیں لیکن واشنگٹن اور پیرس کی جانب سے میکاتی کی حمایت کی وجہ سے اسے آخر میں خاموشی اختیار کرنا پڑی۔
اس پورے واقعے میں حزب اللہ نے کورداہی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے استعفیٰ سے لبنان کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوجائے گی۔ تاہم مجموعی طور پر ایسا امکان ہے کہ لبنان کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کرکے شاید سعودیہ نے وہاں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی آخری کوشش کی ہے۔ کیونکہ حقیقتاً سعودیہ بھی یہ نہیں چاہیے گا کہ موجودہ لبنانی حکومت کو اقتدار سے محروم ہونا پڑے، کیونکہ ایسا ہونے سے وہ اپنے مغربی حلیف ملکوں کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہے گا۔ اور اس کے علاوہ یہ قدم پرنس ایم بی ایس کی جانب سے جلدی میں لیا گیا ایک قدم لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے جذباتی اور غیر دانشمندانہ فیصلے لینے کے لیے مشہور ہیں۔ جیسا کہ انھوںنے سعاد حریری والے معالے میں کیا تھا۔ امکان ہے کہ شاید وہ ان پابندیوں سے دوسرے ملکوں اور خاص طور سے سعودیہ میں مقیم لبنانی باشندوں پر لبنان پیسہ بھیجنے کے سلسلے میں کچھ نرمی کریں اور کسی بھی دوسری طرح کی پہل کو مغربی ملکوں کی مداخلت کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو امکان یہی ہے کہ لبنان معاشی طور پر بالکل ختم ہوجائے گا۔ یہاں پر ایک دوسری بات جو فی الحال مبصرین کی سمجھ سے باہر ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس موجودہ کشیدگی میں کسی ایسی حکومت کی حمایت کیسے کررہے ہیںجس کو کہ صاف طور پر حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے۔ کیا اس کا اثر مغربی ملکوں اور ایران کے تعلقات پر بھی ہوسکتا ہے؟ لیکن دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیروت بندرگاہ کے دھماکے میں حزب اللہ کے شریک ہونے کے شواہد ملے ہیں اور جب اس کی تفتیش پوری ہوجائے گی تو ہوسکتا ہے اس وقت مغربی ملک، ایران اور حزب اللہ دونوں کی ہی گھیرنے کی کوشش کریں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com